مُردہ بیٹی کے بچے کو جنم دینے کی اجازت حاصل کرنے نانی عدالت پہنچ گئی، ایسا کیسے ممکن ہے؟ انتہائی حیران کن حقیقت

مُردہ بیٹی کے بچے کو جنم دینے کی اجازت حاصل کرنے نانی عدالت پہنچ گئی، ایسا ...
مُردہ بیٹی کے بچے کو جنم دینے کی اجازت حاصل کرنے نانی عدالت پہنچ گئی، ایسا کیسے ممکن ہے؟ انتہائی حیران کن حقیقت

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک خاتون انتہائی منفردنوعیت کا مقدمہ لڑ رہی ہے کہ جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے۔ اس 60سالہ خاتون کی بیٹی 2011ءمیں انتقال کر گئی تھی لیکن مرنے سے قبل اس کے بیضے (Eggs)نکلوا کر محفوظ کرلیے گئے تھے تاکہ اس کی ماں اس کے بچے کو جنم دے سکے۔ برطانوی ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر خاتون کو اپنی بیٹی کا بچہ پیدا کرنے سے روک دیا تھا کہ اس خاتون کے پاس اپنی بیٹی کا بچہ پیدا کرنے کی اجازت کے شواہد موجود نہیں تھے۔ خاتون نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی۔ گزشتہ روز دو سینئر ججوں نے خاتون کے کیس کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے اس کی ازسرنو سماعت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ کیس گزشتہ 5سال سے مختلف عدالتوں میں زیرسماعت ہے اور نچلی عدالتیں بھی خاتون کو بچہ پیدا کرنے سے روک چکی ہیں، جس پر اس نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ اگر خاتون اور اس کے 59سالہ شوہر کو اپنی فوت شدہ بیٹی کے بیضوں سے بچہ پیدا کرنے کی اجازت دے دی گئی تو یہ دنیا کے پہلے ماں باپ ہوں گے جو اپنی مرجانے والی اولاد کا بچہ پیدا کریں گے۔ لڑکی کے بیضے لندن کے ایک کلینک میں محفوظ ہیں۔

مزید جانئے: ہنی مون ختم ہوتے ہی نوبیاہتا دلہن نے شوہر کے گلے میں چھری دے ماری، وجہ ایسی کہ جان کر مردوں کی گھبراہٹ کی حد نہ رہے

برطانوی اخبار”ڈیلی میل“ کی رپورٹ کے مطابق تاحال اس کیس کی سماعت کی تاریخ کا تعین نہیں کیا جا سکا۔ رپورٹ کے مطابق لڑکی کی انتقال کے وقت عمر 28سال تھی۔ وہ کینسر کی مریض تھی اور جان لیوا مرض کی تشخیص ہونے پر اس نے اپنے بیضے نکلوا کر محفوظ کروا دیئے تھے۔تاہم لڑکی کے انتقال کے بعد برطانوی ہیومن فرٹیلائزیشن اینڈ ایمبریالوجی اتھارٹی نے اس کے ماں باپ کواس کے محفوظ شدہ بیضے دینے سے انکار کر دیاکیونکہ وہ اپنی بیٹی سے اس کا بچہ پیدا کرنے کی تحریری اجازت نہیں لے سکے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اس میاں بیوی کا کہنا ہے کہ ”جب ہماری بیٹی کے بچنے کی امید نہ رہی تو اس نے اپنی ماں سے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ اس کے بچے کو جنم دے، تاہم ہم نے یہ معاہدہ تحریری صورت میں نہیں کیا تھا۔“رپورٹ کے مطابق میاں بیوی اپنی بیٹی کے بیضے لے کر نیویارک جانا چاہتے ہیں تاکہ وہاں کسی سپرم ڈونر مرد سے سپرم لے کر بچہ پیدا کر سکیں۔ اس عمل پر 60ہزار پاﺅنڈ(تقریباً 87لاکھ 30ہزار روپے) خرچ آئے گا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -