پرویز رشید اور ظفر الحق کے کاغذات نامزدگی کیخلاف بھی اعتراضات سامنے آگئے

پرویز رشید اور ظفر الحق کے کاغذات نامزدگی کیخلاف بھی اعتراضات سامنے آگئے

 لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) سینٹ الیکشن میں حکمران جماعت کے دو اہم سینٹروں وفاقی وزیر پرویز رشید اور سینیٹر راجہ ظفر الحق کے کاغذات نامزدگی منظور کئے جانے کے خلاف اعتراضات پر مبنی اپیلیں سامنے آگئیں۔پرویز رشید اور راجہ ظفر الحق کے خلاف بیرسٹر شاہد پرویز جامی نے ٹیکس نادہندگی اور حقائق چھپانے کے الزامات عائد کئے ہیں۔الیکشن کمیشن کل سماعت کریگا۔معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن کل ایسے 8امیدواروں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کریگا۔ جن کے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسروں نے تو منظور کرلیے ہیں۔ لیکن ان کے خلاف اعتراضات کی صورت میں اپیلیں دائر کی گئی ہیں۔ایسے امیدواروں میں وفاقی وزیرپرویز رشید، اور سینیٹرراجہ ظفر الحق کے علاوہ عبدالرحمن ملک،راحیلہ مگسی، عبدالرازق ،وقار احمد خان، عمار احمد خان اور پروفیسر ساجد میرکے نام شامل ہیں۔ان میں وقار احمد خان اور عمار احمد خان کے خلاف ایک سے زائد اپیل کنندہ سامنے آئے ہیں۔وفاقی وزیر پرویز رشید اور راجہ ظفر الحق کے خلاف بیرسٹر شاہد پرویز جامی نے اپیلیں دائر کی ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید پر اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ انہوں نے30جون 2014تک کی جو ٹیکس ریٹرن بطور امیدوار الیکشن ریٹرننگ افسر کو جمع کروائی ہے۔ اور جو ریٹرن ایف بی آر کو جمع کروائی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ٹیکس ریٹر ن کے مطابق 30جون 2014تک ان کے تین بینک اکاونٹس میں مجموعی طورپر 13لاکھ 44ہزار روپے تھے۔ جبکہ ریٹرننگ افسر کو جمع کروائی جانے والی تفصیلات کے مطابق 30جون 2014تک ان کے تین بینک اکاونٹس میں 2لاکھ 34ہزار روپے تھے۔اسی طرح انہوں نے اپنی ملکیت میں کسی قسم کے فرنیچر اور فکسچر سے انکار کیا ہے۔کہ ان کے گھر میں کسی قسم کا کوئی فرنیچر یا فکسچر نہیں ہے۔وہ 1997سے 1999تک چیئرمین پی ٹی وی رہے لیکن انہوں نے سابقہ ملازمت کے کالم میں اس کا ذکر نہ کیا ۔ نہ ہی 1997سے قبل اور 1999کے بعد ملازمت اور جلاوطنی کا ذکر کیا۔انہوں نے این ٹی این نمبر کی سرٹیفائیڈ کاپی بھی فراہم نہ کی۔انہیں 2012میں این ٹی این نمبر جاری کیا گیا۔ جبکہ وہ 2009سے سینیٹر ہیں۔اور اس سے بھی قبل وہ چیئرمین پی ٹی وی رہ چکے ہیں۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے حقائق چھپائے اور ٹیکس ادا نہ کیا۔ اسی طرح سینیٹر وزیر راجہ ظفر الحق کے خلاف اعتراض اٹھائے گئے ہیں کہ وہ ٹیکنو کریٹ کی نشست کے لیے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ لیکن ٹیکنو کریٹ کی تعریف پر پورا نہیں اترتے ۔وہ مسلم لیگ ن کی طر ف سے جنرل نشست پر سینیٹر ہیں۔ لیکن آئندہ کے لیے ٹیکنوکریٹ کی نشست پر سینٹ میں آنا چاہتے ہیں۔ جو کہ تضاد ہے۔اسی طرح انہوں نے ایف بی آر کے روبرو جمع کروائے جانے والے گوشوارے میں انکم سپورٹ لیوی NILLبیان کی ہے۔اور اپنے اثاثوں کی قیمت 17لاکھ 99ہزار روپے بتائی ہے۔ جس پر انہیں 3ہزار 9سو روپے ٹیکس ادا کرنا چاہیے تھا۔پھر اعتراض تھا کہ زرعی انکم ٹیکس ایکٹ 1997کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی 29کروڑ ورپے مالیت کی زرعی اراضی پر 22سو 50روپے فی ایکڑ کے تناسب سے ٹیکس ادا کیا حالانکہ انہیں یہ ٹیکس فی ایکڑ کی بجائے آمدن کی بنیاد پر ادا کرنا چاہیے تھا۔اسی طرح انہوں نے اپنی چھ منقولہ جائیدادوں کی تفصیلات اور قیمت نہیں بتائی ۔1996میں انہوں نے این ٹی این نمبر حاصل کیا۔جبکہ وہ 1978سے بطور وکیل رجسٹرڈ ہیں۔اور اس سے قبل وہ سپریم کور ٹ کے وکیل ، 1981سے 1985تک وفاقی وزیر ، 1985سے 1986تک مصر میں پاکستان سفیر اور 1986سے 1987تک وزیر اعظم کے مشیر اور 1991سے 1997تک سینیٹر رہ چکے تھے۔لیکن اس عرصے کے دوران انہوں نے کبھی ٹیکس ادا نہ کیا۔بیرسٹر شاہد پرویز جامی نے استدعا کی کہ ان اعتراضات کی روشنی میں وفاقی وزیر سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر راجہ ظفر الحق کو آئین کے آرٹیکل 62(1)(e)اور آرٹیکل 62(1)(f)کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔

مزید : صفحہ اول