ماڈلنگ کے چکرمیں اریبہ کے علاوہ بھی کئی لڑکیاں زیادتی کا نشانہ بنیں: ملزمہ طوبیٰ

ماڈلنگ کے چکرمیں اریبہ کے علاوہ بھی کئی لڑکیاں زیادتی کا نشانہ بنیں: ملزمہ ...
ماڈلنگ کے چکرمیں اریبہ کے علاوہ بھی کئی لڑکیاں زیادتی کا نشانہ بنیں: ملزمہ طوبیٰ

  

لاہور (ویب ڈیسک) اریبہ قتل کیس کی ملزمہ طوبیٰ نے نئے انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ اریبہ کے علاوہ بھی کئی لڑکیاں ماڈلنگ کے شوق میںا ن کے گروہ کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بن چکی ہیں۔ مقامی اخبار جہان پاکستان کے مطابق اریبہ پڑھنے کیلئے آئی تھی لیکن طوبیٰ کے کزن حیدر نے موبائل فون کال کے ذریعے اسے ماڈلنگ کا جھانسہ دیا۔ ملزم حیدر اور نصیر پہلے بھی کئی لڑکیوں کو ماڈلنگ کا جھانسہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنا چکے تھے تاہم پولیس ان لڑکیوں کے نام ظاہر نہیں کررہی۔ اریبہ کے ساتھ ماڈلنگ فوٹوگرافی کرانے والی ایک ماڈل نے کہا اریبہ نے ماڈلنگ کے حوالے سے کئی فوٹو شوٹش کروائے تھے جن میں سے کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر بھی موجود ہیں۔

گزشتہ روز عبیرہ عرف اریبہ قتل کیس کے حوالے سے ملزمہ طوبیٰ اور فاروق نے اپنے بیانات قلمبند کروائے جس سے ثابت ہوا کہ انہوں نے منصوبہ کے تحت عبیرہ کو قتل کیا تھا اور لاش شیراکوٹ بس اڈہ پر چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے چھاپوں کے دوران ڈیفنس سے ایک خوبرو ماڈل لڑکی اور ایک نوجوان کو بھی حراست میں اور طوبیٰ کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی قبضے میں لے لیا۔ پولیس نے ہاسٹل کے منیجر اور عملہ کے بیان قلمبند کرلئے ہیں۔

ملزمہ طوبیٰ اور اس کے ساتھیوں کی رہائی کیلئے ایم این اے ودیگر سیاسی بااثر شخصیات نے بھی پولیس افسران کو ٹیلی فون کئے۔ سیاسی شخصیات نے ڈی ایس پی نواں کوٹ فرحت عباس کو بھی فون کئے۔ اب تک کی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ طوبیٰ مقتولہ کی شہرت سے ناخوش تھی اور اس نے اور اس کے ساتھیوں نے عبیرہ کو ناقتل کی دھمکیاں دی تھیں۔ اخبار کے مطابق طوبیٰ گروہ کی سرغنہ ہے اور وہ بڑے پیمانے پر قحبہ خانہ بھی چلاتی ہے جہاں بااثر افراد کا آنا جانا ہے۔ ملزمہ کے پولیس افسران، سیاسی شخصیات اور فلم انڈسٹری کے ساتھ بھی گہرے مراسم پائے گئے ہیں وہ اپنے ٹھکانے اور موبائل فون نمبرز تبدیل کرتی رہتی تھی ماڈلز کو دبئی بھی لے کر جاتی تھی۔

مزید : لاہور