چل بسے عطاء الرحمن، کردار میں گفتار میں اللہ کی برہان 

  چل بسے عطاء الرحمن، کردار میں گفتار میں اللہ کی برہان 

  

       لاہور(فلم رپورٹر،جنرل رپورٹر)سینئر صحافی،تجزیہ نگار،کالم نگاراور گروپ ایڈیٹر نئی بات عطاء الرحمن کواچھرہ کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیاوہ  جمعہ کوانتقال کرگئے تھے۔مرحوم کچھ عرصہ سے شوگر اور گردوں کے عارضہ میں مبتلاتھے۔ ان کی نماز جنازہ پاکستانی چوک اچھرہ میں قاری محمد حفیظ نقشبندی نے پڑھائی جس میں مدیر اعلیٰ روزنامہ پاکستان مجیب الرحمن شامی،ایڈیٹرعمر مجیب شامی، سلمان غنی،نعیم مصطفےٰ، اعجاز چوہدری،ڈاکٹر فرید پراچہ،خالد ہمایوں،عرفان صدیقی،ایاز شجاع،عامر وقاص،محمد عثمان،نوید چوہدری، محمد فاروق،ارشد محمود،نجم ولی خان،نصر اللہ ملک،ڈاکٹر منشی محمد کریم جان،افضال ریحان،اہل علاقہ سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔عطاء الرحمن مرحوم نے اپنی صحافتی زندگی کا آغازروزنامہ نوائے وقت میں تجزیہ نگار کی حیثیت سے کیا اور اسی اخبار میں ان کا کالم ”تجزیہ“کے نام سے شائع ہوتا رہا۔ روزنامہ جنگ اور پاکستان میں بھی ان کے کالم عرصہ دراز تک شائع ہوتے رہے۔مرحوم نے ہفت روزہ زندگی کے ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور بطور وزٹنگ پروفیسر سپیرئیر گروپ آف کالجز اور جامعہ پنجاب میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ ملکی اور بین الاقوامی حالات پر عطاء الرحمن کی گہری نظر تھی ان کی گفتگو اور تحریر دونوں میں استدلال بنیادی وصف ہوتا تھا ان کا شمار ممتاز اہل قلم میں کیا جاتا تھا جنہوں نے پاکستان میں جمہوریت اور اسلامی اقدار کیلئے اپنی توانائیاں وقف کیے رکھیں۔مرحوم وسیع المطالعہ اور عالمی امور پر بے پناہ دسترس رکھتے تھے جن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں اور ان کا خلاء تادیر پر نہیں کیا جاسکے گا۔وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے جبکہ مرحوم کی کئی تصانیف مختلف دانشگاہوں میں بطور نصاب بھی پڑھائی جا رہی ہیں اور ان کے شاگرد وں کی بڑی تعداد الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں خدمات انجام دے رہی ہے عطاء الرحمن کی وفات پر اہل علم و دانش،ممتاز صحافیوں اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ مرحوم کی شخصیت اور صحافتی و علمی خدمات نو آموز صحافیوں کیلئے مشعل راہ اور قابل تقلید ہیں۔قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے سینئر مدیر، کالم نگار اور صحافی عطاء الرحمن کی وفات پر رنج وغم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ عطاء الرحمن اسلام، نظریہ پاکستان اور مشرقی اقدار کے امین تھے،انہوں نے تمام عمر اپنے قلم کی حرمت کی پاسبانی کی اور اس کی سیاہی کو گدلا نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے کہاکہ وہ پختہ نظریات کے ساتھ پاکستان کے قومی مفادات، عوامی حقوق کے تحفظ، اسلامی، مشرقی اورجمہوری اقدار کے لئے قلمی مورچے پر ڈٹے رہے۔وزیر داخلہ شیخ رشید احمد،وزیر مملکت اطلاعات ونشریات فرخ حبیب،مسلم لیگ (ق)کے صدرو شجاعت حسین، سپیکر پنجاب اسمبلی پرویزالٰہی،وفاقی وزیر آبی وسائل مونس الٰہی نے کہاکہ عطاء الرحمن کے انتقال کی خبر سن کر بہت صدمہ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ عطاء الرحمن کے خاندان اور نئی بات کے سٹاف کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے شعبہ صحافت اور تعلیم میں معاشرے کی بہتری کیلئے لازوال کام کیا۔ 

عطاء الرحمن 

مزید :

صفحہ اول -