وہ اداکارائیں جنہوں نے فحش فلموں سے توبہ کر کے اس پیشے کو خیرباد کہہ دیا

وہ اداکارائیں جنہوں نے فحش فلموں سے توبہ کر کے اس پیشے کو خیرباد کہہ دیا
وہ اداکارائیں جنہوں نے فحش فلموں سے توبہ کر کے اس پیشے کو خیرباد کہہ دیا

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کچھ اداکاراﺅں نے فحش فلم انڈسٹری سے شہرت پائی اور پھر اس انڈسٹری کو چھوڑ کر عمومی کام کرنے لگیں۔ ڈیلی سٹار کے مطابق میاخلیفہ کا شمار بھی انہی اداکاراﺅں میں ہوتا ہے۔ لبنانی نژاد27سالہ میا خلیفہ نے فحش فلم انڈسٹری سے بین الاقوامی شہرت پائی اور پھراس انڈسٹری کو خیرباد کہہ دیا۔ میا خلیفہ نے لبنان کے ایک مسیحی گھرانے میں آنکھ کھولی اور اس کی عمر ابھی چند سال ہی تھی کہ ماں باپ کے ساتھ وہ امریکہ منتقل ہو گئی۔ میا خلیفہ نے جب حجاب پہن کر ایک فحش فلم میں کام کیا تو اسے شدت پسند تنظیم داعش سمیت کئی ایسی تنظیموں کی طرف سے قتل کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ میا خلیفہ اعتراف کر چکی ہیں کہ انہوں نے اس فحش انڈسٹری میں کام کرکے صرف 12ہزار ڈالر کمائے۔اب وہ اس انڈسٹری کو چھوڑ کر سپورٹس کمنٹیٹر بن چکی ہیں۔

34سالہ ایوا انجلینا بھی 18سال کی تھیں جب انہوں نے فحش فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اور گزشتہ سال اس انڈسٹری سے کنارہ کشی کا اعلان کیا۔ اب وہ اپنے اصل نام نکول ٹیلر سے جانی جاتی ہیں اور فلوریڈا کے سینٹ پیٹرزبرگ فائرڈیپارٹمنٹ میں فائرفائٹر کی ملازمت کر رہی ہیں۔امریکی ریاست کیلیفورنیا کی رہائشی برٹنی ڈی لا مورا نے بھی 7سال تک فحش فلم انڈسٹری میں کام کیا جہاں وہ اپنے کیریئر کے عروج میں ماہانہ 30ہزار ڈالر تک کماتی رہیں۔ انہوں نے 2016ءمیں ایک پادری کے ساتھ شادی کی اور فحش انڈسٹری کو خیرباد کہہ دیا۔ اب وہ خواتین کو پاکیزگی اور مباشرت سے پاک زندگی گزارنے کی تبلیغ کرتی ہیں۔ٹفنی میلن نامی اداکارہ نے 100سے زائد فحش فلموں میں کام کیا۔ انہوں نے 80کی دہائی میں گارجیئس لیڈیز آف ریسلنگ کے ذریعے شہرت پائی اور پھر فحش فلم انڈسٹری میں چلی گئیں۔ تاہم جلد ہی انہوں نے فحش فلم انڈسٹری چھوڑ دی اور اب پرائیویٹ تفتیش کار کی نوکری کرتی ہیں۔ میری کیرے نامی فحش اداکارہ نے بھی کئی سال تک فحش انڈسٹری سے جڑے رہنے کے بعد 2007ءمیں اس سے کنارہ کشی کا اعلان کیا۔ اس کے بعد وہ منظر سے غائب رہیں اور گزشتہ سال انہوں نے باکسنگ شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ رواں سال اپریل میں وہ میامی سٹرپ کلب میں باکسنگ کا پہلا میچ کھیلنے جا رہی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس