پاکستان  مزید چار ماہ کیلئے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود لیکن اس وجہ سے ملک کو اب تک کتنا نقصان ہوچکا؟ سابق وزیرداخلہ برس پڑے

پاکستان  مزید چار ماہ کیلئے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود لیکن اس وجہ سے ...
پاکستان  مزید چار ماہ کیلئے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود لیکن اس وجہ سے ملک کو اب تک کتنا نقصان ہوچکا؟ سابق وزیرداخلہ برس پڑے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کا نام مزید چار ماہ کے لیے فائنشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں رکھا گیا اور اب سابق وزیرِداخلہ پیپلز پارٹی سینیر رہنماء سینیٹر رحمان ملک  کا اس فیصلے پر ردعمل سامنے آگیا، انہوں نے بتایا کہ حکومت پاکستان کو مشورہ ہے کہ صدر فیٹف کی کھوکھلی تعریفوں میں آکر جال میں نہ پھنسے اور  اپنے سخت رد عمل کا اظہار کرنا چاہئے،صدر فیٹف مارکس پلیئر کا پاکستان کی تعریف کرنے کا کیا فائدہ جب گرے لسٹ سے نکالا نہیں؟ گرے لسٹ میں ہونے کیوجہ سے ہم پہلے ہی 38 بلین ڈالر کا نقصان اٹھا چکے ہیں۔

اپنے ایک بیان میں رحمان ملک نے حکومت ایف اے ٹی ایف کے غیر منصفانہ اور جانبدارنہ فیصلے کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جائے،اس سے  بڑی نا انصافی کیاہے کہ پاکستان کو جون 2021 تک دوبارہ گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، کورونا کیوجہ سے مشکل ترین حالات کے باوجود پاکستان نے 27 میں سے 24 مطالبات پر عمل درآمد کیا،  پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کے بجائے نگرانی میں اضافے کا اعلان کردیا گیا، اب پاکستان کو جارحانہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ  پاکستان کو  فیصلے کیخلاف  آئی سی جے میں جانا چاہئے،کیا  پاکستان کا اتنے بڑے پیمانے میں معاشی نقصان کا ازالہ کیا جائے گا، 

پاکستان کی تعریف کو رد عمل نہ دینے سے روکنے کا ایک چال ہے، حکومت بھی اب  ایف اے ٹی ایف کی تعریف کا پرچار کرکے کسی کریڈٹ لینے کی کوشش نہ کرے،  فیصلے سے عوام میں بےچینی پیدا ہوگئی ہے اور  پاکستان پر نگرانی میں اضافے کا فیصلہ نیا ہتھکنڈہ ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -