دیہی علاقوں کی خواتین بڑے شہروں میں مزدوری پر مجبور

دیہی علاقوں کی خواتین بڑے شہروں میں مزدوری پر مجبور

  

میلسی (نامہ نگار)تحصیل بھر کی  ہزاروں لڑکیاں دیہی مزدوری میں کم اجرت کی وجہ سے کراچی لاہور اور دیگر بڑے شہروں کے سیٹھوں کے گھروں میں " ماسیاں "بن "گئیں۔ اور کئی کوٹھیوں پر گھنٹوں کے حساب سے بہتر اجرت کی بنا پر برتن مانجھنے۔فرش پر پو چا لگانے  کی مزدوری کر کے خاندان کا  پیٹ پالنے لگیں۔جنوبی پنجاب صوبہ بننے سے غریب عوام کو اس معاملے میں کوء فائدہ نہ ہوا گھر کے اخراجات میں مرد کا ہاتھ بٹانے کے لیے غریب گھرانوں کی لڑکیاں شادی سے پہلے اور شادی کے بعد  فالسے توڑنے،چوپے لگانے (فصل خاص طور پر مکئی کابیج زمین(بقیہ نمبر38صفحہ7پر)

 میں دبانے)کھیتوں سے سبزیاں۔کماد۔توڑنے اور کپاس چننے کا کام ملنے تک اپنے علاقوں میں مقیم. رہیں۔وہ گندم کی فصل کاٹنے کی مزدوری بھی لیتی رہیں لیکن جدید ٹیکنالوجی آنے سے گندم کی مزدوری کا خاتمہ پھر پھٹی کے بحران سے کپاس کا چننا ختم ہو گیا تو ہزاروں جنوبی پنجاب کی بیٹیاں گھروں کی ماسیاں بننے پر مجبور ہو چکی ہیں کیونکہ بڑے شہروں میں گھریلو کام کاج پر زیادہ مزدوری ملتی ہے جس سے خاندان پل رہے ہیں۔مگر وہ کام کے لالچ میں  12 /12گھنٹے کء گھروں میں کام کاج کر کے بیمار ہو کر لوٹنے لگی ہیں۔وزیراعظم وزیر اعلی سے جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں سمال انڈسٹریز یا کوء بھی انڈسٹری لگوانے کا عوامی سماجی حلقوں نیمطالبہ کیا ہے۔

مجبور

مزید :

ملتان صفحہ آخر -