لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بینک کو سافٹ ویئر کی تیاری کا ٹھیکہ دینے سے تاحکم ثانی روک دیا

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بینک کو سافٹ ویئر کی تیاری کا ٹھیکہ دینے سے تاحکم ...
لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بینک کو سافٹ ویئر کی تیاری کا ٹھیکہ دینے سے تاحکم ثانی روک دیا

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے بینک آف پنجاب کو سوا ارب روپے کے سافٹ ویئر کی تیاری کا ٹھیکہ من پسند کمپنی کو دینے سے روکتے ہوئے بینک آف پنجاب سے 16مارچ تک جواب طلب کر لیا۔ مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے انفوٹیک کمپنی کی درخواست پر سماعت شروع کی تو درخواست گزار کے وکیل سید فیصل نقوی نے موقف اختیار کیا کہ بینک آف پنجاب نے 5ہزار ملازمین اور افسروں جبکہ 200ملین صارفین کے ڈیٹاکے لئے سافٹ ویئر تیار کرانے کے لئے ٹینڈر دیا۔ سافٹ ویئر کی تیاری کے ٹھیکے کے لئے دو کمپنیوں نے اپلائی کیا .

ایف آئی اے نے سی ڈی اے کے پلاٹوں کی خورد برد اورانسانی سمگلنگ میں ملوث 7ملزم گرفتار کرلئے

بڈ میں منظور نظر کمپنی ٹیک لاجکس نے اعتراف کیا کہ وہ ٹینڈر کے مطابق سافٹ ویئر تیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی جبکہ بڈ میں درخواست گزار کمپنی نے واضح کیا تھا کہ وہ ٹینڈر کے معیار کے مطابق پورا اترتی ہے جبکہ پانچ ہزار ملازمین اور دو ملین صارفین سے زائد کے معیار کا سافٹ ویئر تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تاہم اس کے باوجود بنک آف پنجاب کی طرف سے میرٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سافٹ ویئر تیاری کا ٹھیکہ ایک ارب 25کروڑ میں من پسند کمپنی ٹیک لوجکس کو دینے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کی لئے بینک آف پنجاب نے ٹینڈر میں جاری کی گئی شرائط میں ترمیم بھی کر دی ہے ،بینک آف پنجاب کو سافٹ ویئر کی تیاری کا ٹھیکہ ٹیک لاجکس کمپنی کو دینے سے روکا جائے ۔ سماعت کے بعد عدالت نے سافٹ ویئر کی تیاری کا ٹھیکہ ٹیک لاجکس کو دینے سے روکتے ہوئے بینک آف پنجاب سے 16مارچ تک جواب طلب کر لیاہے۔

مزید : لاہور