طالبان پاکستان اور امریکہ دونوں کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے، جان کیری

طالبان پاکستان اور امریکہ دونوں کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے، جان کیری

 واشنگٹن(اظہرزمان،بیوروچیف)طالبان سمیت دہشت گرد گروہوں کے خلاف پاکستانی حکومت کی جدوجہد کو امریکی حمایت حاصل ہے کیونکہ یہ گروہ دونوں ملکوں کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔پاکستانی عوام کے ساتھ دیرینہ تعلقات کے اعتراف کے طورپر امریکہ پاکستان میں توانائی، صحت اورتعلیم سمیت تمام ترقیاتی شعبوں کو فروغ دینے کے لئے امداد فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کے بارے میں یہ تبصرہ امریکی وزیر خارجہ نے کانگریس کی کمیٹیوں کے سامنے منگل اور بدھ کو چار مرتبہ پیشی کے دوران اپنے ایک جیسے بیانوں میں چار مرتبہ دہرایا۔امریکی روایت کے مطابق اوبامہ انتظامیہ نے فروری کے پہلے ہفتے میں اکتوبر2016ء سے شروع ہونے والے مالی سال کے لئے بجٹ تجاویز پیش کیں جس میں کانگریس تبدیلی بھی کر سکتی ہے۔ اس بجٹ میں امریکی حکومت نے افغانستان اورپاکستان کے لئے تین ارب چالیس لاکھ ڈالر کی امداد تجویز کی تھی جس میں پاکستان کا حصہ ایک ارب ڈالر ہوگا۔روزنامہ ’’پاکستان‘‘ نے اس موقع پر اتنی ہی اہم رپورٹ کی تھی جس کو امریکی وزیر خارجہ نے کانگریس کمیٹیوں کے سامنے پیشی کے دوران دہرا کر اس رپورٹنگ کی تصدیق کر دی کیونکہ اس وقت دیگر اخبارات نے یہ رقم تقریباً 85لاکھ ڈالر رپورٹ کی تھی۔امریکی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں یہ بھی بتایا کہ 16دسمبرکوپاکستان میں فوجیوں کے ایک سکول پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس میں 132بچے شہید ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد گزشتہ مہینے وہ پاکستان کے ساتھ سالانہ سٹریٹجک ڈائیلاگ میں شرکت کے لئے اسلام آباد میں پاکستانی قیادت سے ملے تھے جو پر تشدد انتہا پسند گروہوں کا تعاقب کرکے انہیں شکست دینے کے لئے بہت پرجوش طریقے سے سرگرم تھی۔چاروں پیشوں میں امریکی وزیرخارجہ کا تیار کردہ بیان تقریباً ایک جیسا ہی تھا تاہم چاروں مواقع پر مختلف نوعیت کے سوال و جواب ہوئے ۔جان کیری نے منگل کو قتل از دوپہر سینیٹ کی خارجہ امور پر بجٹ مختص کرنے والی کمیٹی اور سہ پہرمیں سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی اور بدھ کے روز ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی سے قبل دو پہر اور اسی ایوان کی بجٹ مختص کرنے والی کمیٹی سے سہ پہرمیں خطاب کیا۔ اس پیشی کے دوران انہوں نے کیپٹل بل پر دونوں ایوانوں کی چاروں کمیٹیوں کے سامنے امریکی حکومت کی ان کوششوں کا عمومی جائزہ پیش کیا جو وہ خارجہ تعلقات کے شعبے میں کر رہی ہے۔ جن موضوعات پر انہوں نے زیادہ زور دیا یا جن کے بارے میں زیادہ سوال پوچھے گئے ان میں یوکرائن کی صورت حال، شام اور عراق میں داعش کے خلاف اقدامات مشرق وسطیٰ کی صورت حال اورایران کا ایٹمی پروگرام شامل تھا۔امریکی وزیر خارجہ نے بڑے فخر سے کانگریس کو بتایا کہ انتظامیہ کل بجٹ کا صرف ایک فیصد حصہ خارجہ معاملات،سفارت خانوں اور بیرونی امداد پر خرچ کر رہی ہے جو دنیا کو پر امن اورمحفوظ بنانے میں اہم کردارادا کر رہی ہے۔عراق کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عراق سے انخلاء کے بعد وہاں داعش کی صورت میں جو خطرناک دہشت گرد گروہ اٹھ کھڑا ہوا اس کا سد باب کرنے کے لئے ہم نے کامیاب حکمت عملی اختیار کی ۔ ہم نے دوبارہ فوجی مداخلت سے پرہیز کرتے ہوئے وہاں مستحکم نمائندہ حکومت کے قیام میں مدد کی اور عراق کی سکیورٹی فورسز کو تربیت اور ضروری ساز و سامان فراہم کیا۔موثر خارجہ پالیسی کے باعث داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے ساٹھ سے زائد ممالک کا اتحاد قائم کیا جن میں ہمسایہ عرب ممالک میں شامل ہیں۔ یہ اتحادی داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے میں امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔اگر اس مرحلے پر امریکہ داعش کے خلاف عراق کی مدد کو نہ آتا تو ایک اندازے کے مطابق داعش اس خطے میں دس لاکھ لوگوں کو ہلاک کر سکتے تھے۔امریکی وزیرخارجہ ایک روزقبل جینوا میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات میں شرکت کرکے واپس واشنگٹن آئے تھے۔ انہوں نے تازہ ترین صورت حال سے کانگریس کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ انتظامیہ کی مصالحتی کوششوں کوکانگریس میں متنازعہ بنا دیا گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ سمیت باقی عالمی طاقتیں ایران کے ایٹم بم بنانے کے پروگرام کو روکنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔پہلی مرتبہ ان طاقتوں کو ایران کے ایٹمی پروگرام کی وہ تفصیلات جانچنے کا موقع ملا ہے جن تک پہلے ان کی یا اقوام متحدہ کی رسائی نہیں تھی۔ جان کیری کا کہنا تھا کہ انہیں ایرانی صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ ظریف کی سمجھوتے پر مذاکرات کے سلسلے میں سنجیدگی اور نیک نیتی پر کوئی شبہ نہیں ہے۔اس لئے انہیں یقین ہے کہ کوئی قابل عمل سمجھوتہ طے پا جائے گا۔اسی لئے انتظامیہ نے کانگریس سے درخواست کی تھی کہ وہ ایران پر اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے نرمی اختیار کرے کیونکہ سخت پابندیوں مذاکرات پر برا اثر ڈال سکتی ہیں۔ جان کیری نے مزید بتایا کہ ہماری وسطی اور جنوبی ایشیاء میں پر تشددانتہا پسندی کے خلاف جدوجہد جاری ہے۔ اس سال افغانستان اپنی سکیورٹی فورسزکی مکمل ذمہ داری سنبھال رہا ہے جس کی بناء پر وہاں امریکی فوج کی موجودگی میں نمایاں کمی کرنا ممکن ہوا ہے۔ تاہم اس عرصے میں ہم کابل کی حکومت کو سکیورٹی کے معاملات اور ان کی سکیورٹی فورسز کے سلسلے میں مشورے دیتے رہیں گے۔ ہم نے افغانستان میں صحت،تعلیم اور انفراسٹرکچرکی تعمیرکے لئے ڈیڑھ ارب ڈالر کامطالبہ کیا ہے۔ امریکی کوششوں سے اب افغانستان میں ایک نئے طرز کی حکمرانی ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ امریکہ بھارت کے ساتھ سربراہی دورے کے ذریعے تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے۔ ہم نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ساتھ اقتصادی امور،سکیورٹی تعاون،سائنس اورصاف توانائی کے معاملات میں بہت پیش رفت کی ہے۔

مزید : صفحہ اول