ذرائع بلاغ سے وابستہ افراد کے لیے حمید نظامی مشعل راہ ہیں ،رفیق ڈار

ذرائع بلاغ سے وابستہ افراد کے لیے حمید نظامی مشعل راہ ہیں ،رفیق ڈار

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) حمید نظامیؒ نے میدان صحافت میں حق گوئی و بے باکی کے انمٹ نقوش چھوڑے۔ انہوں نے صحافت میں جن اعلیٰ اقدار و روایات کو متعارف کرایا‘ وہ آج بھی ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کے لیے مشعل راہ ہیں۔ آپ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی تھے اور آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہزاروں طلبہ نے تحریک پاکستان کا پرچم تھام کر برصغیر کے کونے کونے میں قائداعظمؒ کا پیغام پہنچایا۔ مجید نظامیؒ نے روزنامہ نوائے وقت کی ادارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد اپنے قول و عمل سے ان کا حقیقی جانشین ہونا ثابت کر دکھایا۔ان خیالات کااظہار تحریک پاکستان کے نامور کارکن ،سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان ،لاہور میں تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن، ممتاز صحافی اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن پنجاب کے بانی صدر حمید نظامی کی برسی کے موقع پرمنعقدہ خصوصی نشست کے دوران اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔اس نشست کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ حمید نظامیؒ اور مجید نظامیؒ نے صحافت کے صحیح اقدار کو فروغ دینے کیلئے اپنی زندگی وقف کر دی۔ان کا اخبار آج بھی ملک کا معتبر اخبار ہے۔ حمید نظامیؒ کا تعلق ایک لوئر مڈل گھرانے سے تھا مگر انہوں نے جہد مسلسل اور امانت و دیانت کو زادِ راہ بنا کر مسلسل جدوجہد کی اور غریبی میں بھی نام پیدا کیا۔آپ علامہ محمد اقبالؒ کے اس شعر ’’خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر‘‘کی مثال تھے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ہدایت پر انہوں نے’’ نوائے وقت‘‘ کا اجراء کیا اور 23 مارچ 1940ء کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تاریخ ساز اجلاس کے موقع پر اس کا اولین شمارہ مندوبین میں تقسیم کیا گیا۔ ان کی زیر ادارت نوائے وقت مسلم ہند کی قومی اور ملی آرزوؤں و امنگوں کا ترجمان اخبار بن گیا۔ان کے تحریر کردہ زوردار اداریوں نے تصور پاکستان کے مخالف ہندو پریس کے تابڑ توڑ حملوں کا مدلل اور مسکت جواب دیا اور قائداعظمؒ کا پیغام برصغیر کے گوشے گوشے میں بسنے والے مسلمانوں تک پہنچانے کے ضمن میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ آپ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی تھے اور آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہزاروں طلبہ نے تحریک پاکستان کا پرچم تھام کر برصغیر کے کونے کونے میں قائداعظمؒ کا پیغام پہنچایا۔اس کے مثبت اثرات جلد ہی سامنے آئے اور بالآخر پاکستان معرض وجود میں آگیا۔میں نے بھی زمانۂ طالبعلمی میں اس قومی کام میں حصہ لیا۔انہوں نے کہا کہ حمید نظامیؒ ایک سچے عاشق رسولؐ تھے ۔اُنہوں نے ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تحریک ختم نبوت میں ان کا کردار ہماری ملی تاریخ میں سنہرے حروف سے قلمبند ہے۔ صحافتی حلقوں کے علاوہ دینی حلقوں میں بھی اُن کا بڑا احترام کیاجاتا تھا اور کیا جاتا ہے۔مشہور ادیب اور صحافی آغا شورش کشمیری مرحوم جیسی شخصیات اُن کے حلقۂ احباب میں شامل تھیں۔انہوں نے کہا کہ جنرل ایوب خان کا دور سنسرشپ کے لحاظ سے پاکستان کی صحافتی تاریخ میں سیاہ دور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ ان دنوں اخبار میں سچ بات لکھنا حکومتی قہر کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ اس دور میں بھی حمید نظامیؒ نے آزمائشوں سے دوچار رہنا گوارا کر لیا مگر حکومت کے سامنے سر نہ جھکایا۔ ایوبی آمریت کے گھٹن کے باعث جب انہوں نے داعئ اجل کو لبیک کہا تو ان کے بھائی مجید نظامیؒ نے روزنامہ نوائے وقت کی ادارت کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور اپنے قول و عمل سے ان کا حقیقی جانشین ہونا ثابت کر دکھایا۔ اپنے بڑے بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے بھی جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک ہر فوجی آمر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ انہوں نے ہر جابر سلطان کے روبرو کلمۂ حق کہا اور اس جرأت کی پاداش میں اشتہارات کی بندش اور دباؤ کے دیگر حکومتی ہتھکنڈوں کا سامنا کیا مگر قلم کی حرمت اور ملک و قوم کے مفادات پر کبھی آنچ نہ آنے دی۔وطن عزیز میں نظریاتی صحافت کی علمبردار ان دونوں شخصیات کا مقام پاکستانی قوم کی نگاہوں میں بلند تر ہے۔ اگر آج کے نوجوان صحافی ان جیسی عزت اور مقام کے طلبگار ہیں تو انہیں اپنے قول و فعل میں یکسانیت پیدا کرنا ہوگی اور صحافت کو کاروبار کی بجائے ایک مقدس فریضہ سمجھنا ہو گا۔ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے کہا کہ آج کچھ لوگ نظریۂ پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن یاد رکھا جائے کہ نظریات کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔ حمید نظامیؒ سٹوڈنٹ لیڈر تھے اور آپ کے بارے میں قائداعظمؒ نے کہا تھا کہ جس قوم میں حمید نظامیؒ جیسے نوجوان موجود ہیں اس قوم کا مستقبل نہایت تابناک ہے۔ حمید نظامیؒ سارے صحافیوں کے امام ، قائداعظمؒ کی میراث اور پاکستان کی ملکیت ہیں لہٰذا میڈیا کے تمام گروپوں کو ان کی حیات و خدمات کا تذکرہ کرنا چاہئے۔حمید نظامیؒ کے وجود سے انکار پاکستان کے وجود سے انکار کے مترداف ہے۔حمید نظامیؒ آئین کی پاسداری کرتے تھے۔

مزید : صفحہ آخر