ای ٹی او ننکانہ ثوبیہ اور اے ای ٹی اومحسن نذیر کے ایک دوسرے کیخلاف سنگین الزامات

ای ٹی او ننکانہ ثوبیہ اور اے ای ٹی اومحسن نذیر کے ایک دوسرے کیخلاف سنگین ...

 لاہور(انوسٹی گیشن سیل) ایکسائز اینڈٹیکسیشن کے دوافسروں کے مابین باہمی چپقلش میں شدت آگئی۔ای ٹی او ننکانہ صاحب ثوبیہ مالک اور اے ای ٹی او محسن نذیر کے ایک دوسرے کے خلاف سنگین الزامات۔ معاملہ محکمے کے ڈی جی و سیکرٹری کے بعد پولیس و اینٹی کرپشن کے پاس اور پھر عدالت جا پہنچا۔ ثوبیہ مالک نے محسن نذیر پر چوری کرنے اور دھمکیاں دینے کر الزام عائد کیا ہے تو محسن نذیر نے بھی ثوبیہ مالک پر ذہنی صحت درست نہ ہونے ، اقدام قتل ،چوری کرنے اور دھمکیاں دینے کا الزام عائد کر رکھا ہے۔معلوم ہواہے کہ ان دنوں ڈائریکٹوریٹ ایکسائز اینڈٹیکسیشن لاہور ریجن سی کے ماتحت ای ٹی او ننکانہ صاحب ثوبیہ مالک اور اے ای ٹی او ننکانہ صاحب محسن نذیر کے مابین چپقلش عروج پر ہے۔محسن نذیر کے مطابق انہوں نے محکمے کے ڈی جی و سیکرٹری کے علاوہ مقامی عدالت اورمقامی پولیس کو اندراج مقدمہ کی درخواستیں دے رکھی ہیں۔ جن میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ ای ٹی او ثوبیہ مالک نے 17جنوری کو جونئیر کلرک طارق نوشابر کے ذریعے بذریعہ ٹیلی فون کال کر کے دفتر طلب کیا۔جہاں انہوں نے طارق نوشابر جو کہ کرسچن ہے۔اورڈی سی او ننکانہ صاحب نے اسے مذہبی منافر ت پھیلانے کے الزام میں شہر بدر کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں اور دونامعلوم افراد کے ہمراہ گالیاں دیں۔گریبا ن پکڑا اور قتل کرنا چاہتے تھے کہ دوافراد کی آمد پر اسے چھوڑ کر بھاگ گئے ۔اور اس سے قبل انہوں نے اس کی الماری سے سامان اور ریکارڈ بھی چھین لیا۔اور بعدازاں اس کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست دیدی ۔محسن نذیر نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنی درخواست میں مزید بیان کیا ہے کہ ای ٹی او ثوبیہ مالک محکمے کے ہر افسر سے جھگڑا کرتی ہیں۔ محکمے کے ڈائریکٹر احمد سعید اور تنویر عباس گوندل گواہ ہیں۔ اسی طرح ننکانہ صاحب ٹرانسفر ہونے پر انہوں نے تمام سٹاف کو سرکاری کام چھوڑ کر اپنے لیے گھر تلاش کرنے پر مامور کردیا۔اور گاڑی بھی ٹھیک کروائی ۔اور جونئیر کلر ک طارق نوشابر کو خاص طورپر اس کے ماتحت تعینات کیا۔محسن نذیر نے اپنی درخواست میں استدعا کی کہ ثوبیہ مالک کی ذہنی صحت درست نہیں ہے۔ ان کامیڈیکل چیک اپ کروایا جائے اور ان کی فیلڈ پوسٹنگ ختم کی جائے ۔ دوسری طرف ای ٹی او ننکانہ صاحب ثوبیہ مالک کی موقف پر مبنی درخواست سامنے آئی ہے ۔جو ثوبیہ مالک کی طرف سے ڈی پی او ننکانہ صاحب متعلقہ ایس ایچ او ، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور ریجن اور سرکل افسر اینٹی کرپشن کو لکھی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ19جنوری کو اے ای ٹی او محسن نذیر نے دفتر کی الماری کا تالہ توڑ ااور ایک ٹرنک کے علاوہ لکڑی کی ایک چھوٹی الماری چوری کرلی۔جس پر انہوں نے متذکرہ بالا کو باربار درخواستیں دیں۔ لیکن مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ اور محسن نذیر انہیں دھکیاں بھی دیتا ہے۔ ثوبیہ مالک نے اندراج مقدمہ کے لیے مقامی عدالت سے بھی رجوع کیا۔بعد ازاں یہ معاملہ ڈائریکٹر ریجن سی کے روبرو آیا ۔اور مذکورہ ڈائریکٹر کی ٹیلی فونک تجویز پر ڈی جی ایکسائز اینڈٹیکسیشن پنجاب نے محسن نذیر کو ننکانہ صاحب سے ٹرانسفر کردیا۔اس پر محسن نذیر نے عدالت سے رجوع کیا۔جہاں لاہور ھائی کورٹ کے مسٹر جسٹس فیصل زمان خان نے سیکرٹری ایکسائز اینڈٹیکسیشن کو معاملہ قانون کے مطابق نمٹانے کی ہدایات جاری کیں۔ اور صوبائی سیکرٹری نے 20فروری کو اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ تمام حالات وواقعات بیانات اور شواہد کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈی جی ایکسائز اینڈٹیکسیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا جانا مناسب ہے۔اس پر محسن نذیر نے ایکبار پھر سے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ اس کا موقف ہے کہ عدالت عالیہ نے سیکرٹری ایکسائز اینڈٹیکسیشن کو فریقین کو ذاتی طورپر سننے کی ہدایات جاری کی تھیں ۔ لیکن صوبائی سیکرٹری نے انہیں ذاتی شنوائی کا موقع ہی نہیں دیا اور فیصلہ سنا دیا ہے۔جو کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہے۔محسن نذیر نے الزام عائد کیا ہے کہ ننکانہ صاحب میں جعلی شراب کی فروخت اور ایکسائز ڈیوٹی کی چوری عروج پر ہے۔ وہ اس ناجائز دھندے کو روک رہا تھا۔اور اس کے خلاف سب کچھ مافیا کروارہا ہے۔

مزید : علاقائی