اپنا ملبہ خود بھی اٹھاؤ 

اپنا ملبہ خود بھی اٹھاؤ 
اپنا ملبہ خود بھی اٹھاؤ 

  

پی ڈی ایم کے بیانیہ نے رنگ تو دکھایا ہے۔ ملک چلانے کا ”ماسٹر پلان“ تو عمران خان حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث پہلے ہی پٹ چکا ہے۔ سیاسی مخالفین کو ملیا میٹ کرنے کی خواہش بھی دھری کی دھری رہ گئی۔ آزاد میڈیا کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں بھی کمی لانا پڑی۔اب یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنے اعمال کی خود ذمہ دار ہے۔ یہ تاثر بھی دیا جارہا ہے کہ کسی ادارے کو اب اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ حکومت پر کون، کیسے نکتہ چینی کررہا ہے۔ماضی قریب میں اپوزیشن کی تقریباً تمام جماعتوں کو مختلف اوقات میں لارے لگا کر زبردست رگڑا لگایا گیا۔ابھی چند ہفتے پہلے ہی مولانا فضل الرحمن پر دباو ڈالنے کی خاطر ان کے داماد کو نیب کی جانب سے نوٹس بھجوایا گیا۔

مولانا نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر بات ہماری عورتوں تک آگئی تو پھر ردعمل بھی ایسا ہوگا کہ دن میں تارے نظر آ جائیں گے۔ اس انتباہ کے بعد نیب کے نوٹس نجانے کہاں گم ہوگئے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پی ڈی ایم کا تیز دھار بیانیہ تحریک کے آغاز میں ہی کام کرگیا۔ اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں سے الگ الگ رابطے کرکے ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ فریقین کے درمیان بد اعتمادی کی گہری خلیج کے سبب کوئی صلح صفائی تو نہ ہوسکی البتہ وقفے وقفے سے سیز فائر ہوتا رہا۔ادھر ملک کے اندرونی اور بیرونی حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑتے دیکھ کر خود حکمران طبقات کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں۔ چند ماہ پیشتر ایک اہم اجلاس کے دوران چار افسروں نے کھل کر رائے دی کہ حکومت کی خراب کارکردگی کے باعث سرپرستی کرنے والوں کی ساکھ بھی خراب ہورہی ہے۔ کیونکہ عوام میں یہ تاثر ہے کہ اس حکومت کو مسلط کیا گیا ہے۔ اس تاثر کی نفی ہونی چاہیے۔

پی ڈی ایم کا بیانیہ اور حکومتی نااہلی موجودہ نظام کو سہارا دینے والوں کے لیے دوھری مصیبت بن چکے جس سے چھٹکارا آسان نہیں۔ ایسا نہیں کہ طاقتور حلقے مکمل طور پر حکومت سے الگ ہو چکے ہیں۔ اس وقت بھی کچھ کے مفادات اسی نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ یہ بھی سوچتے ہونگے کہ جب نمائشی حکومت کا پردہ چاک ہوگیا تو اصل کرداروں سے جواب طلبی بھی کی جا سکتی ہے۔ مگر ان چند عہدیداروں کی اس خواہش کے باوجود اب وہ پہلے والی فضا نہیں رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس نئی صورتحال میں حکومت خود کو کیسے سنبھالتی ہے۔ آئی ایم ایف سے قرضے کی حالیہ قسط کے اجرا کے بعد عوام پر جو بوجھ پڑنے والا ہے وہ عوامی غم وغصے کی لہرمیں اضافہ کرے گا۔ اسی لیے پی ڈی ایم موجودہ نظام سے جان چھڑانے کے لیے فی الحال آصف علی زرداری فارمولے پر نظریں گاڑے ہوئے ہے۔ اسی فارمولے کے تحت سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سینٹ کے الیکشن میں مشترکہ امیدوار بنایا گیا۔یوسف رضا گیلانی کے میدان میں آنے سے حکومتی صفوں میں جو کھلبلی مچی وہ کسی طور کم نہیں ہو رہی۔ خوف و خدشات کے سائے دراز ہوتے جارہے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے اتحادیوں، ق لیگ، جی ڈی اے، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی(باپ) نے ساتھ نہیں چھوڑا مگر چھوٹے بڑے عہدیداروں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔

ایسے میں جب یوسف رضا گیلانی کہتے ہیں کہ نظر آرہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہے تو حکمرانوں کی حالت اور پتلی ہو جاتی ہے۔ حکومت اور پی ڈی ایم کے درمیان لگی بازی میں اپوزیشن اتحاد کے پاس ایک نہیں دو ٹرمپ کارڈ ہیں۔ سینٹ الیکشن میں مطلوبہ نتائج مل گئے تو حکومت کا جھٹکا ہو جائے گا۔ ایسا نہ ہوا تو لانگ مارچ اور دھرنا حکومت کو ادھ موا کر ڈالے گا۔ بیڈ گورننس، معاشی بحران، نا اہلی کے سبب حکومتی مشینری پہلے ہی کام کرنے سے گریزاں ہیں۔ اعلیٰ سرکاری افسر یہ سمجھتے ہیں کہ اس نظام میں ان کی نوکریاں محفوظ ہیں نہ عزت - اپنے کام سے کام رکھنے والے ایک سینئر بیوروکریٹ کو ہاتھ پر ہاتھ دھرے مایوس بیٹھے دیکھ کر وجہ جاننا چاہی تو بزدار صاحب کی ”خوبیوں“ کا ذکر کرنا شروع کردیا، پھر ساتھ ہی یہ رائے دی کہ اگر وفاق میں تبدیلی آجائے تو پنجاب میں بزدار سے بھی کام چل سکتا ہے کیونکہ خرابی کی اصل جڑ اسلام آباد میں ہے۔ یہ سوچ کسی ایک افسر تک محدود  نہیں بلکہ افسر شاہی کے بڑے حلقے کی رائے کی عکاسی کر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں اسٹیبلشمنٹ کا خود کو غیر جانبدار ظاہر کرنا اپوزیشن کی تحریک کے لیے جلتی پر تیل کام دے سکتا ہے۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی قیادت کی کوشش یہی ہوگی کہ خود کو حکومت سے الگ ظاہر کرکے اسی نظام کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے۔ 

 حکومت کے خلاف سیاسی چالیں آصف زرداری خود چل رہے ہیں۔ ان کا اندازہ ہے کہ حکومت کو بتدریج کمزور کرکے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ویسے کچھ غیر متوقع واقعات رونما ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ یہ تو کہا ہی جارہا ہے کہ پنجاب میں حکومتی جماعت کے کئی ارکان ناراض ہیں۔ سندھ اور بلوچستان سے بھی اسی طرح کی خبریں آرہی ہیں۔ مگر بڑا جھٹکا وزیر اعظم عمران خان کے دورہ پشاور کے موقع لگا جب پہلے سے طے شدہ ملاقات کے دوران 20ارکان اسمبلی غیر حاضر ہوگئے۔ جو لوگ ملاقات میں موجود تھے ان کے چہروں پر بھی خوشگوار تاثرات نہیں تھے۔ سرکاری طور پر جو فوٹیج اور تصاویر جاری کی گئیں وہ کشیدہ ماحول کی عکاسی کر رہی تھیں۔ اگلے ہی روز لیاقت جتوئی اور سردار یار محمد رند وزیراعظم عمران خان پر برس پڑے۔ ایک طرف ملک کے اندر کھینچا تانی جاری ہے تو دوسری جانب بیرون ملک سبکی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے تازہ دورہ سری لنکا کو ہی دیکھ لیں۔ان دنوں کو رونا وبا کے باعث انتقال کرنے والے سری لنکن مسلمانوں کے جسد خاکی اسلامی تعلیمات کے مطابق سپرد خاک کرنے کی بجائے نذر آتش کردئیے جاتے ہیں۔ عمران کے دورے سے پہلے تاثر دیا گیا کہ اب مسلمانوں کو تدفین کی اجازت ہو گی۔

مگر حیرت انگیز طور پر دورہ شروع ہونے سے پہلے ہی حکومتی بیان جاری ہوگیا کہ کو رونا سے جاں بحق ہونے والے مسلمانوں کو نذر آتش کرنے کی پالیسی جاری رہے گی۔اہم واقعہ یہ ہوا کہ پاکستانی وزیراعظم سے سری لنکا کے مسلم ارکان پارلیمنٹ کی طے شدہ ملاقات بھی کوئی معقول وجہ بتائے بغیر منسوخ کردی گئی۔ باقی رہ گئیں بڑے بڑے معاہدوں سے متعلق مفاہمت کی یادداشتیں تو ان کی حیثیت وہی ہے جو پی ٹی آئی کے انتخابی منشور کے حوالے سے آج کل پوری قوم دیکھ رہی ہے بلکہ بھگت رہی ہے۔ اصل اور سنگین مسئلہ تو ہمیں اپنے سب سے بڑے دوست اور برادر ملک کے حوالے سے درپیش ہے۔ تقریباً دس سال تک بڑے تعلیمی اداروں میں انگریزی پڑھانے والے ایک پاکستانی پروفیسر کو نیا کنٹریکٹ لیٹر جاری کرکے اچانک منسوخ کردیا گیا۔ ایک لیڈی ڈاکٹر کی ملازمت ختم کرتے ہوئے اسے بتایا گیا کہ ہمیں آپ کے ملک کے حوالے سے زیادہ حوصلہ افزائی نہ کرنے کی ہدایت مل چکی ہے۔ بہر حال اب تک تو پیش رفت اتنی ہی ہے کہ ”مثبت خبریں ڈاکٹرائن“ کی ناکامی تسلیم کر لی گئی ہے۔ دیکھتے ہیں باقی غلطیوں کا اعتراف کب تک کیا جاتا ہے۔ کیا بھی جاتا ہے یا نہیں۔ کیا پاکستان کے 22 کروڑ عوام دائرے میں ہی سفر کرتے رہیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -