”جب بھارت نے بالا کوٹ حملہ کیا تو صبح تین بجے مجھے ائیر چیف کا فون آیا “وزیراعظم عمران خان نے بھارتی حملے کے بعد پاکستان کے رد عمل کی اندرونی کہانی بتا دی

”جب بھارت نے بالا کوٹ حملہ کیا تو صبح تین بجے مجھے ائیر چیف کا فون آیا ...
”جب بھارت نے بالا کوٹ حملہ کیا تو صبح تین بجے مجھے ائیر چیف کا فون آیا “وزیراعظم عمران خان نے بھارتی حملے کے بعد پاکستان کے رد عمل کی اندرونی کہانی بتا دی

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستانی قوم جس طرح بحران سے گزر ی،بحیثیت پاکستانی مجھے اس پر فخر ہے، جس طرح پاکستان نے بالاکوٹ میں بھارتی جارحیت کا جواب دیا ،وہ ایک سنجیدہ ملک کی علامت ہے، ہم بھارت کا فوری منہ توڑ جواب دے سکتے تھے،ہم بھارت کا نقصان کر سکتے تھے لیکن ہم نے سنجیدگی کا مظاہر ہ کیا ،بھارت بہت بڑی مشکل میں پھنس گیا ہے، بھارت بڑے خطرناک راستے پر چل نکلا ہے،اس میں زیادہ نقصان بھارت کا ہی ہو گا،جس راستے پر وہ چل نکلاہیں اس سے واپس آنا مشکل ہے، بھارت آر ایس ایس نظریے پر چل رہا ہے، جو بھی ملک فاشسٹ نظریہ پر چلا ہے، اس کا نقصان ہوا ہے، اس کا اختتام خون ہی ہوتا ہے،بھارت نے 80لاکھ کشمیریوں محصور کر رکھا ہے، بھارت میں متنازعہ قانون لا کر 20کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، ہندو توا نظریہ پر 50کروڑ اقلیت کو نشانہ بنایا جارہا ہے، اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی،بھارتی جارحیت کے بعد پاکستانی فوج، میڈیا، سیاستدانوں نے جس طرح کردار ادا کیا اس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،مودی اینٹی پاکستان بیانیہ بنا کر الیکشن مہم چلائی۔

26فروری 2019کوبھارتی جارحیت اور 27فروری کو پاکستان کی جانب سے اس کے منہ توڑ جواب کا ایک سال مکمل ہونے پر وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں تقریب منعقد ہوئی جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، ائیرچیف ائیرمارشل مجاہد انورخان، پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی،وفاقی وزراء، مختلف ممالک کے سفراء سرکاری اور عسکری حکام میں نے شرکت کی تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہو ا،تقریب میں 26 فروری 2019 کو بھارتی جارحیت کے بعد پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کو اجاگر کیاگیا۔

تقریب سےخطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نےکہاکہ  بھارتی حملے کےبعدصبح تین بجے ائیر چیف نےمجھےٹیلی فون کرکےاس حوالے سے بتا یا،بھارتی حملےکےبعد نہ صرف ائیر فورس بلکہ ایل او سی پرتعینات فوجی جوانوں،قوم اورنیشنل لیڈرشپ کاردِعمل بہت مناسب تھا ،بھارتی حملے کے بعد ہم ڈر بھی سکتے تھے،جب صبح تین بجے پتہ چلا کہ بھارتی حملے کے نتیجے میں اموات نہیں ہوئیں،ہماری پہلے سے تیاری تھی لیکن ہم نے رسپانس بھارتی حملے کےمطابق دیا ، ہماری نیوی نے بھی بھارتی آبدوز کو لاک کیا لیکن اس پر حملہ نہیں کیا ،مجھے اپنی فوج ،نیوی اور ائیر فورس پر فخر ہے ،اس موقع پر جنرل باجوہ بالکل نہیں گھبرائے اور ائیر چیف بھی نہیں گھبرائے،مجھے گھبرانا چاہیے تھا لیکن ان کو دیکھ کر مجھے بھی گھبراہٹ نہیں ہوئی بلکہ یقین تھا کہ کچھ نہیں ہو گا ،مجھے اپنی آرمڈ فورسز پر اس لیے اعتماد تھا کیو نکہ ہم دہشت گردی کے خلاف مشکل ترین جنگ جیت چکے ہیں جو کہ زیادہ مشکل جنگ ہے ۔

انہوں نےکہاکہ پاکستانی قوم جس طرح بحران سے گزر ی،بحیثیت پاکستانی مجھےاس پرفخرہے،بحران کے دوران قوموں کا رویہ ہی قوموں کی پہچان ہوتا ہے،جس طرح پاکستان نے بھارتی جارحیت کا جواب دیا وہ ایک سنجیدہ ملک کی علامت ہے، ہم بھارتی آبدوز کو نشانہ بنا سکتے تھے،بھارت کاپائلٹ واپس کیا، یہ سنجیدہ ملک کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کا فوری منہ توڑ جواب دے سکتے تھے(بالاکوٹ) حملے میں کوئی اموات نہیں ہوئی تھیں، ہم بھارت کا نقصان کر سکتےتھے،27فروری کےحملےکےبعدپاکستانی میڈیانےمثبت کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بہت بڑی مشکل میں پھنس گیا ہے،جس طرح کے بھارت کومیں جانتاتھا اورآج کا بھارت بڑے خطرناک راستے پر چل نکلا ہے،اس میں زیادہ نقصان بھارت کا ہی ہوگا،جس راستے پر وہ چل نکلاہےاس سے واپس آنا مشکل ہے، بھارت آر ایس ایس نظریے پر چل رہا ہے،جو بھی ملک فاشسٹ نظریہ پر چلا ہے،اُس کا نقصان ہوا ہے، اس کا اختتام خون ہی ہوتا ہے،جو نازی دورمیں جرمنی کا ہوا،روینڈا اور بوسنیا کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مسلمانوں اور اقلیتوں میں نفرتیں پھیلا رہا ہے، جہاں تک بھارت پہنچ چکا ہے اس کا نظریہ اس کو پیچھے نہیں ہٹنے دے گا،بھارت نے 80لاکھ کشمیریوں محصور کر رکھا ہے، بھارت میں متنازعہ قانون لا کر 20کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، ہندو توا نظریہ پر 50کروڑ اقلیت کو نشانہ بنایا جارہا ہے، اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری فوج نے جس طرح جواب دیا دنیا نے اس کو تسلیم کیا، پلوامہ اور بالاکوٹ حملے کے بعد دنیا پاکستان کے سنجیدہ کردار کی وجہ سے پاکستان کی پوزیشن دنیا میں مستحکم ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے بعد پاکستانی فوج، میڈیا، سیاستدانوں نے جس طرح کردار ادا کیا اس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،بلاکوٹ حملے کے بعد جس طرح بھارت کا میڈیا واقعہ کی تصویر پیش کرتا رہا کہ بس جنگ کرو لڑ یہ غیر سنجید ہ ملک کی علامت ہے،مودی اینٹی پاکستان بیانیہ بنا کر الیکشن مہم چلائی، پائلٹ واپس کرنے کو بھی اپنی ہی برتری بنا کر پیش کیا گیا،جنگ کسی بھی معاملے کا آخری حل نہیں ہوتی،بھارت ہندوتوا نظریہ کو اجاگر کر رہا ہے، مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کہا تھا کہ مسلمانوں اور ہندوستوں کی تاریخ میں فرق ہے، جو مسلمان ہندوستان میں رہ گئے تھے ان کیلئے کہا تھا کہ تم انگریزوں کی غلامی سے نکل کر ہندوؤں کی غلامی میں جا رہے ہو۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان جس طرف جا رہا ہے یہ ایک عظیم ملک بنے گا جس کا خواب علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں پاکستان کی سٹینڈنگ کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ بھارت میں ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے حق میں بیان دیا جس پر بھارتی میڈ یا نے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بنا دیا ۔

مزید : اہم خبریں /قومی