صحیح اور غلط کا عمران خانی نظریہ

صحیح اور غلط کا عمران خانی نظریہ
صحیح اور غلط کا عمران خانی نظریہ

  



صحیح اور غلط کا تعلق شخصیات یا عہدوں سے نہیں، بلکہ اصولوں سے ہوتا ہے، مگر عمران خان نے پاکستان میں یہ ٹرینڈ متعارف کرایاہے کہ صحیح وہ ہے، جو ان کے نزدیک صحیح ہے اور غلط وہ ہے، جس کو وہ غلط کہتے ہیں۔اس نظریے کو اگر ’’صحیح و غلط کا عمران خانی نظریہ‘‘ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ا

س نظریے کی چند ایک مثالیں ملاحظہ فرمائیں،اگر کوئی بندہ خان صاحب کی پارٹی چھوڑ کر کسی اور پارٹی میں چلا جائے تو وہ کرپٹ ہوگا، نوازشریف نے اس کو خریداہوگا،لیکن اگر کوئی بندہ مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوگا تو وہ لوٹا نہیں ہے، نہ ہی اسے خریدا گیا ہے، بلکہ اس کا ضمیر جاگ گیا ہے، کیونکہ عمران خان ہمیشہ صحیح ہوتا ہے، اگر مخالف پارٹی کا بندہ بجلی یا گیس کا بل نہ دے تو وہ غلط ہے، لیکن اگر خان صاحب لوگوں کو اکسائیں کہ بل نہ دواور خود بل جلا دیں تو بھی وہ ٹھیک ہیں،کوئی اور اگر ملک کو نقصان پہنچائے تو غلط ہے، لیکن اگر خان صاحب سول نافرمانی کے لئے لوگوں کی منتیں کریں تو ٹھیک ہے، کوئی اور اگر غلط طریقے سے پیسا باہر بھجوائے یا منگوائے تو ڈاکو ہے، لیکن اگر خان صاحب جلسے میں کھڑے ہو کر لوگوں کو ہنڈی اور حوالے کادرس دیں تو یہ باعثِ ثواب ہے، پنجاب میں سکولوں میں ویرانی ہو تو نوازشریف ذمہ دار ہیں، لیکن اگر آپ کے زیر نگرانی صوبے کے کسی سکول میں بکریاں بھی بندھی نظر آجائیں تو کچھ نہیں، کیونکہ آپ سے غلطی ممکن ہی نہیں ہے۔ پنجاب کی پولیس مسلم لیگ(ن) کی وفادار ہے، کرپٹ بھی ہے، الیکشن میں دھاندلی بھی کرتی ہے، لیکن اگر آپ کے صوبے میں رشوت نہ دینے پر کسی پر گولی بھی چل جائے تو بھی سب ٹھیک ہے۔

عدالت کہتی رہے کہ الیکشن میں دھاندلی نہیں ہوئی، مگر ہوئی ہے، کیونکہ آپ جو کہتے ہیں اور آپ کے پارٹی الیکشن میں دھاندلی ہو اور اس کی گواہی ملک کا معتبر جج بھی دے اور وہ ہو بھی آپ کا اپنا متعین کردہ اور آپ کی پارٹی کا، تب بھی سب ٹھیک ہے، کیونکہ ’’عمران خانی نظریہ‘‘ اسی کا نام ہے، حکمران کسی جگہ آنے جانے کے لئے روٹ لگائیں تو یہ غلط ہے، کیونکہ اس سے عوام کو تکلیف ہوتی ہے، مگر جب آپ کا سیاسی اور دھرنا روٹ لگتا ہے تو بیشک کوئی بچہ ایمبولینس میں مرجائے، کوئی آفس نہ جا سکے،کوئی سکول نہ پہنچ پائے،یہ تب بھی ٹھیک ہوگا، کیونکہ یہ تبدیلی لانے کے لئے قربانی ہے اور یہی عمران خانی نظریے کا مطمح نظر ہے، کسی کی آف شور کمپنی نکلنا جرم ہے، مگر آپ کی نکل آئے اور آپ اس کا اعتراف بھی کریں کہ ٹیکس بچانے کے لئے ایسا کیا تھا تو یہ ٹھیک ہے، ہر کسی پر سوال اٹھانا آپ کا حق ہے، مگر آپ کے دائیں بائیں کھڑے جہانگیر ترین اور علیم خان پر کوئی انگلی اٹھائے تو یہ غلط ہے، نواز شریف کااحتساب کا طریقہ غلط ہے ،مگر آپ کا اپنا مقررکردہ احتساب کمشنر، جو آپ کا کرکٹ کے زمانے کا دوست بھی ہو، آپ کے صوبے میں کرپشن کی نشاندہی کرے تو یہ غلط ہے اور آپ اس کی اس غلطی پر اسے گھر بھیج دیں تو یہ تبدیلی ہے، لیکن اگر کوئی اور ایسا کرے تو یہ کرپشن ہے۔ آپ جب کسی کو وزیر بناتے ہیں تو بھی ٹھیک ہوتا ہے، اپنے ہی بنائے گئے وزیر کو کرپشن کرنے پر نکالتے ہیں تب بھی ٹھیک ہوتا ہے،اسے جیل بھجواتے ہیں۔ تب بھی ٹھیک اور پھر اسے جیل سے رہا کرائیں تب بھی ٹھیک ہوتا ہے۔

آپ کسی پارٹی پر الزام لگا کر اسے حکومت سے نکالیں، تب بھی ٹھیک اور پھر اسے گھر جاکر دوبارہ حکومت میں لے آئیں، تب بھی ٹھیک ہوتا ہے، کیونکہ مدعی، گواہ، جج اور عدالت سبھی کچھ آپ خود ہی ہیں، کسی کے ہاں کوئی بھی سکینڈل اٹھے تو اسے گھر جانا چاہیے، لیکن آپ کے ہاں پیڈو جیسے مشہور کارنامے ہوجائیں، تب بھی سب ٹھیک ہوتا ہے،کیونکہ یہاں اسدعمر کے دوست تشریف فرما ہوتے ہیں اور ان پر ہاتھ ڈالنا ’’تبدیلی‘‘ کے لئے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

آپ کسی پڑھے لکھے کو بھی جاہل کا طعنہ دیں تو ٹھیک، لیکن اگر کوئی آپ کے وزیر تعلیم کے گریجویٹ نہ ہونے کا روناروئے تو وہ غلط ہے۔

کوئی کمیشن بنائے اور اس کا فیصلہ آپ کے خلاف آئے تو سب ’’گیم‘‘ ہوتی ہے، مگر آپ کا اپنا مقررکردہ جسٹس، پارٹی الیکشن میں دھاندلی کے الزام میں آپ کے کسی دوست کی طرف انگلی اٹھائے تو اس انگلی کا کٹ جانا ہی ٹھیک ہوتا ہے، کیونکہ اس طرح اِدھر اُدھر آنے جانے کے لئے ہیلی کاپٹر کا مسئلہ بھی پیداہوسکتا تھا، کسی پارٹی میں کوئی نیا بندہ وزیر بن جائے تو غلط، لیکن اگر آپ اسدقیصر کی پندرہ سالہ رفاقت پس پشت ڈال کر پارٹی میں شامل ہونے والے کسی نئے بندے کو وزیراعلیٰ نامزد کردیں، چاہے صوبے کی پوری تنظیم ہی اس کے خلاف ہو، تب بھی ٹھیک ہے، کیونکہ شایدیہ ’’امپائر‘‘ کا اشارہ ہوتا ہے۔کوئی اور سڑکیں،موٹروے،پل یا انٹرچینج بناتا ہے تو یہ ملک کی تباہی ہوتی ہے، مگر آپ بنائیں تو ترقی ہوتی ہے۔

نوازشریف اداروں کی نجکاری کرے تو غلط، لیکن اگر آپ صوبے کے منافع بخش بینک کو بیچ دیں تو یہ ملکی ترقی ہوگی،شاید اسی کا نام احتساب ہے۔لگتا ہے، جس تبدیلی کی آپ کوشش کررہے ہیں، اس کا تعلق صرف آپ کے وزیراعظم بننے سے ہے، تبھی تو ہاشمی، نوازشریف کو چھوڑے تو مسلم لیگ(ن) غلط اور ہاشمی باغی ہوتا ہے، لیکن اگر وہی ہاشمی آپ کو چھوڑدے تو آپ ٹھیک اور وہ ’’پاجی‘‘ ہوتا ہے، شاید اسی لئے آپ اپنی سیاست کو جنون کا نام دیتے ہیں اورواقعی یہ جنون ہی ہے، مگر وزیراعظم بننے کا یہ جنون اس قدر شدید ہے کہ بے شک سٹیج سے کوئی چیختا رہے کہ بندے پیاس سے مررہے ہیں، مگر آپ ہاتھ کے اشارے سے اس آواز کو جھٹک دیں گے اور اپنی تقریرجاری رکھیں گے، کوئی بندہ چھت سے گرجائے توبھی آپ اپنے جنون میں آگے بڑھ جائیں گے، ایک نظر بھی یہ نہیں دیکھیں گے کہ اس کے تڑپنے میں بھی کوئی ’’تبدیلی‘‘آرہی ہے یا نہیں؟ یہ جنون اس قدر شدت اختیار کرچکا ہے کہ آپ کے ہسپتالوں میں 30روپے کی پرچی 230کی ہوجائے تو بھی آپ کو پروا نہیں ہے،عمران خان صاحب! میں آپ سے متفق ہوں کہ یہ ہوشمندی اور انسانیت کا معیار نہیں ہے، بلکہ یہ واقعی’’جنون‘‘ہے اورکرنے والے ’’ٹائیگر‘‘ ہیں۔

مزید : رائے /کالم