قومی احتساب بیورو کی شاندار کارکردگی پر ایک نظر

قومی احتساب بیورو کی شاندار کارکردگی پر ایک نظر
قومی احتساب بیورو کی شاندار کارکردگی پر ایک نظر

  

بدعنوانی ایک ایسی لعنت ہے جو تمام برائیوں کی جڑہے ۔بدعنوانی نہ صرف ملک کو مالی طور پر نقصان پہنچاتی ہے بلکہ بدعنوان عناصر معاشرے میں بھی عزت واحترام کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے ۔ بدعنوانی ایک ناسور ہے جو ملک کودیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ ہمارے سامنے بہت ساری مثالیں ہیں کہ جن ممالک نے ترقی کی منازل طے کیں انہوں نے اپنے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے جہاں ایک طرف بہتریں قوانین بنائے وہاں انہوں نے قومی جذبے کے تحت بدعنوانی کے خاتمہ کے لیے شعور اجاگر کرنے کیلئے بھی مل کر کام کیا اور بدعنوانی کو کم سے کم سطح پر لے آئے۔ قومی احتساب بیورو (NAB ) نیشنل اکاؤنیٹبیلٹی آرڈنینس 1999 کے تحت کام کر رہا ہے جس کا دائرہ کار پورے پاکستان اور فاٹا تک ہے اور یہ ملک کے تمام افراد پر لاگو ہے اس قانون کے تحت کرپشن کے زمرے میں آنے والے افعال اور بدعنوانی کی روک تھام کے علاوہ بد عنوان عناصر کے خلا ف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔

قومی احتساب بیورو (NAB ) کے قیام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کرپشن کی روک تھام کے لئے نہ صرف اقدامات کےئے جائیں بلکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے جہاں ان کو قانون کے مطابق سزا دی جاسکے کرپشن اور معاشرے کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لیے نیب نے ایک جامع حکمت عملی اپنائی ہے نیب کی نیشنل اینٹی کرپشن سٹریجی کوبد عنوانی کے خلاف موئثر ترین حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے ۔ نیب کی بدعنوانی کے خاتمے کے لئے کی جانے والی عملی کاوشوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ تمام افراد اور ادارے عوام کی کسی لالچ اور رشوت کے بغیر بلا تفریق خدمت کریں۔ پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہے کہ پاکستان کا قومی احتساب آرڈیننس (NAO) بہترین قوانین کا مجموعہ ہے جس میں بدعوانی کے خاتمہ کیلئے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ پاکستان کے قومی احتساب آرڈیننس کو دوسرے ممالک بھی اپنا رہے ہیں۔

معاشرے اور ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کیلئے قومی احتساب بیورو کے چیئر مین قمرزمان چوہدری نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد نیشنل اینٹی کرپشن سٹریٹجی بنائیَ جس کو بدعنوانی کے خلاف موئثر ترین حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا گیاہے۔ قومی احتساب بیورو کے چےئرمین نے ادارے میں جہاں اور بہت سی نئی اصلاحات متعارف کروائیں وہاں انہوں نے قومی احتساب بیورو کا دائرہ کار ملک کے کونے کونے میں پھیلانے کا نہ صرف عزم کیا بلکہ اس کو پورا کر کے دکھایا۔ آج ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ پورے ملک کی آواز بن چکا ہے جس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمرزمان چوہدری نے نیب کو ایک متحرک ادارہ بنا دیا ہے جو ہمہ وقت بدعنوان عناصر کے خلاف بلا تفریق قانون کے مطابق کاروائی کرنے کے لئے متحرک ہے۔ قومی احتساب بیورو کا صدرمقام اسلام آباد جبکہ اس کے آٹھ علاقائی دفاتر کراچی، لاہور ، کوئٹہ ، پشاور، راولپنڈی، سکھر، ملتان اورگلگت بلتستان میں کام کررہے ہیں جو بدعنوان عناصر کے خلاف اپنے فرائض قانون کے مطابق سرانجام دے رہے ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمر زمان چوہدری بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے نہ صرف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی بلکہ کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے میرٹ ، شواہد اور قانون کے مطابق بدعنوان عناصر سے 285 ارب روپے کی لوٹی ہوئی رقم برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کروائی جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے ۔

قومی احتساب بیورو نے اپنی موجودہ افرادی قوت کو بڑھانے اور ان کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے جہاں میرٹ پر 104 نئے تحقیقاتی افسران بھرتی کئے ہیں وہاں ان کو جدید خطوط پر پولیس ٹریننگ کالج سہالہ میں تربیت دی گی۔ ان کی تربیت کی تکمیل کے بعد تفتیش اور تحقیقات کا نہ صرف معیار بڑھا ہے بلکہ تحقیقاتی افسروں کے کام میں اب مزیدتیزی آئی ہے۔ نیب اب پہلے سے زیادہ بہتر پوزیشن میں اپنا کام کرنے کا اہل ہے۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمر زمان چوہدری کی ہدایت پر نیب کے افسران کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے اور اسے مزید بہتر بنانے کیلئے جامع معیاری گریڈنگ سسٹم شروع کیا گیا ہے اس گریڈنگ سسٹم کے تحت نیب کے تمام علاقائی بیور وز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ انہیں نہ صرف ان کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ کیا جاتاہے بلکہ ان خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت بھی کی جاتی ہے۔ نیب نے ایک موثر مانیٹرنگ اینڈ ایلیویشن نظام بنایا ہے جس کے تحت تمام شکایات پر پہلے دن سے ہی unique identification number لگا یا جا رہا ہے ۔اب انکوائریوں، انوسٹی گیشن، احتساب عدالتوں میں ریفرنس، ایگزیکٹو بورڈ، ریجنل بورڈز کی تفصیل ، وقت اور تاریخ کے حساب سے ریکارڈ رکھنے کے علاوہ موثر مانیٹرنگ اینڈ ایلیویشن سسٹم کے ذریعہ اعدادوشمار کا معیاراور مقدار کا تجزیہ بھی کیا جا رہا ہے ۔ نیب نے شکایات کوجلد نمٹانے کیلئے انفراسٹرکچراورکام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اوراحتساب عدا لت میں قانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کے لئے ((10 دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا ۔ چیئرمین نیب قمرزمان چوہدری کی ہدایت پر قومی احتساب بیورو نے اپنے ہر علاقائی دفتر میں ایک شکایت سیل بھی قائم کیا گیا ۔ اسکے علاوہ نیب نے انویسٹی گیشن آفیسرز کے کام کرنے کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیا ۔ ان کے کام کو مزید موئژ بنا نے کے لئے سی آئی ٹی(CIT) کا نظام قائم کیا گیا ۔ اس نظام کے تحت سینئر سپروائزری افسران کے تجربے اور اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انویسٹی گیشن آفیسرز اور سینئر لیگل کونسل پر مشتمل سی آئی ٹی(CIT) کا نظام قائم کیا گیا ہے جس سے نہ صرف کام کا معیار بہتر ہوا ہے بلکہ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر تحقیقات پر اثرا انداز نہیں ہوسکے گا۔

قومی احتساب بیورو کو مضاربہ /مشارکہ سیکنڈل میں تقریباََ 31,156 درخواستیں موصول ہوئیں۔جن پر قومی احتساب بیورو نے قانون کے مطابق کاروائی کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو اب تک مضاربہ/ مشارکہ سیکنڈل میں مبینہ طور پر ملوث44 افراد کو گرفتار ان سے لوٹی ہوئی تقریباََ 616 ملین روپے کی رقم ریکور کرنے کے علاوہ ان سے تقریباََ 6ہزار کنال زمین، 10 مکانات اور 12 قیمتی گاڑیاں برآمدکرنے کے علاوہ 28ریفرنس احتساب عدالتوں میں دائر کیے ہیں تاکہ عوام کی لوٹی ہوئی رقم ملزمان سے ریکور کرکے متاثرین کو واپس کی جا سکیں۔ قومی احتساب بیورو کی کاوشوں کی بدولت ہاؤسنگ سوسا ئیٹیوں کے افراد کی لوٹی ہوئی رقوم برآمد کرکے جب ان کو با عزت طریقے سے واپس کی گئیں تو انہوں نے چےئرمین نیب قمر زمان چوہدری کا شکریہ ادا کیا ۔

قومی احتساب بیورو نے نیب میں عصرِ حاضر کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پراسیکوشن ڈویژن میں نئے لا افسروں کی تعیناتی عمل میں لائی۔ اب نئے آپریشن ڈویژن کے تحت نئے تحقیقاتی افسروں اور پراسیکوشن ڈویژن میں نئے لا افسروں کی تعیناتی سے دونوں ڈویژن مزید متحرک ہو گئے ہیں۔ قومی احتساب بیورو نے اپنے تحقیقاتی افسروں اور نئے لا افسروں کی جدید خطوط پر استعداد کار کو بڑھانے کے لئے ٹریننگ پروگرامز بھی ترتیب دئیے جہاں ان کو ملکی اور بین الاقوامی ماہرین کرپشن اور وائٹ کالر جرائم کے سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کے بارے میںآگاہی فراہم کی گئی یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیور و کا مجموعی طور پر 1999 سے اب تک Conviction Rate تقریباََ76 فیصد ہے۔

نوجوان کسی بھی ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ قومی احتساب بیورونے ہائر ایجوکیشن کے ساتھ مل کر ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجز کے طلبہ وطالبات کو کرپشن کے اثرات سے آگاہی فراہم کرنے کیلئے ایک (MoU) پر دستخط کئے۔قومی احتساب بیورو کی اس مہم کا مقصد ایک طرف نوجوان نسل کو بدعنوانی کے مضمر اثرات سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔دوسری طرف نوجوانوں کی توجہ اس بات کی طرف بھی باور کروانا تھی کہ آپ ملک کا مستقبل ہیں اگر آپ کو بدعنوانی کے بارے میں آگاہی حا صل ہو گی تو مستقبل میں بدعنوانی پر قا بو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ قومی احتساب بیورونے ہائر ایجوکیشن کے ساتھ مل کر ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجز میں اس وقت تک تقریباً 42 ہزارکریکٹر بلڈنگ سوسائٹیز کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جبکہ نیب 2017 کے اختتام پر 50 ہزارکریکٹر بلڈنگ سوسائٹیز کا قیام عمل میں لانے کے لئے پرعزم ہے کیونکہ اس کے مثبت اور حو صلہ افزاء نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔نیب نے اسلام آباد میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک، دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیئے کی جدید سہولیات میسر ہیں۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام کا مقصد معاشرے سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب کو جدید آلات سے لیس کرنا ہے ۔ فرانزک سائنس لیبارٹری کے قیام سے ایک تو وقت کی بچت ہوتی ہے دوسری کوالٹی اور سکریسی برقرار رہتی ہے۔

قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمرزمان چوہدری کی تجویز پر گزشہ سال پاکستان میں سارک انٹی کرپشن سیمینار منعقد ہوا جس میں بھارت سمیت سارک ممالک نے پاکستان کی انسداد بدعنوانی کی کاوشوں کو سراہا اور قومی احتساب بیورو کی تجویز پر سارک انٹی کرپشن فورم کے قیام پر متفق ہو گئے اور پاکستان کو سارک انٹی کرپشن فورم کا پہلا چئرمین منتخب کر لیا گیاجو کہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے اپنے سرکاری دورہ چین کے دوران چین کے وزیر برائے سپر ویژن اینڈ انسپکشن ہوآنگ شکشیان کے ہمراہدونوں ملکوں کے درمیان بدعنوانی کے خاتمے میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کئے۔ دونوں ممالک کے درمیان بدعنوانی کے خاتمے سے متعلق امور میں تعاون کیلئے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط سے چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے تناظر کے علاوہ دونوں ممالک کی حکومتیں سی پیک کے تحت پاکستان میں جاری منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی اس کے علاوہ دونوں ممالک بدعنوانی کے خاتمہ میں ایک دوسرے کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھا ئیں گے۔

قومی احتساب بیورونے پورے ملک میں عوام کو کرپشن کے مضر اثرات سے آگاہی کے لئے بھر پو مہم چلائی جس کے بڑے دور رس نتائجؓ برآمد ہورہے ہیں۔قومی احتساب بیورو نے ملک بھر کے تمام سینماگھروں میں SAY NO TO CORRUPTION پر مبنی ویڈیو پیغامات نشرکرنے شروع کر دیے ہیں۔ مزید بران پورے ملک میں تمام کیبل اپریٹرز نے اپنے اپنے کیبل چینلز پر قومی احتساب بیورو کے پیغامات رشوت سے اجتناب کریں ۔کرپشن ملک کی ترقی اور معیشت کے لئے زہر ہے چلائے جا رہے ہیں جن کے ذریعے عوام کو کرپشن کے مضر اثرات سے آگاہی حا صل ہو رہی ہے ۔ قومی احتساب بیورو نے تمام موبائل فونز کمپنیوں پر عالمی انسداد بد عنوانی کے دن Say No to Corruption کے حوالے سے پیغامات کروڑوں لوگوں تک پہنچائے۔ کرپشن کے خاتمہ کیلئے ایوان صدر اسلام آباد میں واک کا اہتمام کیا گیا جس میں صدر مملکت ممنون حسین نے شرکت کی ۔’’ to Corruption no Say‘‘کے عنوان سے منعقدہ اس واک میں ایوان صدر اور نیب کے اعلٰی افسران، غیر ملکی سفیروں، سکول کے بچوں، سکاوٹس اور اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ واک کے شرکاء نے بینرز اور پوسٹر اٹھا رکھے تھے جن پر کرپشن کے خلاف نعرے درج تھے۔

قومی احتساب بیورو نے اپنے قیا م سے لیکر اب تک کے سفر میں جو نمایاں کامیابیا ں حاصل کیں ہیں وہ نیب افسران کی انتھک محنت اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں۔ قومی احتساب بیورو کے موجودہ چئیرمین قمرزمان چوہدری بھی ٹیم ورک پر یقین رکھتے ہیں وہ اپنے فرائض کو ہمیشہ میرٹ اور ایمانداری کے ساتھ سرانجام دیتے ہیں اور اس کا درس وہ اپنے تمام افسران اور اہلکاروں کو بھی دیتے ہیں وہ کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں. انہوں نے اپنی تعیناتی سے اب تک حکومت اور اپوزیشن کی تفریق کےئے بغیر میرٹ، ایمانداری اور کسی پریشر کو خاطر میں لائے بغیر کرپٹ عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی ہے وہ نہ کسی کے ساتھ نرمی برتتے ہیں اور نہ ہی کسی کے ساتھ زیادتی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں قومی احتساب بیورو ایک قابل اعتمادقومی ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جس کا بر ملا اظہار صدرِ مملکت جناب ممنون حسین نے عالمی انسدادِ کرپشن کے دن ایوان صدر میں منعقدہ تقریب میں اپنی تقریر میں کیا تھا۔

پلڈاٹ، ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل اور ورلڈ اکنامک فورم جیسے آذادانہ اداروں کی رپورٹس قومی احتساب بیورو کے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمہ کے کام کو مزیدتقویت فراہم کرتی ہیں ۔قومی احتساب بیورو کے چئیرمین قمرزمان چوہدری ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ کیلئے کسی ایک فرد ، ادارے کی زمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی زمہ داری ہے۔ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ کیلئے میڈیا ، سول سوسائٹی اور فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے افراد اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مزید :

کالم -