امریکی صدر بائیڈن کا پہلی مرتبہ سعودی بادشاہ کو فون، امریکی پالیسی میں بڑی تبدیلی آگئی

امریکی صدر بائیڈن کا پہلی مرتبہ سعودی بادشاہ کو فون، امریکی پالیسی میں بڑی ...
امریکی صدر بائیڈن کا پہلی مرتبہ سعودی بادشاہ کو فون، امریکی پالیسی میں بڑی تبدیلی آگئی
سورس:   Twitter/King salman

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ ہفتے امریکی صدر جوبائیڈن کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ معاملات پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ نہیں بلکہ فرماں روا شاہ سلمان کے ساتھ بات کیا کریں گے۔ گزشتہ روز صدرجوبائیڈن نے اپنے اس اعلان پر عملدرآمد کردکھایا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق وائٹ ہاﺅس کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر جوبائیڈن نے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کی ہے، جس میں انہوں نے شاہ سلمان کے ساتھ سعودی عرب میں انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا۔ 

وائٹ ہاﺅس کی طرف سے بتایا گیا کہ ”صدر جوبائیڈن نے سعودی فرماں روا کو بتایا کہ امریکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔“ انہوں نے شاہ سلمان سے کہا کہ وہ امریکہ اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات کو شفاف اور مضبوط بنانے کے لیے حتی الامکان کوشش کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاﺅس کی طرف سے یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا صدر جوبائیڈن نے سعودی فرماں روا سے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے متعلق بات کی یا نہیں۔ 

واضح رہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ کی طرف سے یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ وہ انٹیلی جنس رپورٹ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو جمال خاشقجی کے قتل کی منظوری دینے والے شخص کے طور پر درج کریں گے۔ جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق یہ انٹیلی جنس رپورٹ مستقبل میں کسی بھی وقت منظرعام پر لائی جا سکتی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -