’مجھے ایسا لگتا تھا کہ میں ایک جانور کی طرح ہوں جسے تمیز سکھانے کی ضرورت ہے،جیسے جیسے وقت گزرتا گیامجھے یقین ہونے لگا کہ میرا شوہر مجھے صرف اس وقت مارتا ہے جب اس کا میرے لیے پیار عروج پر ہوتا ہے کیونکہ۔۔۔‘

’مجھے ایسا لگتا تھا کہ میں ایک جانور کی طرح ہوں جسے تمیز سکھانے کی ضرورت ...
’مجھے ایسا لگتا تھا کہ میں ایک جانور کی طرح ہوں جسے تمیز سکھانے کی ضرورت ہے،جیسے جیسے وقت گزرتا گیامجھے یقین ہونے لگا کہ میرا شوہر مجھے صرف اس وقت مارتا ہے جب اس کا میرے لیے پیار عروج پر ہوتا ہے کیونکہ۔۔۔‘

  

نواک شوط(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر میں خواتین پر تشدد اپنی بھرپور موجودگی کے باوجود انتہائی قبیح خیال کیا جاتا ہے لیکن آپ یہ جان کر ششدر رہ جائیں گے کہ مغربی افریقہ کے ملک موریطانیہ میں ایک نسلی گروہ یا قبیلہ ایسا بھی ہے جہاں خواتین پر تشدد محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ شوہر کو جب بیوی پر پیار آتا ہے وہ اس پر تشدد کرتا ہے۔ جتنا زیادہ پیار اتنا شدید تشدد۔ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس نسلی گروپ کا نام سونینکے (Soninke)ہے۔اسے بیویوں پر تشدد کرنے والوں کا قبیلہ بھی کہا جاتا ہے۔

افریقی ملک یوگنڈا میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل انتقال کرگئے

اس قبیلے کی سلیماتا (Salimata)نامی خاتون کا کہنا تھا کہ ”جب میں چھوٹی تھی تو میری ماں مجھے سمجھایا کرتی تھی کہ تم ایک ایسی عورت کی بیٹی ہو جس کے شوہر نے مار مار کر اس کا بازو توڑ دیا تھا۔ تمہارے دادا نے تمہاری دادی کی ٹانگیں توڑی تھیں۔ جب تمہاری شادی ہو جائے گی تو تمہیں بھی بہت محبت ملے گی۔“ 19سال کی عمر میں جب سلیماتا کی شادی ہوئی تو اس کے شوہر نے بھی اس پر بہیمانہ تشدد شروع کر دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ ”شروع میں مجھے لگتا تھا کہ میں کوئی جانور ہوں جسے قابو میں رکھنے کے لیے تشدد ضروری ہوتا ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا مجھے یقین آتا گیا کہ میرا شوہر اس وقت مجھ پر تشدد کرتا ہے جب اسے مجھ پر بہت پیار آ رہا ہوتا ہے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -