سندھ میں لوگ تبدیلی کی راہ دیکھ رہے ہیں،ارباب غلام رحیم

سندھ میں لوگ تبدیلی کی راہ دیکھ رہے ہیں،ارباب غلام رحیم

  

ملتان (  نیوز   رپورٹر) سابق وزیر اعلی سندھ اور مشیر وزیر اعظم ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کا کہنا ہے کہ آئین میں اگر گورنر راج موجود ہے تو اسکی وجہ اور استعمال کا طریقہ کار بھی درج ہے۔۔سندھ کے عوام پندرہ سال سے کسمپرسی کا شکار ہیں اور تبدیلی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔سندھ میں 2018کا الیکشن ڈیل کا حصہ تھا۔پیکا آرڈیننس میں غلطیاں ہوئی ہیں جن کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ ملتان کے دوران (بقیہ نمبر3صفحہ6پر)

ملتان پریس کلب کے پروگرام گفتگو میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا سابق وزیر اعلی سندھ اور مشیر وزیر اعظم ڈاکٹر ارباب غلام رحیم مزید کہا کہ سندھ بدامنی اور بیڈ گورننس کا شکار ہے سندھ کے عوام گزشتہ پندرہ سال سے کسمپرسی کا شکار ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ سندھ کی عوام گزشتہ 14،15سال سے متبادل قیادت کی تلاش میں ہیں اس لئے کبھی ایم کیو ایم، نواز شریف اور عمران خان کے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تبدیلی لائیں گے لیکن اب موجودہ حالات میں سندھ مکمل طور پر بدامنی کا شکار ہے کرپشن عروج پر ہے کیونکہ گزشتہ 15سال سے لوگوں کو دباؤ میں رکھا گیا ہے یہاں تک کہ ارکان اسمبلی بھی قتل کی وارداتوں میں ملوث ہیں میری رائے میں سندھ کو یقین نہیں ہونا چاہیے مگر یہ حقیقت ہے کہ سندھ کا سابقہ الیکشن ڈیل کا حصہ تھا جس کے نتیجے میں لوگ ووٹ نہیں لیتے بلکہ منتخب ہوجاتے ہیں۔ارباب غلام رحیم نے سندھ میں گورنر راج لگانے کی افواہوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آئین میں گورنر راج موجود ہے تو اسکو لگانے کا طریقہ کار بھی درج ہے۔۔سندھ کے عوام پیپلز پارٹی کے جھوٹے وعدوں سے تنگ آگئے ہیں اور اب تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی ریلیوں کی وجہ سے سندھ میں اگرچے ٹکراؤ کا کوئی امکان نہیں ہے البتہ کوئی جان بوجھ کر شرارت کرے تو اسے روکا جانا چاہیے۔انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ اس وقت مہنگائی واقع عروج پر ہے اس صورتحال کا مزید جائزہ لیا جانا چاہیے کرونا کی وجہ سے ملکی میشت متاثر ہوئی ہے جسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس وقت گندم کھاد تیل اور دیگر اجناس پوری دنیا میں مہنگی ہیں کرونا اب بھی موجود ہے توقع ہے کہ معیشت جلد مستحکم ہوگی ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد لانے کی باتیں ہیں تو آج تک سینیٹ میں اکثریت کے باوجود اپوزیشن ہمارا کوئی بل نہیں روک سکی اور حکومت کے تمام بل منظور ہوئے ہیں اگر اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک لائی تو ناکام ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی مہربانی ہے کہ وہ سینیٹ میں اکثریت رکھنے کے باوجود بھی حکومتی بل پاس کرا دیتے ہیں اور یہ سلسلہ حکومتی مدت پوری ہونے تک چلتا رہے گا۔عدم اعتماد نہ آیا ہے اور نہ ہی کامیاب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیت ہیں۔جنگ کے حالات کے باوجود انہوں نے روس کا کامیاب دورہ کیا اور وہاں جاکر بھی حکومت سے کہا کہ وہ قیام امن کیلئے بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔امریکی دباؤ کے باوجود وہ اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور آج بھی قومی لباس پہنتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ وزرا کو نمبرنگ کے تحت انعامات دئیے گئے ہیں سیاست میں نمبر نہیں کام دیکھا جاتا ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی خارجہ محاذ پر کامیابیاں بہت زیادہ ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں آزادی صحافت پر یقین رکھتا ہوں پیکا آرڈیننس میں غلطیاں ہوئی ہیں جن کا جائزہ لیا جانا چاہیے تاہم سوشل میڈیا بے لگام ہے جس کا حساب لیا جائے۔قبل ازیں صدر پریس کلب شکیل انجم اور جنرل سیکرٹری نثار اعوان نے ڈاکٹر ارباب رحیم کا خیر مقدم کیا جبکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی نے شکیل انجم اور تمام نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد دی اور یقین دلایا کہ وہ وزیراعظم سے کہیں گے کہ ملتان پریس کلب کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -