سیاسی منظر نامہ ایک بار پھر بدل رہا ہے

سیاسی منظر نامہ ایک بار پھر بدل رہا ہے
سیاسی منظر نامہ ایک بار پھر بدل رہا ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ملک کا سیاسی منظر نامہ ایک مرتبہ پھر بدل رہا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک نئی آئینی ترمیم کے لئے رابطے زور پکڑ رہے ہیں۔عمران خان بھی حکومتی ترمیم کے حق میں نظر آرہے ہیں۔ لیکن فی الحال وہ پارلیمینٹ میں دوبارہ جانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان کی شرط پہلے جوڈیشل کمیشن کا قیام ہے۔ لیکن اس محاذ پر بھی خاموشی ٹوٹ رہی ہے۔ اشارے مل رہے ہیں کہ شائد اس بار جوڈیشل کمیشن بن جائے۔ کیونکہ تحریک انصاف لچک دکھا رہی ہے۔ اگر جوڈیشل کمیشن بن جائے تو کیا عمران خان پارلیمینٹ میں واپس آجائیں گے۔ سب کی نظریں آج جہانگیر ترین اور اسحاق ڈار کے درمیان ہونے والی ملاقات پر ہیں۔ کیا یہ تبدیلی کافی نہیں کہ عمران خان مسلم لیگ (ن) کی تعریف کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت درست سمت میں جا رہی ہے۔ یہی نیا پاکستان ہے۔ اسی لئے تو کہا جا تا ہے کہ تبدیلی آنی نہیں تبدیلی آچکی ہے۔جہاں تک جوڈیشل کمیشن کے قیام کا معاملہ ہے یہ بنے گا تو مسلم لیگ (ن) کی شرائط پر ۔ ورنہ نہیں بنے گا کیونکہ ملک میں ایسے حالات نہیں کہ کوئی مسلم لیگ (ن) سے ان کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کروا لے۔ جو عمران خان چاہتے تھے اس سے تو مسلم لیگ (ن) کی سیاسی موت تھی۔ کوئی اپنی سیاسی موت پر خود دستخط نہیں کرتا۔ قدرت کروا دے تو اور بات ہے۔ اس لئے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے بھی تحریک انصاف کو ہی لچک دکھانا ہو گی۔

یہ درست ہے کہ جو آئینی ترمیم کی جا رہی ہے اس سے جمہوریت نہیں مضبوط نہیں ہو گی بلکہ اس سے سیاسی جماعتیں مضبوط ہو نگی۔ ارکان اسمبلی مزید کمزور ہو نگے۔ ہم نے پہلے ہی مختلف ترامیم کے ذریعے ارکان اسمبلی کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ وہ اب ایوان میں آنا مناسب نہیں سمجھتے۔ کیا یہ المیہ نہیں ہے کہ ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں ، قومی اسمبلی و سینیٹ میں ارکان کی اسمبلیوں کی کارروائی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ ایوان میں آنا پسند نہیں کرتے۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ جب ارکان اسمبلی کی زبان خاموش کر دی جائے گی۔ انہیں پارٹی پالیسی کا اس حد تک پابند کر دیا جائے گا تو اسمبلیاں اپنی اہمیت کھو دیں گی۔ لیکن مصیبت تو یہ ہے کہ ارکان اسمبلی خود بھی اتنے کمزور ہیں کہ اپنے حق کے لئے بھی آواز نہیں اٹھا سکتے۔ یہ صرف نجی محفل میں ہی اپنی قیادت سے اختلاف کر سکتے ہیں ۔ سر عام بات کرنے کی ان میں ہمت نہیں ہے۔ جو جماعتیں پارلیمینٹ میں موجود ہیں ان کی پارلیمانی میٹنگز کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس لئے عمران خان جو ملک میں جمہوریت کی بات کرتے ہیں ۔ وہ بھی ایسی ترمیم کی حمایت کر رہے ہیں۔ جس سے جمہوریت کمزور ہو گی۔ حیرانگی کی بات ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ترمیم کی یہ کہہ کر مخالفت کر دی ہے کہ وہ پہلے ہی اکیسویں ترمیم کے ڈسے ہوئے ہیں۔ اس لئے وہ حمایت نہیں کر سکتے۔ میرے ایک دوست نے نئی مجوزہ ترمیم کے حوالے سے ایک خوبصورت تبصرہ کیا ہے کہ پارلیمینٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت اپنے اندر ایم کیو ایم جیسا ڈسپلن چاہتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کے ارکان اسمبلی ان سے اسی طرح ڈریں جیسے ایم کیو ایم کے ارکان اپنی قیادت سے ڈرتے ہیں۔ اسی لئے نبیل گبول جب تک ایم کیو ایم میں تھے کسی ٹاک شو میں نظر نہیں آتے تھے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے ملک کا سیاسی منظر نامہ کراچی کے حوالے سے بھی تبدیل ہو رہا۔ سیاسی تجزیہ نگار کراچی میں گورنر راج کی بھی نوید دے رہے ہیں۔ ایم کیو ایم سے مستعفی ہونے والے رکن نبیل گبول بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ کراچی میں آپریشن کلین اپ شروع ہونے والا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی بھی مجوزہ آپریشن کلین اپ کے حق میں ہے۔ مشکل میں صرف ایم کیو ایم ہے۔لیکن ایم کیوا یم کے لئے یہ نیا آپریشن کلین اپ کوئی نیا نہیں ہے۔ ا سے پہلے بھی ایم کیو ایم ایسے کئی آپریشن کا مقابلہ کر چکی ہے۔ لیکن بات صرف اتنی ہے کہ اس بار ایم کیو ایم اپنے اندر جس انتشار کا شکار ہے وہ شائد پہلے نہیں تھا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گورنر سندھ عشرت العبادکا کردار نہایت اہم ہو گا۔ پیپلز پارٹی ابھی تک حکومت کی حمایت کر رہی ہے۔ انہوں نے اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ سندھ میں تو کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں بھی ہونے جا رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ آصف زرداری اوربلاول بھٹو میں مفاہمت میں سندھ حکومت میں بڑی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔

بہر حال منظر نامہ جو بھی شکل اختیار کرے میاں نواز شریف کے حق میں جا رہا ہے۔ اگر وہ عمران خان کو واپس پارلیمینٹ میں لے آئیں۔ پیپلز پارٹی کو اپنے ساتھ رکھنے میں کامیاب رہیں۔ بلوچستان میں اپنا وزیر اعلیٰ لے آئیں۔ تو خود کو محفوظ سمجھنے میں حق بجانب ہو نگے۔ لیکن اگر وہ اپنے تمام سیاسی حریف زیر بھی کر لیں تو لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کو زیر کئے بغیر ان کا سیاسی مستقبل محفوظ نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے عمران خان بھی دبئی میں خیبر پختونخوا میں سرمایہ کاری کے لئے روڈ شو کر رہے ہیں۔ سندھ حکومت بھی ہفتہ صفائی منا رہی ہے۔ شائد سب کو معلوم ہو گیا ہے کہ کام کریں گے تو زندہ رہیں گے ورنہ سیاسی موت ہے۔

مزید : کالم