حکومت ایک بازو، ایک ٹانگ کھو سکتی ہے

حکومت ایک بازو، ایک ٹانگ کھو سکتی ہے
حکومت ایک بازو، ایک ٹانگ کھو سکتی ہے

  

جب بابا رحمتے سپریم کورٹ کی بڑی کرسی پر بیٹھ کر گرجا برسا کرتے تھے تو فرحت اللہ بابر نے سینٹ سے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل آخری تقریر میں کہا تھا کہ ”مجھے تشویش ہوتی ہے جب چیف جسٹس سپریم کورٹ کہتے ہیں کہ آئین سپریم ہے اور آئین وہ ہے جو میں کہتا ہوں۔“اس سے قبل چیف جسٹس افتخار احمد کے زمانے میں اور ان سے قبل چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے زمانے میں بھی یہی رٹا تھا کہ پارلیمنٹ نہیں آئین سپریم ہے اور پھر آئین کے نام پر وہ وہ آرڈر پاس ہوئے کہ ان کے آفٹر شاکس آج تک محسوس ہوتے ہیں۔ آج ایک مرتبہ پھر آئین کے آرٹیکل 226کے حوالے سے ایک بحث جاری ہے کہ آیا اس آرٹیکل کے تحت سینٹ انتخابات میں سیکرٹ بیلٹنگ میں کرپٹ پریکٹس کو روکا جا سکتا ہے یا پھر اوپن بیلٹنگ کی طرف جانا چاہئے۔ حالانکہ صدارتی ریفرنس میں یہ استدعا ہی نہیں کی گئی بلکہ پوچھا گیا کہ کیا الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کرکے اوپن بیلٹنگ کی کوئی راہ نکلتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب کے بھی آئین ہی سپریم ٹھہرتا ہے یا پھر پارلیمنٹ۔ 

دوسری جانب ایک دلچسپ صورت حال سینٹ سے باہر موجود ہے۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اسلام آباد سے سینٹ کی جنرل نشست پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی پی ڈی ایم کے متفقہ امیدوار کے طور پر اپنے کاغذات نامزدگی منظور کرواچکے ہیں اور خود ان کا کہنا ہے کہ حالات و واقعات یہی بتاتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہوچکی ہے اور دوسری جانب چونکہ ان کا حلقہ انتخاب قومی اسمبلی کے اراکین بنتے ہیں اس لئے یہ مفروضہ گھڑ ا جا رہا ہے کہ اگر مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کے مقابلے میں قومی اسمبلی سے یوسف رضا گیلانی کی جیت ہو گئی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وزیر اعظم پر عدم اعتماد ہو چکا اس لئے انہیں دوبارہ سے اعتماد کا ووٹ لینا ہوگا۔ اگرچہ صدر کی جانب سے یہ کہاگیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت وزیر اعظم کو دوبارہ سے اعتماد کا ووٹ لینے کا نہیں کہیں گے لیکن اگر واقعی یوسف رضا گیلانی اسلام آباد سے سینٹ کی نشست نکالنے میں کامیاب ہو گئے تو پی ٹی آئی کی ساکھ کو اسی طرح دھچکا پہنچے گا جس طرح سندھ کے بعد کے پی اور پنجاب کے ضمنی انتخابات میں پہنچا ہے۔ اب ڈسکہ میں 18مارچ کو دوبارہ پولنگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔20ستمبر 2020 کو پی ڈی ایم نے جس تحریک کا آغاز کیا تھا اس کے ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں اور 2018کے انتخابات کے حوالے سے جس دھاندلی کا ذکر ہوتا تھا، اب اس کے عملی ثبوتوں پر پی ٹی آئی کے حلقوں میں بھی خاموشی چھاتی جا رہی ہے۔ 

سینٹ انتخابات کے حوالے سے ایک اور اہم پیش رفت یہ ہے کہ کیا پنجاب، کیا سندھ، کیا بلوچستان اور کیا خیبر پختونخوا، حکومتی پارٹی کے اندر پڑنے والے کریک اسی طرح واضح نظر آنے لگے ہیں جس طرح پی ڈی ایم کے اندر ٹھوس اتحاد کی نشانیاں ملنا شروع ہو گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یار محمد رند، لیاقت خٹک، لیاقت جتوئی اورپنجاب میں پارٹی کے ایم پی ایز قیادت سے ناراض ہیں تو کیا ان جگہوں پر بھی پی ٹی آئی کو سینٹ انتخابات میں زک پہنچ سکتی ہے۔ جواب یہ ہے کہ جس طرح انفرادی آوازیں اٹھنا شروع ہوئی ہیں ان سے تو اتنی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی، کیونکہ یہ پی ٹی آئی کا ایک bluffبھی ہوسکتا ہے کہ خود اپنے اندر سے انفرادی اختلافی آوازوں کو ہوا دے کر یہ تاثر دیا جائے کہ پارٹی کی گرفت کمزور پڑچکی ہے لیکن پھر اصلاح احوال کے نام پر وہ تبدیلیاں کردی جائیں جس کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور یوں ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم کے لئے اسی طرح داد کے ڈونگرے برسائے جائیں جس طرح این اے 75کے ضمنی انتخابات کو لے کر برسائے جا رہے ہیں۔ حالانکہ ڈونگڑے برسانے والے یہ نہیں دیکھ رہے کہ مبینہ طور پر حکومت کی چوری پکڑی گئی ہے تو چوری کرنے والوں اور ان کی معاونت کرنے والوں کو قرار واقعی سزا بھی ملنی چاہئے وگرنہ تو پھر ہر چور چوری پکڑی جانے پر مال مسروقہ سامنے رکھ کر اسے چور کہنے والے پر پل پڑا کرے گا کہ جب تمھارا مال تمھیں مل گیا ہے تو تمھاری جرات کیسے ہوئی کہ مجھے چور کہو۔ میں چور تو تب تک تھا جب تک تمھارا مال تمھارے سامنے نہیں رکھا۔ 

خیر آئندہ ایک دور وز اس اعتبار سے اہم ہیں کہ سپریم کورٹ سینٹ انتخابات میں سیکرٹ بیلٹنگ پر فیصلہ سنا سکتی ہے۔ سینٹ انتخابات سے قبل اتنی بڑی ہزیمت سے حکومت آسانی سے جانبر نہیں ہو سکے گی اور جب تک ان فیصلوں کی گرد چھٹے گی تب تک حکومت ایک بازو اور ایک ٹانگ کھو چکی ہوگی۔ 

مزید :

رائے -کالم -