اریبہ کیس میں اہم پیش رفت قتل کی واردات ماڈل ٹاؤن میں ہوئی

اریبہ کیس میں اہم پیش رفت قتل کی واردات ماڈل ٹاؤن میں ہوئی
 اریبہ کیس میں اہم پیش رفت قتل کی واردات ماڈل ٹاؤن میں ہوئی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 لاہور(کرائم سیل)شیرا کوٹ اریبہ قتل کیس میں اہم پیش رفت،ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کر دی گئی ،مقتولہ پنجاب یو نیوسٹی کی طالبہ نہیں بلکہ گھر والوں سے ناراض ہو کر ماڈلنگ کر نے کے لیے سیالکوٹ سے لاہور آئی تھی جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تا خیر پر انچارج انویسٹی گیشن شیرا کو ٹ اور نویسٹی گیشن افسر کو معطل کر دیا گیا۔ تفصیلا ت کے مطابق مقتولہ اریبہ کا اصل نام عبیرہ تھا وہ گھر والوں سے ناراضی کے بعد ماڈلنگ کے شعبے میں آئی، پولیس نے ایک بینک افسر کو بھی گرفتار کرلیا۔دو سال پہلے گھروالوں سے ناراضگی پر جیب خرچ بند ہوا تو عبیرہ کو مسئلے کا حل ماڈلنگ میں نظر آیا، اسی دوران عبیرہ کی معیز نامی لڑکے سے ملاقات ہوئی جس نے ماڈلنگ چھوڑنے کی شرط پر شادی کا وعدہ کیا۔معیز نے شادی سے انکار کیا تو وہ دوبارہ ماڈلنگ میں قسمت آزمانے لگی، پولیس تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پراسرار طور پر غائب ہونے والے حیدر نامی ملزم سے عبیرہ کی کوئی رشتہ داری نہیں، جب کہ پولیس نے ایک بینک کے اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ فاروق کو بھی قتل کے اس مقدمے میں گرفتار کرلیا۔پولیس کے مطابق عبیرہ کے قتل کی واردات ماڈل ٹاون میں ہوئی تھی، ادھر پنجاب یونیورسٹی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ مقتولہ کا یونیورسٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ پو سٹ مارٹم میں تاخیر پر انچارج انویسٹی گیشن شیخ اکمل اور تفتیشی افسر کو بھی معطل کر دیاگیا ۔اس بارے میں معطل ہونے والے انچارج انویسٹ گیشن کا کہنا تھا کے پو سٹ مارٹم کے بعد لاش کو ڈیڈ ہاؤس کی انتظامیہ نہیں رکھتی اس لیے ورثاء کی تلاش کر تے ہو ئے پوسٹ مارٹم کر وانے میں تا خیر ہو گئی تھی۔پولیس ذرائع کے مطابق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نعش کو سوٹ کیس میں رکھنے سے پہلے فریزر میں رکھا گیا۔ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے عبیرہ کی موت سانس گھٹنے کی وجہ سے واقع ہوئی اس کے جسم پر نہ تو کسی قسم کے تشدد کے نشانات پائے گئے اور نہ ہی بداخلاقی کے شواہد موجود ہیں ،پورسٹمارٹم رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ نعش کو فریزر میں رکھا گیا تھا جس کی وجہ سے لاش اکڑی ہوئی تھی بعد میں اس کی لاش کو سوٹ کیس میں رکھا گیا ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات کیلئے جسمانی عضاء فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں جس کی رپورٹ کی روشنی میں حقائق سامنے آئیں گے ۔نعش ملنے سے دو روز قبل اس کو قتل کیا گیا تھا بعد ازاں اس کی نعش کو فریززر میں رکھا گیا اور دو دن کے بعد اس کی نعش کے ٹکڑے کر کے اس کو سوٹ کیس میں ڈال کے شیرا کوٹ کے علاقہ میں واقع بس سٹینڈ پر رکھ دیا گیا ہے۔ اریبہ قتل کیس

مزید : صفحہ آخر