پاک، بھارت مذاکرات کا آغازِ نو، مارچ کے پہلے ہفتہ میں متوقع

پاک، بھارت مذاکرات کا آغازِ نو، مارچ کے پہلے ہفتہ میں متوقع
پاک، بھارت مذاکرات کا آغازِ نو، مارچ کے پہلے ہفتہ میں متوقع

  

تجزیہ، چودھری خادم حسین  

مقامی ضرورتوں اور جنوب ایشیائی خطے کے حالات نے بالآخر پاک بھارت رابطے کی راہ پھر سے ہموار کر دی ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہدایت پر بھارت کے نئے خارجہ سیکرٹری جے شنکر اگلے ماہ کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد آ رہے ہیں، جہاں ان کے پاکستان کے خارجہ سیکرٹری کے ساتھ مذاکرات ہوں گے۔ ان جاری مذاکرات اور بات چیت کو بھی بھارت ہی کی طرف سے ختم کیا گیا تھا، تب بھارت کے سابقہ سیکرٹری خارجہ اسلام آباد میں تھے، کے ساتھ ملاقات ہوئی اس پر بھارتی حکومت نے مذاکرات ختم کر کے اپنے وفد کو واپس بُلا لیا تھا، اس کے بعد ماحول میں کشیدگی پیدا ہوئی، بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر خلاف ورزیاں ہوتی چلی گئیں، کئی افراد شہید بھی ہوئے۔ پھر ایسا ہوا کہ امریکی صدر بارک اوباما بھارت آئے اور ان کی طرف سے بہت کچھ کہا گیا۔اس کے بعد ان کی پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ساتھ بات ہوئی،پاکستان کی طرف سے مکمل تحفظات کا اظہار کیاگیا، اس کے بعد ہی امریکی رویے میں بھی کچھ تبدیلی آئی اور سابقہ موقف کو دہرایا گیا کہ دونوں ممالک براہ راست بات چیت سے مسائل حل کریں، اس کے نتیجے ہی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم محمد نواز شریف کو فون کر کے سیکرٹری خارجہ کے آنے کی اطلاع دی،خبروں کے مطابق امکانی طور پر یہ مذاکرات 3سے10مارچ کے درمیان متوقع ہیں۔ جہاں تک پاک بھارت مذاکرات کا تعلق ہے تو ان کے دوران جو رکاوٹ آتی ہے وہ تنازعہ کشمیر اور سیاچن کی وجہ آتی ہے۔اس حوالے سے بھارتی رویہ سخت ہے، کشمیر کو اٹوٹ انگ کہا جاتا ہے تو سیاچن کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی تجویز رد کر دی جاتی ہے کہ بھارت نے سیاچن کو پوری فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔ بہرحال بھارت کی طرف سے ہمیشہ ان تنازعات کو ایجنڈے میں شامل کرنے کی حد تک بات مان لی جاتی ہے، لیکن مذاکرات تجارت اور راہداری کے حوالے سے کئے جاتے ہیں۔ کشمیر، سیاچن اور سر کریک جیسے تنازعات کو پیچھے کر دیا جاتا ہے۔ اب تو دریائے چناب اور جہلم پر بھارت کی طرف سے ڈیم بنانے والے مسائل بھی ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان بدر الدین نے سیکرٹری خارجہ کی آمد اور مذاکرات کی تصدیق کر دی اور کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ معاہدہ شملہ کے تحت بات چیت کرے گا، یقیناًتنازعہ کشمیر بھی ان میں شامل ہے،جس پر بات چیت موخر کی جاتی رہے گی۔ حال ہی میں پاکستان کی طرف سے کچھ جارحانہ رویہ بھی اختیار کیا گیا اور بتایا گیا کہ بلوچستان میں مداخلت ہو رہی ہے۔دہشت گردی کی حمایت کی جا رہی ہے،جبکہ کنٹرول لائن پر چھیڑ چھاڑ کے ذریعے پاک فوج کی توجہ دہشت گردی کے خلاف مہم سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے، شاید یہ رویہ بھی مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کا سبب ہو،پاکستان کی طرف سے واضح کیا گیا کہ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر بات ہو گی اسی کے جواب میں کہا گیا درست مذاکرات شملہ معاہدہ کی روشنی میں ہوں گے، جس کے مطابق کشمیر سمیت تمام تنازعات دو طرفہ بات چیت کے ذریعے طے ہونا قرار پایا ہوا ہے۔ دونوں اطراف سے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر مسٹر راگھوان نئی دہلی گئے ہیں، تو دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط بھی اسلام آباد آنے والے ہیں۔ خطے میں امن کے لئے ہمسایہ ممالک کے اچھے تعلقات ضروری ہیں، لیکن بھارت کی طرف سے ہمیشہ تجارت کو اولیت دی جاتی ہے اور یہ موقف بھی اختیار کیا جاتا ہے کہ تجارت اور آمدورفت میں سہولتیں تنازعات کے حل میں مفید ہو سکتی ہیں، پاکستان اور کشمیری تمام تنازعات کا حل چاہتے ہیں کہ اِسی طرح پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔ مذاکرات شروع تو ہو رہے ہیں، نیک نیتی ہو گی تو رکاوٹیں بھی دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ بہرحال پاکستان کے لئے کشمیر، سیاچن اور پانی کے تنازعات اہمیت رکھتے ہیں۔ بھارت پاکستان کے راستے افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک سے تجارت کی سہولتوں میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ وقت ہی بتائے گا کہ اب کیا صورت ہو گی۔

مزید : تجزیہ