میاں چنوں، سیالکوٹ میں تشدد کرنیوالوں کی عمر یں اٹھارہ سے تیس سال تھیں، پولیس 

میاں چنوں، سیالکوٹ میں تشدد کرنیوالوں کی عمر یں اٹھارہ سے تیس سال تھیں، ...

  

ملتان (مانیٹرنگ ڈیسک) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ دیتے ہوئے پنجاب پولیس کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ میاں چنوں میں مبینہ طور پر قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والا شخص ذہنی معذور تھا جسے دو سو سے تین سو کے درمیان لوگوں نے لاٹھیوں‘ ہاکیوں سے مار مار کر قتل کردیا‘ ویڈیوز اور عینی شاہدین سے تفتیش کے بعد چالیس افراد کو زیر حراست لے لیا گیا  ہے۔ یکم جنوری سے اب تک (بقیہ نمبر39صفحہ7پر)

قرآن پاک کی بے حرمتی کے 14واقعات ہوئے ہیں جن میں جرم کے مرتکب تیرہ افراد پولیس کی حراست میں ہیں۔ میاں چنوں واقعے میں پولیس بروقت پہنچ چکی تھی مظاہرین زیادہ ہونے کی وجہ سے معذور شخص و قتل ہونے سے نہیں بچایا جاسکا۔ سیکرٹری انسانی حقوق اور وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا پنجاب میں انتہا پسندی  زور پکڑ رہی ہے سانحہ سیالکوٹ اور میاں چنوں میں تشدد کرنے والے افراد کی عمریں اٹھارہ سے تیس سال تھیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزارت مذہبی امور‘ وزارت داخلہ اور انسانی حقوق ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے موثر پلان پیش کریں جس سے معاشرے میں انتہا پسندی کا خاتمہ ہوسکے۔ جمعہ کے روز سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر ولید اقبال کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن کی جانب سے سینٹ میں میاں چنوں میں ہونے والے مبینہ طور پر قرآن کی بے حرمتی میں ملوث شخص کی تشدد سے ہلاکت کے ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی ولید اقبال نے کہا کہ اس واقعے کا ذکر پیپلز پارٹی کی سینیٹرشیری رحمن نے سینٹ میں اٹھایا تھا جو چیئرمین سینٹ نے قائمہ کمیٹی کو بھیجا ہے تاکہ اس پر رپورٹ مرتب کرکے حالات سے آگاہی حاصل ہوسکے۔ شیری رحمن اس وقت کراچی میں ہیں ان سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ خود تشریف لائیں مگر انہوں نے کہا کہ ان کی سیاسی سرگرمیوں میں مصروفیت کی وجہ سے وہ اجلاس میں شرکت نہیں کرسکتیں جس پر ان کو کہا گیا کہ وہ آن لائن ویڈیو کے ذریعے اجلاس میں شرکت کریں لیکن انہوں نے اس بات کو بھی مسترد کردیا۔ چونکہ ایجنڈے کی ترسیل ہوچکی تھی اور اس پر ڈی آئی جی ملتان رینج احمد سلطان‘ ڈی پی او خانیوال کمیٹی کو اصل حقائق سے آگاہ کرنے کے لئے تشریف لے آئے ہیں اس لئے کمیٹی کا اجلاس منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ اس کو موخر بھی نہیں کرینگے۔ اسی ایجنڈے کو دوبارہ شیری رحمن کی موجودگی میں بھی دوبارہ ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا۔ ڈی پی او خانیوال نے کمیٹی کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ قرآن کی بے حرمتی کرنے والا شخص پاگل انسان تھا جو اپنا ذہنی توازن کھو چکا تھا وہ پہلے اپنے بھائی کے ساتھ کراچی میں رہتا تھا چند ماہ ہوئے وہ اپنی بڑی بہن کے پاس تلمبہ کے قریب دیہات میں رہائش پذیر تھا۔  پولیس حکام کے مطابق ذہنی معذور شخص تین‘ تین چار چار روز گھر سے غائب رہتا جہاں رات آتی وہاں رات گزار لیتا۔ وقوعہ کے روز وہ سڑک کے کنارے ایک چھوٹی مسجد میں جسے ڈیرے کے مالک نے بنایا تھا جہاں پر بہت تھوڑے لوگ  نماز پڑھتے ہیں آنکلا۔جب لوگ مسجد میں آئے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ مسجد میں موجود تھا اور وہاں قرآن کے جلے ہوئے صفحات موجود تھے لیکن وہاں وقوعہ کا کوئی بھی گواہ نہیں تھا، کسی نے بھی اس شخص کو آگ لگاتے ہوئے نہیں دیکھا،پندرہ پولیس اہلکار واقعے کی جگہ پہنچے، پولیس نے شخص کو بچانے کی کوشش کی لیکن پولیس کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے  بتایا کہ موقع پر بنائی گئی وڈیوز میں جو لوگ دیکھے جا سکتے ہیں ان کو پکڑ لیا ہے۔  300 لوگو ں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ واقعے میں ملوث 130 لوگ گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ  تین لوگوں کا تعلق ٹی ایل پی کے ساتھ ہے۔پولیس حکام نے بتایا کہ ملزمان کی عمریں اٹھارہ سے تیس سال تھیں جبکہ سیالکوٹ میں بھی ملزمان کی عمریں اٹھارہ سے تیس سال تھیں۔ پنجاب میں خوفناک حد تک انتہا پسندی پھیل رہی  ہے جس کا سدباب انتہائی ضروری  ہے۔ سیکرٹری انسانی حقوق نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں انتہا پسندی کی  بڑی وجہ سوشل میڈیا ہے۔ یہ کہنا مبالغہ ہوگا کہ انتہا پسندی میں صرف کم پڑھے لکھے لوگ راغب ہوتے ہیں دہشت گردی کے واقعات میں ڈاکٹر‘ انجینئر‘ آئی ٹی ماہرین ملوث پائے گئے۔ اس سلسلے میں نصاب کو تبدیل کرنا ہوگا۔

پنجاب پولیس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -