روس کی دوسرے روز بھی بمباری، پیش قدمی جاری،چر نوبیل ایٹمی پلانٹ، 2جزیروں پر قبضہ کیف کے مضافات میں گھمسان کی لڑائی، یوکرین: ہزاروں پاکستانی محصور

روس کی دوسرے روز بھی بمباری، پیش قدمی جاری،چر نوبیل ایٹمی پلانٹ، 2جزیروں پر ...

  

 کیف (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) روس کی یوکرین میں پیش قدمی جاری ہے، بحیرہ اسود میں 2 اہم جزیروں زمینی اور اسنیک پر قبضہ کر لیا۔ لڑائی میں سیکڑوں یوکرینی فوجی،ہلاک ہو گئے۔روسی فوج کے یوکرائن کے فوجی اہداف پر بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے حملے جاری ہیں، ایئر بیس پر کنٹرول کیلئے دارالحکومت کیف کے مضافات میں گھمسان کی لڑائی ہے۔ روسی حمایت یافتہ جنگجو بھی اسلحہ اٹھائے کیف میں داخل ہو گئے ہیں۔روسی فوجیوں نے چرنوبیل ایٹمی پلانٹ پر قبضہ کرلیا ہے، فوجی تنصیبات کو تیس سے زائد بار نشانہ بنایا گیا، گیارہ ایئر فیلڈز، ایک بحری اڈہ تباہ کرنے، ایک ہیلی کاپٹر اور چارڈرون گرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ کروز میزائلوں کا بھی بھرپور استعمال جاری ہے۔ کیف، سومائے اور خیرسن کے اطراف میں بھی فریقین میں شدید لڑائی جاری ہے۔روسی افواج کی حملے کے دوسرے روز  تیزی سے یوکرین کے دارالحکومت کیف کی طرف پیش قدمی جاری ہے اور روسی فوج  یوکرینی پارلیمنٹ کی عمارت سے  چندکلومیٹر کے فاصلے پررہ گئی ہے، کیف و دیگر شہروں میں دھماکے، راکٹ اور فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں درجنوں افراد ہلاک اورسینکڑوں زخمی ہوگئے جبکہ ایک لاکھ سے ازئد بے گھر ہوگئے، بمباری  سے بچنے کیلئے کیف میں عوام کی بڑی تعداد زیر زمین ٹرین اسٹیشنز اور سرنگوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، یوکرینی حکومت  نے دارالحکومت میں لڑائی کیلئے تیار شہریوں کو18 ہزار مشین گنز فراہم کردیں، روس کا  لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا ہے اور روسی فوج سے کیف کے نواح میں واقع ائیرپورٹ کا کنٹرول واپس لے لیا گیا ہے۔۔ تفصیلا ت کے  مطابق  روسی افواج حملے کے دوسرے روز  تیزی سے یوکرین کے دارالحکومت کیف کی طرف پیش قدمی جاری  رکھے ہوئے ہیں  جبکہ یوکرینی صدر ولودومیر زیلینسکی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ یوکرینی شہری جو لڑنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ ملک چھوڑ کر جانے کے بجائے فوج کا ساتھ دیں۔یوکرینی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے کیف میں لڑائی کیلئے تیار شہریوں میں 18 ہزار مشین گنز فراہم کردی ہیں۔یوکرین میں روس کے حملے کے پہلے روز  137 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے اور  جمعہ کودوسرے روز بھی دارالحکومت کیف و دیگر شہروں میں دھماکے، راکٹ اور فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے بچنے کیلئے کیف میں عوام کی بڑی تعداد زیر زمین ٹرین اسٹیشنز اور سرنگوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔کیف سے بڑی تعداد میں شہری دیگر علاقوں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں اور سڑکوں پر شدید رش ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد اب تک بے گھر ہوچکے ہیں۔ یوکرینی کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج پارلیمان کی عمارت سے 9 کلو میٹر دور شمالی ضلع اوبولان میں موجود ہے۔یوکرین کی فورسز نے دعوی کیا ہے کہ وہ روسی فوجیوں کی پیش قدمی روکنے کیلئے شدید مزاحمت کر رہی ہے جبکہ روس کا  لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا ہے اور روسی فوج سے کیف کے نواح میں واقع ائیرپورٹ کا کنٹرول واپس لے لیا گیا ہے اور    روسی حملوں کے آغاز  سے اب تک ایک ہزار  روسی فوجیوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔۔برطانوی میڈیا کیمطابق یوکرین کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ دشمن کیف میں موجود پارلیمان کی عمارت سے 9 کلومیٹر دورشمال میں واقع اوبولان ڈسٹرکٹ میں موجود ہے۔یوکرینی وزارت دفاع نے مقامی افراد کو فی الفور محفوظ مقامات پر پناہ لینے جبکہ لڑائی کے قابل افراد کو مزاحمت کرنے کی ہدایت کی ہے۔یوکرینی فوج کے چیف آف اسٹاف کا کہنا ہے کہ روس دارالحکومت کیف پر حملے کیلئے پڑوسی ملک بیلاروس کی گومل ائیر فیلڈ استعمال کر رہا ہے۔ یوکرین کی آبادی کو خوفزدہ کرنے کیلئے دشمن سول انفرا اسٹرکچر اور گھروں کو تباہ کررہاہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت جمعہ کی صبح دھماکوں کی آواز سنی گئی۔مشیر یوکرین حکومت نے بھی دوسرے روز روسی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دارالحکومت کیف میں کروز اور بیلسٹک میزائلوں سے حملے جاری ہیں۔یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ روس نے دارالحکومت کیف کے رہائشی علاقے میں میزائل داغے جبکہ یوکرین کے ائیر ڈیفنس نظام نے روسی فوج کے 2 مہلک حملوں کو  تباہ کر دیا۔کیف کے میئرکا اس حوالے سے بتانا ہے کہ روسی میزائل کا ملبہ رہائشی عمارت پر گرا جس سے 3 افراد زخمی ہوئے، میزائل کا ملبہ گھر پر گرنے سے آگ لگ گئی ہے۔ادھر یوکرینی حکام نے کیف میں روسی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی طیارہ دارالحکومت کیف کے دارنتسکی ضلع پر مار گرایا گیا ہے۔دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فوج یوکرین کے دارالحکومت کیف سے 20 میل کے فاصلے تک پہنچ گئی ہے۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے شکوہ کیا ہے کہ روس سے لڑنے کے لیے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ روس کے ساتھ پہلے روز کی لڑائی میں 137 افراد ہلاک ہوئے۔ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یورپ کے 27 رہنماؤں سے پوچھا یوکرین نیٹو میں شامل ہو گا؟ ہر کوئی ڈرتا ہے اور جواب نہیں دیتا لیکن ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس سے لڑنے کے لیے یوکرین کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔دوسری جانب یوکرین کے وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج کے قبضے سے کیف ائیرپورٹ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔دریں اثنا امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ پیوٹن بین الاقوامی سطح پر کم تر ثابت ہوئے ہیں۔ امریکی فورسز یوکرین میں نہیں لڑیں گی۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق بائیڈن نے ماسکو پر نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ روسی جارحیت کی قیمت روس  وقت کے ساتھ ساتھ معاشی اور اقتصادی پابندیوں کی شکل میں ادا کرے گا۔ روس نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ اس ننگی جارحیت کیذمہ دار روسی صدر ہیں۔۔انھوں نے اس کے ساتھ یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ ان کا اپنے روسی ہم منصب سے بات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ امریکہ وزارت دفاع پینٹاگون  نے کہا ہے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے پیش نظر امریکا نے بحیرہ اسود اور بحیرہ بالٹک کے علاقوں میں اپنے جنگی جہاز پہنچا دئیے ہیں‘ روس کی حالیہ فوجی مہم یوکرین پر وسیع قبضے کا پیش خیمہ ہے‘ روسی فوج تین اطراف سے یوکرین میں پیش قدمی کر رہی ہے‘ امریکی فضائیہ کے ایف35 لڑاکا طیارے نیٹو فوج کی مشترکہ مہم کا حصہ ہوں گے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ نیٹو ملکوں کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ امریکا نے روس سے جرمنی تک گیس پائپ لائن نارڈ اسٹریم ٹو پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ روس کی حالیہ فوجی مہم یوکرین پر وسیع قبضے کا پیش خیمہ ہے روس اور یوکرین کے مابین جنگ کی وجہ سے یورپین یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے نیا سیفٹی بلیٹن جاری کر دیا ہے۔یورپی یونین نے روس اور یوکرین سمیت اطراف میں سویلین پروازوں پر 90 روز کے لیے پابندی عائد کر دی ہے، یورپی یونین کے ممالک سمیت تھرڈ کنٹری کی ایئر لائنز پروازوں پر بھی پابندی عائد ہوگی۔سیفٹی بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ایئر اسپیس میں جاری جنگ میں راکٹ اور میزائل سے طیاروں کو خطرہ ہے، ایاسا کی پابندی کا اطلاق 24 فروری تا 24 مئی کے لیے ہوگا۔امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرین کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کریں گے۔امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ اتھونی بلنکن نے کہا کہ  یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دوسرے بڑے شہروں پر حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ شمال، مشرق اور جنوب سے ملک پر کثیر الجہتی حملے روسی منصوبے کا حصہ ہے۔ یوکرین پر حملے کے سبب امریکی صدر جوبائیڈن نے روس کے خلاف سخت پابندیوں کا اعلان کر دیا۔ روسی بینکوں کے امریکہ اور برطانیہ میں اثاثے منجمد کر دیئے گئے، امریکا نے روس کے نائب سفیر کو ملک سے نکلنے کا حکم دیدیا،دوسری طعف روس کے صدر ولادیمیر پوٹن  نے یوکرینی فوج سے کہا ہے کہ وہ دارالحکومت کیؤ میں موجود قیادت کو ہٹادیا،روسی صدر نے کیف کے صدر کیساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی

روسی حملہ

 کیف (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے باعث پاکستانی سفارتخانہ دارالحکومت کیف سے ٹرنوپل شہر منتقل کر دیا گیا ہے۔یوکرین میں پاکستانی سفیر نویل کھوکھر کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتخانہ ٹرنوپل میں آج سے مکمل فعال ہو گا، یوکرین سے نکلنے کے لیے تمام طلباء  فوری ٹرنوپل پہنچیں۔نویل کھوکھر نے مزید کہا کہ یوکرین میں خار کیف سے ٹرنوپل کے لیے ٹرین سروس موجود ہے، ٹرانسپورٹ نہ ملنے پر سفارتخانے کے تعلیمی مشیر کی خدمات حاصل کریں۔پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ تعلیمی مشیر ٹرانسپورٹ نہ ملنے پر پاکستانی طلباء  کو ٹرنوپل پہنچائیں گے، کیف اور ٹرنوپل میں طلباء  کی مدد کے لیے دو فوکل پرسن تعینات ہیں۔ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف شہروں میں  موجود ہزاروں پاکستانی بھی محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔پاکستانی شہری یوکرین میں پھنس گئے اور پاکستانی سفارت خانے کے رویے پر پھٹ پڑے۔پاکستانی شہریوں کا کہنا ہے کہ سفارت خانے نے جھوٹ بولا، بے یار و مددگار چھوڑ دیا، پہلے دارالحکومت کیف بلایا، جب ہزاروں روپے خرچ کرکے کیف پہنچے تو سفارت خانے نے ہاتھ کھڑے کردیے اور اب دوسرے شہر ٹرنوپل جانے کا مشورہ دے دیا۔پاکستانی شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پیسے ختم ہوگئے ہیں،اے ٹی ایم بھی بند ہیں، کھانے پینے کے لالے پڑ گئے،کہاں جائیں، کس کو مدد کے لیے بلائیں؟کوئی پوچھنے والا نہیں۔یوکرین کے دارلحکومت کیف میں شدید لڑائی کی وجہ سے محصور پاکستانی طلبہ  نے بھی پاکستانی سفارت خانے سے مدد کی اپیل کی ہے۔بنکرز اور زیر زمین سرنگوں میں پناہ لیے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ سفارت خانہ باہر نکلنے کیلئے کوئی تعاون نہیں کر رہا، سفارتخانے سے کوئی پیغام نہیں آیا،لاوارثوں کی طرح پڑے ہیں،کھانے پینے کیلئے کچھ نہیں، پہلے کہا کیف آجائیں پھر کہا کیف محفوظ شہر نہیں، کیا کریں کہاں جائیں،کوئی پرسان حال نہیں۔ادھریوکرین میں پھنسے پاکستانیوں کیلئے یورپی ملک پولینڈ نے اہم فیصلہ کرلیا۔پولینڈ میں پاکستانی سفارت خانے کے بیان کے مطابق پاکستانی شہری 15 روز کے اندر زمینی راستے سے پولینڈ میں داخل ہوسکتے ہیں۔پاکستانی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ تمام افراد کیلئے کورونا 19 کی پابندیاں اور ویکسینیشن کی شرط معطل کردی گئی ہے۔پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز(پی آئی اے)نے یوکرین میں پھنسے طلبہ کو نکالنے کے لیے خصوصی فضائی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کر دیا،ترجمان پی آئی اے کے مطابق یوکرین میں موجود دو ہزار پاکستانی طلبہ کو وطن واپس لانے کے لیے پولینڈ سے فضائی آپریشن شروع کیا جائے گا، تمام طلبہ کو یوکرین کے شہر ترنوپل میں اکٹھے ہوں گے جہاں سے پاکستانی سفارت خانہ زمینی راستے سے  تمام طلبہ کو پولینڈ پہنچائے گا، پی آئی اے کا بوئنگ 777 طیارہ پولینڈ سے طلبہ کو وطن واپس پہنچائے گا، اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سی ای او پی آئی اے اور یوکرین میں پاکستانی سفیر میجر جنرل(ر)نوئل کھوکھر کے درمیان رابطہ ہوا ہے،سی ای او پی آئی اے کی پیش کش پر یوکرین میں موجود 2ہزار پاکستانی طالبعلموں کی وطن واپسی کے لیے آپریش کی تیاری کرلی گئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق طالب علموں کے پولینڈ پہنچتے ہی پرواز روانہ کردی جائے گی، ہم وطنوں کو ان کے گھروں تک واپس پہنچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔  

پاکستانی شہری

مزید :

صفحہ اول -