زرداری کی منصورہ آمد نے سراج الحق کو آزمائش میں ڈال دیا

  زرداری کی منصورہ آمد نے سراج الحق کو آزمائش میں ڈال دیا

  

لاہور (تجزیہ:میاں اشفاق انجم) کیا آصف علی زرداری کی تحریک عدم اعتماد عمران خان سے نجات کی آڑ میں پنجاب مسلم لیگ (ن) سے لے کر مسلم لیگ(ق) کو دینے کے لئے ہے،سوالات اٹھنا شروع ہو گئے، چھ سال پہلے میاں نواز شریف نے وزارت اعلیٰ پرویز الٰہی اور وزیراعظم شہباز شریف کو بنانے کی زرداری کی تجویز تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا،کیا آصف علی زرداری مولانا فضل الرحمن کوصدر یوسف رضا گیلانیکو چیئرمین سینیٹ،  شہباز شریف کو وزیراعظم، پرویز الٰہی کووزیراعلیٰ پنجاب  بنانے اور سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا کو نہ چھیڑنے کی تجویز کس ایجنڈے کی تکمیل کے دے رہے ہیں۔ مونس الٰہی کے سپیکر قومی اسمبلی کو فون اور پی ٹی آئی کے وفد کی ایم کیو ایم کے دفتر آمد نے عدم اعتماد تحریک کے غبارے میں سوراخ کر دیا ہے۔آصف علی زرداری کی منصورہ آمد اور ووٹ مانگنے کی درخواست نے سراج الحق کو آزمائش میں ڈال دیا،کیونکہ سراج الحق کی 9سالہ سیاسی جدوجہد مسلم لیگ(ن)، پیپلزپارٹی کو ملک کی تباہی، کرپشن کی پیداوار قرار دینے پر محیط ہے۔اعتزاز احسن پی ڈی ایم کو ناقابل اعتبار اور مسلم لیگ(ن) کا ایک بڑا حلقہ زرداری پر اعتبار نہ کرنے پر زور ے رہا ہے۔یاد رہے چھ سال پہلے بھی آصف علی زرداری نے فارمولہ دیا تھا شہباز شریف کو وزیراعظم،پرویز الٰہی کو پنجاب دینے کی تجویز دی گئی تھی، میاں نواز شریف نے دو ٹوک انداز میں فارمولہ مسترد کر دیا تھا۔عدم اعتماد کی تحریک میں اچانک تیزی پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں،کیونکہ تین سال سے بلاول عدم اعتماد کے ذریعے، جبکہ پی ڈی ایم احتجاجی تحریک کے ذریعے حکومت سے نجات پر زور دے رہے تھے۔ مریم نواز اور بلاول میں قربت ختم ہونے کی وجہ بھی وزارت عظمیٰ ہی بنی تھی، مارچ کے مہینے کو اہم قرار دینے والے حلقے حیران ہیں۔ پی ڈی ایم کی جماعتوں اور پیپلزپارٹی میں سے آئندہ کس پارٹی کا وزیراعظم لیا جائے۔شہباز شریف کو مریم نواز وزیراعظم کی حیثیت سے قبول کرے گی؟ پرویز الٰہی وزیراعلیٰ بنتے ہیں تو ان کے ساتھ پیپلزپارٹی کی کیا حیثیت ہو گی۔ مریم نواز کے حلقے نے زرداری فارمولے کو میاں نواز شریف کی رضامندی سے مشروط کر دیا ہے،ناں ہونے کی صورت میں تحریک عدم اعتماد ٹائیں ٹائیں فش۔

تجزیہ اشفاق انجم

مزید :

صفحہ اول -