بگ تھری کے بعد کرکٹ کی تباہی کا ایک اور منصوبہ تیار

بگ تھری کے بعد کرکٹ کی تباہی کا ایک اور منصوبہ تیار
بگ تھری کے بعد کرکٹ کی تباہی کا ایک اور منصوبہ تیار

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) بگ تھری کے ”کارنامے“ کے بعد انگلینڈ نے کرکٹ کی تباہی کا نیا منصوبہ تیار کر لیا ہے اور کرکٹ کو محض پیسہ بنانے کی فیکٹری کے طور پر استعمال کرنے کیلئے کھیل کے موجودہ ضابطوں میں تبدیلی کی تجاویز پیش کر دی ہیں اور ماہرین کرکٹ نے کہا ہے کہ ان تجاویز کا سب سے زیادہ ”فائدہ“ پاکستان کی ٹیم کو ہی ہو گا۔ تفصیلات کے مطابق انگلینڈ نے ”آئی پی ایل“ طرز کی پریمیئر لیگ متعارف کرانے کیلئے ٹیسٹ اور ایک روزہ کرکٹ کے فارمیٹ میں تبدیلی کی تجاویز پیش کی ہیں اور ان پر عملدرآمد کیلئے بھیانک منصوبہ بھی تیار کر لیا ہے۔

انگلش کرکٹ بورڈ اور کاو¿نٹیز نے ٹیسٹ میچ کو پانچ کے بجائے چار دن اور آئندہ ایک روزہ کرکٹ ورلڈ کپ میں 50 کے بجائے 40 اوورز پر محیط اننگز کھیلنے کی تجویز پیش کی ہے۔ذرائع کے مطابق اگر ان تجاویز کو منظور کر لیا گیا تو ابتدائی طور پر انہیں انگلینڈ تک ہی محدود رکھا جائے گا اور پھر دنیا بھر کی کرکٹ بھی انہیں اصولوں کے تحت کھیلی جائے گی۔ ماہرین کرکٹ کا کہنا ہے کہ خصوصاً ٹیسٹ کرکٹ کو چار روز تک محدود کرنے کے مشورے سے کھیل کا روایتی حسن تباہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ 1979 سے دنیا بھر میں پانچ روزہ ٹیسٹ میچز کھیلنے کا سلسلہ جاری ہے اور دوران صرف دو مواقعوں پر قوانین میں تبدیلی دیکھی گئی۔انگلینڈ کی جانب سے کھیل کے ضابطوں میں تبدیلی کی اس تجویز کی وجہ اپنی پریمیئر لیگ کیلئے سالانہ شیڈول میں جگہ بنانا ہے جس میں 10 سے 12 ٹیموں کی شرکت متوقع ہے۔ واضح رہے کہ آسٹریلین بگ بیش اور انڈین پریمئیر لیگ کی کامیابی کے بعد انگلینڈ بھی اسی طرز کی پریمیئر لیگ شروع کرنے کیلئے پرتول رہا ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ انگلینڈ میں گزشتہ کئی سالوں سے کاو¿نٹی میں پرو 40 ایک روزہ میچز کھیلے جا رہے ہیں جس میں فی اننگ 40 اوورز پر مشتمل ہوتی ہے تاہم اب انگلینڈ 2019ءمیں اپنی سرزمین پر ہونے والے ورلڈ کپ میچز بھی 40 اوورز فی اننگ تک محدود رکھنے کا خواہشمند ہے اور جس طرح ”بگ تھری“ کو مسلط کیا گیا ہے اسی طرح ان تجاویز کے منظور ہونے کی بھی قوی امید ہے۔ اس منصوبے کا بھیانک حصہ یہ ہے کہ انگلینڈ نے ان تجاویز پر عملدرآمد کرانے کیلئے حکمت عملی بھی ترتیب دے دی ہے جس کے مرکزی کردار جائلز کلارک ہوں جو اس وقت انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ہیں اور اس تمام تر منصوبے میں وہ ہی اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اس مقصد کیلئے جائلز کو چیئرمین کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد خصوصی آئینی ترمیم کے ذریعے بورڈ کا صدر بنایا جا رہا ہے جبکہ سری نواسن کے بعد وہ آئی سی سی کے چیئرمین بننے کے اہل بھی ہو جائیں گے جس کے بعد ان تجاویز پر عملدرآمد کرانا بالکل بھی مشکل نہیں ہو گا۔

واضح رہے کہ اس وقت بھی بگ تھری نامی منصوبے کے ذریعے بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا نا صرف کرکٹ کے تمام امور پر قابض ہو چکے ہیں بلکہ اس کھیل کے ذریعے آئی سی سی کو حاصل ہونے والے منافع کے سب سے بڑ حصہ دار بھی ہیں اور ہر طرح کے جائز و ناجائز معاملات پر دسترس رکھتے ہیں۔ شائقین کرکٹ نے انگلینڈ کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر برہمی کا اظہار کیا ہے جبکہ پاکستانی شائقین کرکٹ نے ایک بار پھر اپنی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور اس معاملے کو قومی ٹیم کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ انگلینڈ کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا سب سے زیادہ ”فائدہ“ پاکستانی ٹیم کو ہی ہو گا کیونکہ اس ٹیم کی موجودہ کارکردگی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس ٹیم کیلئے50 اوورز کھیلنا کتنا مشکل ہے جبکہ ٹیسٹ میچز میں بھی 1 دن کی کمی پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے ”بہترین“ ثابت ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی ایسی ہی رہی تو پھر یہ ٹیم محض ٹی 20 کرکٹ ہی کھیل سکے گا اور انٹرنیشنل ون ڈے میچز میں اوورز کی تعداد کو مزید کم کرنا پڑے گا کیونکہ یہی ایک طریقہ نظر آتا ہے جس کے ذریعے دنیا میں پاکستان کی کرکٹ کو ”بچایا“ جا سکتا ہے۔

مزید : کھیل