پانی کے مسئلے سے لا پروائی

پانی کے مسئلے سے لا پروائی
پانی کے مسئلے سے لا پروائی

  



بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پانی کے حوالے سے اپنے دعووں اور وعدوں پر تیزی سے عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ 2جنوری 2018ء کوبھارتی پنجاب میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا تھا :’’ میں پاکستان کا بوند بوند پانی روک کر (بھارتی )پنجاب ، جموں کشمیر اور بھارت بھر کے کسانوں کے لیے لاؤں گا۔

‘‘ اس اعلان کے بعد پہلے بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے چناب کا پانی مقبوضہ کشمیر میں تعمیر شدہ بگلیہار ڈیم پر روکا،جس کی وجہ سے ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد نصف سے بھی کم یعنی تقریباً 25800کیوسک رہ گئی ہے۔

جبکہ سندھ طاس معاہدہ کی رو سے بھارت روزانہ دریائے چناب میں55ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کا پا بند ہے۔پانی کی اس کمی کی وجہ سے دریائے چناب سے نکلنے والی نہر ’مرالہ راوی لنک‘بند ہو چکی ہے، جس سے سیالکوٹ سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع کی لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی بنجر پڑی ہے۔

اب بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کے لیے ایک اور تازہ وار کیا ہے کہ دریائے جہلم پر وولر بیراج کے قریب ربڑ ڈیم تعمیر کر کے اس میں دریائے جہلم کا پانی روک لیا ہے۔

اس اقدام سے نہ صرف منگلا ڈیم میں پانی نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے بلکہ پنجاب میں13لاکھ ایکڑ رقبے پر گندم کی فصل شدید متاثر ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو چکا ہے۔

بھارت کی پانی چوری اور ہماری ناعاقبت اندیشی کے باعث اس وقت کسانوں کو زراعت کے لیے 50فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے ، جس سے آنے والے دنوں میں خوراک کا بحران پیدا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ اس خطرناک صورتحال میں انڈس ریور سسٹم اتھارٹی اور انڈس واٹر سسٹم کمشنر نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور ان کی طرف سے بھارتی آبی جارحیت کے خلاف کوئی مؤثر سرگرمی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

اس وقت پاکستان میں گنے چنے ڈیموں کی کیفیت یہ ہے کہ منگلا ڈیم میں فقط بیس دن کا پانی باقی رہ گیا ہے۔ 90لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کے حامل اس ڈیم میں اس وقت صرف 3لاکھ ایکڑ فٹ پانی موجود ہے جبکہ ایسی ہی دگرگوں صورتحال پاکستان کے سب سے بڑے تربیلا ڈیم کی ہے کہ وہاں بھی صرف 5لاکھ ایکڑ فٹ پانی باقی رہ گیا ہے۔

یہ ڈیم جہاں پانی کی شدید کمی کا شکار ہیں وہاں ان سے حاصل ہونے والی بجلی کی پیداوار میں بھی خوفناک حد تک کمی واقع ہوگئی ہے۔ 35سو میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا تربیلا ڈیم اس وقت صرف 7سو میگا واٹ بجلی پیدا کر رہا ہے جبکہ 11سو میگا واٹ بجلی بنانے والے منگلا ڈیم سے محض 3سو میگا واٹ بجلی حاصل ہورہی ہے۔

23فروری 2018ء کو سینیٹ آف پاکستان میں وزارت آ بی وسائل نے تحریری طورپر ایوان کو آگاہ کیا ہے کہ ’’ پاکستان میں 1976ء سے 2017ء تک اوسطاً سالانہ29.2ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر برد ہو رہاہے۔‘‘

پانی، بجلی اور خوراک کے بحران کی شکل میں خوفناک تباہی ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہے مگر افسوس کہ اس طرف کوئی مقتدر فرد یا ادارہ توجہ دینے کو تیار نہیں۔عوام کی حقیقی ترجمان عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومت ہوتی ہے، جسے عملاً مفلوج کر کے رکھ دیا گیا ہے۔

عالمی بنک کی 1976ء میں بنائی گئی ایک تیکنیکی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو پانی اور بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر دس سال میں منگلا اور تربیلا کے حجم کا حامل ایک نیا ڈیم بنا نا تھا لیکن بد قسمتی سے 42سال کے عرصہ میں ایک ڈیم بھی نہیں بنایا گیا، جس کی ایک بڑی وجہ آمریتیں رہیں تو دوسری بڑی وجہ منتخب سیاسی حکومتوں کو اداروں کی طرف سے الجھائے رکھنا کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

اصول تو یہ ہے کہ عوام نے جن لوگوں کو پانچ سال کے لیے منتخب کر کے اختیار سونپا ہے ان کو پانچ سالوں میں کھل کر کام کرنے کا موقع دیا جائے اور ان کے راستے میں بلا جواز رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں۔

لیکن ہمارے ہاں بد قسمتی سے ایسا نہیں ہورہا ہے ،جس کی وجہ سے حکومت کی توجہ بار بار تقسیم ہوتی ہے اور ملک میں سیاسی بحران پیدا ہو جاتا ہے۔

اس کاملک و قوم کو نقصان یہ ہوتا ہے کہ ترقیاتی کام ٹھپ ہوکر رہ جاتے ہیں اور حکومت اپنے دفاع میں مصروف ہوجاتی ہے جبکہ ایسی صورتحال میں دشمن ملک بہت سے ناجائز فائدے سمیٹ لیتا ہے۔

مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت نے قومی بجٹ برائے سال2017-18 ء میں توانائی کے منصوبوں کے لئے 404ارب روپے کی خطیر رقم رکھ کر بجا طور پرپانی اور توانائی کے بحران کی سنگینی کانہ صرف احساس کیاتھابلکہ اس کا سد باب کرنے کی بھی قابل قدر کوششیں کی ہیں ۔

انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف کے ادوار میں جنم لینے اور پروان چڑھنے والی اٹھارہ اور بیس گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کو ملک کے اکثر علاقوں سے ختم کر دیا گیا ہے یا بہت کم رہ گئی ہے۔لیکن افسوس ماضی کی تاریک روایات دہراتے ہوئے ایک بار پھر ملک میں جاری ترقی کے تیز رفتار عمل کو ڈی ٹریک کر دیا گیا اور جمہوری حکومت کو نان ایشوز میں الجھا کرترقی کے عمل کو بھی طاقت کے غلط استعمال، اناکی تسکین اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا کر ملک کے استحکام پر کئی سوالات کھڑے کر دئیے گئے ہیں۔

منتخب جمہوری حکومت کے ساتھ ہونے والے اس ناروا سلوک کو باشعور عوام کی اکثریت بہت شدت سے محسوس کر رہی ہے اور لاہور، چکوال ،لودھراں کے ضمنی انتخابات میں عوام اپنا فیصلہ بھی دے چکے ہیں کہ انھیں نہ صرف اپنے ووٹ کا تقدس عزیز ہے بلکہ منتخب جمہوری حکومت اور پارلیمان کی بے توقیری بھی کسی صورت قبول نہیں ۔

عوامی اکثریت سے منتخب ہونے والی مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت کے خلاف شروع دن سے بلا جواز محاذ آرائی کرنے والے عمران خان اور ان کے ساتھی اس فارمولے پر عمل پیرا ہیں کہ نہ کھیلیں گے ، نہ کھیلنے دیں گے۔ یعنی نہ خود کوئی ترقیاتی کام کریں گے اور نہ کسی اور کو کسی قسم کا ترقیاتی کام کرنے دیں گے ۔لیکن ایک کام وہ بہت خوبصورتی سے کرتے دکھائی دے رہے ہیں ، وہ ہے زبانی دعوے اور وعدے۔

ایسے دعوے اور وعدے جن کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ ان کے اس مرض کو سمجھنے کے لیے یہ ایک مثال کافی ہے۔ایک دعویٰ اور وعدہ عمران خان نے 2014ء کے دھرنے میں خطاب کرتے ہوئے کیا تھا کہ’’ خیبر پختونخواہ میں ساڑھے تین سو ڈیم بنانے کا کام شروع ہے جو اٹھارہ ماہ میں مکمل ہو جائیں گے۔‘

‘ یاد رہے کہ یہ منصوبہ ستمبر 2014ء میں شروع ہوا تھا۔ اب ساڑھے تین سال بعد22فروری 2018ء کو انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن نے یہ رپورٹ جاری کی ہے کہ’’ خیبر پختونخوا میں بجلی پیدا وار کے 356منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے ہیں جبکہ ان میں سے 40چھوٹے پن بجلی گھر وں پر تو ابھی کام شروع ہی نہیں ہو سکا ہے۔

‘‘کہاں عمران خان کی طرف سے اٹھارہ ماہ میں ساڑھے تین سو ’’ ڈیم ‘‘ بنانے کا دعویٰ اور کہاںیہ حقیقت کہ ساڑھے تین سال گزرنے کے باوجود نہ یہ منصوبہ مکمل ہوا بلکہ ابھی تک اس کے ایک بڑے حصے پر کام ہی شروع نہیں ہوسکا ۔اس ضمن میں ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ’’350ڈیم‘‘ کا جو لفظ عمران خان استعمال کرتے ہیں وہ لفظ ہی غلط ہے بلکہ اگر اسے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف کہیں تو بے جا نہ ہوگا۔

کیونکہ یہ 350ڈیموں کا نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے پن بجلی گھر بنانے کا منصوبہ تھا جن سے فی پن بجلی گھرمحض پانچ سے پچاس کلو واٹ بجلی پیدا ہونی ہے، جس سے نہ تو صنعتیں ، کارخانے اور فیکٹریاں چلتی ہیں اور نہ ہی اس بجلی کو بڑے پیمانے پر استعمال میں لا یا جا سکتا ہے بلکہ صرف مقامی سطح پر جہاں یہ چھوٹے پن بجلی گھر بنتے ہیں وہاں اس بجلی کو کسی حد تک صرف گھریلو استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

یہ عمران خان کی تبدیلی کے دعوے کا فقط ایک نمونہ ہے کہ نہ یہ منصوبہ بر وقت مکمل ہوا بلکہ اس منصوبے کو ساڑھے تین سو ڈیم کہنا ہی فنی اور تیکنیکی اعتبار سے یکسر غلط اور جھوٹ ہے۔

اس ایک منصوبے کی حقیقت سے ہی یہ ظاہر ہورہا ہے کہ عمران خان اور ان کے حامی شروع دن سے یہ تہیہ کر چکے تھے کہ نہ خود کچھ کریں گے اور نہ کسی اور کو کچھ کرنے دیں گے۔

ان کے اس رویہ کا اظہار آج پورے پاکستان میں سیاسی انتشار اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔اور ستم ظریفی دیکھیں کہ جو بھی ملک و قوم میں اپنے قول و عمل سے انتشار پھیلا رہا ہے وہ اس زعم یا خوش فہمی کا بھی شکا رہے کہ ملک و قوم کا ہمدرد ہے۔

میرا ان تمام نام نہاد ہمدردوں سے ایک سوال ہے کہ ایک منتخب جمہوری حکومت کو مفلوج کرنے کے لیے جے آئی ٹی بن سکتی ہے تو بھارت کی مسلسل آبی جارحیت ، پانی کے بحران ، ڈیموں کی عدم تعمیر اور نئے ڈیموں کی تعمیر کے فنڈڈ مخالفین کے خلاف بھی ایک جے آئی ٹی بنانے میں کیا چیز مانع ہے؟

کیا وہ صرف ملک میں سیاسی انتشار اور عدم استحکام لانے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں؟کیا وہ صرف الزامات لگانے اور بد اعتمادی پھیلانے کے مشن پر گامزن ہیں؟ قوم سراپا سوال ہے کہ آبی بحران کے مسئلہ پر مجرمانہ خاموشی کیوں اختیار کی جارہی ہے؟؟

مزید : رائے /کالم