سراج درانی کا تعلق مالدار گھر انے سے ہے، کیس میں نیب سے متعلق اصول وضع کرینگے: چیف جسٹس 

  سراج درانی کا تعلق مالدار گھر انے سے ہے، کیس میں نیب سے متعلق اصول وضع ...

  

 اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطاء بندیال نے آغا سراج درانی کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دور ان ریمارکس دیئے ہیں کہ سراج درانی کیس میں نیب کے حوالے سے اصول وضع کرینگے، سراج درانی کو شاہانہ طرز کی ملنے والی سہولیات کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ جمعہ کو دور ان سماعت چیف جسٹس نے کہاکہ زرعی آمدن اور اراضی کے حوالے سے نیب کے موقف سے مطمئن نہیں، نیب زرعی آمدن اور سراج درانی کے اثاثوں کا دوبارہ جائزہ لے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ عدالت کو ہر لحاظ سے مطمئن کرینگے، کیس میں سراج درانی کے اثاثوں کی وہی مالیت شامل کی جو انہوں نے ادا کی۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ ادائیگیوں سے متعلق آرڈر اور دیگر ریکارڈ عدالت میں پیش کرینگے، سراج درانی عدالت میں کہتے ہیں 894 ایکڑ زمین کے مالک ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ الیکشن کمیشن میں سراج درانی نے 148 ایکڑ زمین ظاہر کی۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ سراج درانی نے نیب کو مکمل ریکارڈ فراہم کیوں نہیں کیا؟۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جو دستاویزات براہ راست سپریم کورٹ میں دی جا رہی ہیں انکا جائزہ کیسے لے لیں، سراج درانی یک دم امیر نہیں ہوئے مالدار گھرانے سے تھے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ سراج درانی نے 1986 سے 2009 تک کوئی سرمایہ کاری نہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ سراج درانی کروڑوں کی گھڑیوں کے مالک ہیں،کسی کو گھڑیوں کا شوق ہوتا ہے کسی کو اسلحہ اور گاڑیوں کا، ہم جیسے لوگ صرف کتابوں والے ہی ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کر دی۔

چیف جسٹس

مزید :

صفحہ آخر -