A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ...قسط نمبر 43

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ...قسط نمبر 43

Feb 26, 2018 | 14:24:PM

گشت سے فارغ ہوکر میں نالے کے پار اُتر گیا اور گھومتا ہوا نوشاہ کے گھر کی طرف واپس ہوا۔ابھی نالہ دور ہی تھا اور میں جھاڑیوں میں سے گزر رہا تھا کہ اچانک خطرے کا احساس ہوا۔رائفل بہرحال میں ساتھ تو رکھتا ہوں ۔میں نے فوراًبریج کھول کر کارتوس دیکھے اور بریج بند کرکے گھوڑے چڑھا لیے ۔اس کے بعد اطراف کا جائزہ لیا ۔چاروں طرف جھاڑیاں اور چھوٹے چھوٹے تیندوکے درخت پھیلے ہوئے تھے ۔۔۔۔کچھ دور چل کر شریفے کے چند گنجان درخت بھی تھے۔لیکن مجھے خطرے کا احساس اپنے سامنے والی سمت سے ہورہا تھا،کیونکہ اس طرف جھاڑیوں میں چھپے ہوئے کئی گہرے کھڈ تھے جو میں گزشتہ روز دیکھ چکا تھا۔

میں نے سوچا ،اس جگہ گاؤں کے قریب ،دن دہاڑے شیر ہی آسکتا ہے۔۔۔۔ابھی میںیہ سوچ ہی رہا تھا کہ کوئی پچاس ساٹھ گز آگے ایک جگہ جھاڑیاں ہلیں اور اچانک مجھے کوئی چیز نظر آئی۔

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ...قسط نمبر 42 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اب تو گویا سارے حواس مقابلے کے لیے تیار ہوگئے ۔فاصلہ کسی طرح ساٹھ گز سے کم نہیں تھا اور شیر اتنے فاصلے سے حملہ نہیں کرتا۔میں نے رائفل دونوں ہاتھوں میں تھام لی اور کسی ایسے پتھر وٖغیرہ کی جستجو کرنے لگا ،جس کی آڑلے کر فائرنگ کی پوزیشن لے سکوں۔زمین اونچی اونچی تھی اور جھاڑیاں بھی بکثرت تھیں ،اس لیے شیر کی حرکات دیکھتے رہنا ممکن نہیں تھا۔۔۔اب یہ میں نہیں کر سکتا کہ شیر وہاں پہلے سے بیٹھاتھا،یا میرا تعاقب کر رہا تھا اور اس جگہ کو حملے کے لیے موزوں پاکر فاصلہ کم کر رہا تھا۔

قریب ہی ایک چھوٹی سی چٹان جھاڑیوں کے درمیان کھڑی تھی۔میں نے چند قدم سرک کر اس کی آڑ لے لی اور جھاڑیوں کی آڑ سے اس طرف دیکھنے لگا ،جدھر ابھی شیر نظر آیا تھا۔چند منٹ اسی حالت میں گزر گئے ۔پھر کوئی پچاس گز کے فاصلے پر دوبارہ اسی شے کی جھلک نظر آئی اور اب کے صاف پتہ چل گیا کہ وہ شیر ہی ہے۔

شیر کا رخ میری طرف ہونے کے بجائے گاؤں کی طرف تھا۔۔۔اس کا یہ مطلب ہوا کہ اس نے مجھے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔لیکن جس احتیاط اور چلاکی کے ساتھ وہ آگے بڑھ رہا تھا،اس کے مطابق ضرور اس نے کسی کو تاک رکھا تھا۔مجھے یہ گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ کہیں میرے ساتھیوں میں سے کوئی اس کا ہدف نہ بن رہا ہو۔ عتیق اور عسکری دونوں ہی غافل تھے اور پھر اتنے زیادہ تجربہ کاراور پختہ بھی نہیں تھے۔صرف ایک صورت یہ تھی کہ میں فائر کرکے شیر کو ڈرادو تاکہ وہ اپنا رخ بدل دے اور بھاگ جائے ۔لیکن ایسے فائر کے لیے دل آمادہ نہ ہوا ۔یہ لالچ پیدا ہواکہ ممکن ہے اس جگہ سے نالے تک پہنچتے پہنچتے کسی مقام پر صحیح نشانہ لینے کا موقع مل جائے۔

میں سوچ ہی رہا تھا کہ نالے کے دوسرے کنارے سے فائر ہوا ۔لیکن گولی کی آواز سے ظاہر ہوا کہ فائر خالی گیا۔رائفل کے فائر کی آواز میں یہ شناخت بہت آسان ہوتی ہے ۔بہرحال فائر کے بعد بھی شیر بھاگتا نظر نہیں آیا۔نہ ہی اس نے کوئی حرکت کی ۔چند سیکنڈ کے وقفے سے دوسرا فائر ہوا۔اس دفعہ بھی گولی کی آواز بتاتی تھی کہ فائر خالی گیا۔لیکن شیر نے اب بھی جنبش نہیں کی ۔پھر تیسرا فائر ہوا۔لیکن اس دفعہ فائر کا رخ اس طرف نہیں تھا ،جس طرف میں نے شیر کو دیکھا تھا۔۔۔۔یا تو شیر اس جگہ سے ہٹ گیا یا فائر کرنے والے کو شیر کے جنبش نہ کرنے نے شک میں ڈال دیا اور اس نے کسی دوسری شے کو شیر سمجھ کر فائر کردیا۔

اس کے بعد فائر نہ ہوانہ شیر نے حرکت کی ۔میں جس طرح بیٹھا ہوا تھا ،اسی طرح بیٹھا رہا ۔ہر دو چار سیکنڈ بعد پیچھے بھی دیکھ لیتا تھا کہ کہیں یہ آدم خور ادھر سے ہی حملہ نہ کر بیٹھے۔

نصف گھنٹہ اسی طرح گزرگیا۔نہ میں نے کوئی حرکت کی نہ شیر نے ۔میں یہ جانتا تھا کہ شیر اسی جگہ موجود ہے،جہاں میں نے اس کو دیکھا تھااور اس سے بھی باخبرتھا کہ آدم خور شیروں میں صبروبرداشت کی غیر معمولی قوت پیدا ہوجاتی ہے۔لیکن یہ سب قیاس ہی تھا۔کیونکہ اسی حالت میں ایک گھنٹہ گزر گیا۔سورج اب اوپر آرہا تھا اور نوبجنے کو تھے ۔اب مجھ میں صبر کی تاب نہیں تھی۔دس منٹ اور انتظار کے بعد میں چٹان کے پیچھے سے ہٹ کر اس طرف بڑھا ،جدھر شیر نظر آیا تھا۔

یہ وقت احتیاط کا متقاضی تھا ۔ایک توآدم خور شیر جھاڑیوں میں پوشیدہ ،دوسرے وہ جگہ ایسی کہ دس پندرہ گز سے زیادہ فاصلے کی چیز صاف نظر نہیں آتی تھی۔بہرحال میں زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ گاؤں کی طرف سے ’باگھ باگھ‘ کا شور بلند ہوا ۔ساتھ ہی کسی کی موت سے پہلے کی دہشت میں ڈوبی ہوئی چیخ۔۔۔اور پھر ’’لے گیا لے گیا‘‘ اور ’’ بچاؤ ۔۔۔ارے،صاحب ! لوگوں کو بلاؤ‘‘کی خوف زدہ آوازیں ۔۔۔۔اس کے بعد شور کی کیفیت ناقابلِ فہم ہوگئی۔۔۔۔میں اپنی کمین گاہ سے نکل کر گاؤں کی طرف دوڑ پڑا۔جب میں گاؤں پہنچا تو عسکری ،عتیق اور دلاور بھی جائے واردات پر موجود تھے۔ہوا یہ کہ گاؤں کا ایک بوڑھا آدمی،جس کا گھر آبادی کے کنارے پر موجود تھا،دروازہ کھول کر باہر نکلا اور چند ہی قدم گیا تھا کہ ایک دیوار کے پیچھے سے شیر نے اسے دبوچ لیا اور سیدھا نالے کا رخ کیا۔

میں نے سارا واقعہ سنا ۔پھر واردات کے نشانات دیکھے اور عتیق ،عسکری اور دلاور کو ساتھ لے کر شیر کے تعاقب میں چل پڑا۔۔۔چونکہ نشانات تازہ تھے اور لاش کا خون اور کپڑے رہبری کر رہے تھے ۔اس لیے ہم جلدی ہی نالے تک پہنچ آگئے۔۔۔۔یہاں شیر نے چند لمحے لاش زمین پر رکھ کر آرام کیا۔اس کے بعد پھر روانہ ہوگیا تھا۔(جاری ہے )

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ...قسط نمبر 44 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں