عمران خان کے 12موسم

عمران خان کے 12موسم
عمران خان کے 12موسم

  

اگلے روز میانوالی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں 12موسم ہیں …… مَیں صرف آپ سے یہ پوچھنے آیا ہوں کہ چار موسم تو سنے تھے، یہ 12 موسم کہاں سے آگئے؟ یہ سوال کرتے وقت بھولے کے چہرے پر اضطرابی کیفیت کے آثار تھے۔ مَیں نے جو اب دیتے ہوئے کہا کہ بھولے شاید جوش خطاب میں وزیر اعظم کے منہ سے چار کے بجائے 12کا لفظ نکل گیا ہوگا۔ بھولے نے کہا کہ صاحب یہ پہلا موقع نہیں کہ وزیر اعظم نے کہا ہو کہ پاکستان میں 12موسم ہیں۔ وزیر عظم بننے سے پہلے انہوں نے 13اکتوبر 2017ء کو دھرنے کے دوران خطاب کرتے ہوئے بھی ببانگ دہل یہ کہا تھا اور اب ایک بار پھر انہوں نے اس کا اعادہ کیا ہے۔

بھولے کے اس جواب سے مَیں بھی سوچنے لگا کہ عمران خان کے ذہن میں موجود وہ کون سے 12موسم ہیں،جو بار بار اس کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ پھر خیال آیا کہ عمران خان کھلاڑی بھی تو رہے ہیں اور ایک ٹیم میں 11کھلاڑیوں کے علاوہ ایک بارہواں کھلاڑی بھی ہوتا ہے…… جو ہوتا تو ٹیم کا حصہ ہی ہے،مگر اسے کھیلنے کا موقع تب ملتا ہے،جب کوئی کھلاڑی زخمی ہوجائے یا کسی اور وجہ سے دوران میچ کھیلنے سے قاصر ہو تو اس بارہویں کھلاڑی کو کھیلنے کا موقع دیا جاتا ہے،تاہم اس کو اتنی پذیرائی نہیں ملتی، جتنی ٹیم کے گیارہ کھلاڑیوں کوحاصل ہوتی ہے۔ماضی میں بھی جب عمران خان نے ان 12 موسموں کا ذکر کیا تھا تو سوشل میڈیا پر خاصی لے دے ہوئی تھی،مگر انہوں نے کوئی وضاحت نہ کی اور اب ایک بار پھر انہوں نے بڑی شد و مد سے پاکستان میں 12موسموں کا ذکر کیا ہے سال میں کون سے بارہ موسم ہوتے ہیں، تو اس کا علم تو وزیر اعظم کو ہی ہوگا۔ہاں یہ ایک ا ٹل حقیقت ہے کہ سال میں بارہ مہینے ہوتے ہیں اور بار بار عمران خان بارہ موسموں کا ذکر کرتے ہیں تو کیا ہر مہینے میں نیا موسم آجاتا ہے۔ وزیر اعظم کہیں اپنے دل اور خواہشوں کے موسموں کا ذکر تو نہیں کر رہے کہ ہر مہینے ان میں ایک نئی خواہش کروٹ تو نہیں لیتی، پھر تواتر کے ساتھ آئندہ گیارہ مہینوں میں مختلف خواہشات ہر مہینے انگڑائیاں لیتی رہتی ہوں اور بقول شاعر:

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ

ہر خواہش پر پر دم نکلے

کے مصداق وہ اپنی درجن بھر خواہشوں کو کہیں موسموں کا نام تو نہیں دے رہے؟ بہرحال اب وزیر اعظم سے عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ بارہ موسم کون سے ہیں؟ جن کا وہ بار بار نجی نہیں، عوامی تقریبات میں ذکر کرتے رہتے ہیں اور اگر یہ زور خطابت کا شاخسانہ ہے تو عمران خان کو عوام سے معذرت کرنا چاہیے، بصورت دیگر ہم انہیں مشورہ دیں گے کہ وہ عوامی اجتماعات میں خطاب کرنے سے پہلے وہ نکات طے کر لیا کریں جن پر انہیں بولنا ہے اور ا گر وہ اپنی تقاریر میں تسلسل کے ساتھ اسی قسم کی باتوں کا اظہار کرتے رہے، تو عوام اسے سنجیدہ نہیں،بلکہ تفریح کے طور پر لیں گے جو ایک ایٹمی قوت کے وزیر اعظم کے قطعاً شایان شان نہیں، بلکہ یہ اور زیادہ بہتر ہوگا کہ وہ جس بھی اجتماع سے خطاب کرنے والے ہوں،اس کی مناسبت سے سوچ بچار کر لیا کریں، تو عوام نہ صرف اس سے استفادہ کریں گے،بلکہ اس کے معترف بھی ہوں گے۔ وگرنہ وہ اس خطاب کو تفریح کے طور پر لیں گے،جو قابل ستائش نہیں …… یہاں ایک واقعہ یاد آرہا ہے…… ایک خاتون خانہ نے اپنے خاوند کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنا بچہ بڑا ہوکر سیاستدان بنے گا تو خاوند نے حیران ہوکر پوچھا، وہ کیسے؟ تو بیوی گویا ہوئی کہ جب یہ اغوں مغوں کرتا ہے تو بڑا بھلا لگتا ہے،

مگر جب مطلب نکالتے ہیں تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ توعمران خان صاحب آپ وزیر اعظم تو ہیں ہی، صرف وزیر اعظم نہ رہیں، قومی لیڈر بنیں،جس کی قوم کو ضرورت ہے۔آپ کا خطاب ایسا ہونا چاہیے جو عوام کے دل کی آواز ہو اور وہ بے ساختہ کہہ اٹھیں کہ ”گویا یہ بھی میرے دل میں تھا“ نہ کہ وہ اسے تفنن طبع کے طور پر لیں۔ آپ کا خطاب ایسا ہونا چاہیے کہ لوگ اسے زریں اصول کے طور ایک دوسرے کو شیئر کریں۔ جہاں تک پاکستان کے وزرائے اعظم کا تعلق ہے تو اگر آپ کسی بھی اچھے بھلے آدمی سے پوچھیں تو ماسوائے چند ایک کے سب کانام نہیں لے سکے گا اور اگر لیڈر کے بارے میں استفسار کرے تو فوری جواب ہوگا قائد اعظم محمد علی جناحؒ ،علامہ اقبال ؒ اور عصر حاضر میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور بس۔

مزید :

رائے -کالم -