وہ ملک جہاں پہلی بارکسی جسم فروش خاتون کی نمازجنازہ اور تدفین ہوئی

وہ ملک جہاں پہلی بارکسی جسم فروش خاتون کی نمازجنازہ اور تدفین ہوئی
وہ ملک جہاں پہلی بارکسی جسم فروش خاتون کی نمازجنازہ اور تدفین ہوئی

  



ڈھاکہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)بنگلہ دیش میں پہلی بار ایک جسم فروش خاتون کی اسلامی روایات کے مطابق آخری رسومات ادا کی گئیں ،اس کی نماز جنازہ اداکی گئی

اور باقاعدہ قبر میں دفنایا گیا۔

جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کی ایک رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے علاقے دولت دیا میں بارہ سو سے زائد جسم فروش خواتین رہتی ہیں اور اسے دنیا کاسب سے بڑا قحبہ خانہ قرار دیا جاتا ہے۔قحبہ خانے میں کام کرنے والی ایک خاتون کے بیٹے نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ جتنی بھی جسم فروش خواتین ہلاک ہوئیں ان کی نماز جنازہ یا تدفین نہیں ہوتی تھی بلکہ انہیں دریا میں پھینک دیاجاتا تھا۔

ڈی ڈبلیو کے مطا بق گزشتہ ماہ پہلی بار اس علاقے میں کسی خاتون جسم فروش کی نماز جنازہ اداکی گئی ہے۔ اس جنازہ کیلئے باقاعدہ پولیس کو آمادہ کیاگیاتھا۔ علاقائی پولیس افسر کے مطابق ڈھائی سو سے زائد لوگ جنازے کیلئے جمع ہوئے تھے مگر پہلے توامام نے جنازہ پڑھانے سے انکار کردیا تاہم ان کے کہنے پر وہ تیار ہوا۔پولیس اہلکار کے مطابق امام کو کہا گیا کہ ہم کسی کے گناہ ثواب کافیصلہ کیسے کرسکتے ہیں؟

؎

ڈی ڈبلیو کے مطابق اس جنازے نے جسم فروشی سے متعلق ایک ایسی روایت توڑی ہے جسے طویل عرصے سے مسلم کمیونٹی کے کچھ لوگوں نے نافذ کروارکھا تھا۔کسی سیکس ورکر کی باقاعدہ تدفین بنگلہ دیش میں اس برادری کیلئے باوقار موت کی جانب ایک قدم قرار دیا جارہاہے۔

یاد رہے بنگلہ دیش میں جسم فروشی قانونی طور پر جائز ہے تاہم اسلام مخالف ہونے پر مذہبی شخصیات اس کی مذمت کرتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی