عمرا ن خان کا دورہ روس، امریکہ نے نیشنل بینک پر 50.4ملین ڈالر جرمانہ کر دیا

  عمرا ن خان کا دورہ روس، امریکہ نے نیشنل بینک پر 50.4ملین ڈالر جرمانہ کر دیا

  

        کراچی (خصوصی رپورٹ) وزیر اعظم عمران خان کے کامیاب روسی دورے کے بعد، امریکی حکام نے نیشنل بینک آف پاکستان پر اینٹی منی لانڈرنگ کی مبینہ خلاف ورزیوں پر 50.4 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو بورڈ نے اینٹی منی لانڈرنگ کی مبینہ خلاف ورزیوں پر نیشنل بینک آف پاکستان کے خلاف 20.4 ملین ڈالر جرمانے کا اعلان کیا ہے۔ بورڈ فرم سے اپنے اینٹی منی لانڈرنگ پروگرام کو بہتر بنانے کا بھی مطالبہ کرے گا۔ جیسا کہ نیشنل بینک آف پاکستان کے خلاف رضامندی کے بند اور باز رہنے کے حکم میں تفصیل سے بتایا گیا ہے، فرم کے ریاستہائے متحدہ کے بینکنگ آپریشنز نے م ¶ثر رسک مینجمنٹ پروگرام یا کنٹرولز کو برقرار نہیں رکھا جو منی لانڈرنگ مخالف قوانین کی تعمیل کرنے کے لیے کافی ہے۔ دریں اثنا، سپرنٹنڈنٹ آف فائنانشل سروسز ایڈرین اے ہیرس نے جمعرات کو اعلان کیا کہ نیشنل بینک آف پاکستان اور اس کی نیویارک برانچ نے نیویارک اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف فنانشل سروسز (DFS) کے ساتھ کیے گئے رضامندی کے آرڈر کے تحت 30 ملین ڈالر جرمانے کی ادائیگی پر اتفاق کیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ ہیرس نے دعویٰ کیا کہ ''نیشنل بینک آف پاکستان نے اپنی نیویارک برانچ میں کئی سال تک ریگولیٹری انتباہات کے باوجود سنگین تعمیل کی کمیوں کو برقرار رہنے دیا۔'' واضح رہے کہ جمعرات کو وزیراعظم عمران خان اور صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان کریملن میں سربراہی ملاقات ہوئی۔نیشنل بینک کے ذریعے کے مطابق نیشنل بینک کا امریکی فیڈرل ریزرو بورڈ، فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک اور نیو یارک اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ آف فائی نینشل سروسزجو نیشنل بینک کی نیویارک برانچ کا امریکی ریگولیٹری ادارہ ہے کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا ہے۔معاہدے میں مجموعی طور پر 55.4ملین ڈالر کے جرمانے شامل ہیں اورتاریخی مطابقت پروگرام(historical compliance program) کی کمزوری اور عمل درآمد میں بہتری و عمدگی میں تاخیرکی جانب توجہ مبذول کی گئی ہے جبکہ رقوم کی بے جا آمدورفت یا قصداًغلط روی کے حوالے سے کسی بھی قسم کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ نیو یارک برانچ مئی 2020سے نئی انتظامیہ کے زیرِ نگرانی خدمات انجام دے رہی ہے اوراس کے مطابقت پروگرام کو آگے بڑھانے میں قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ امریکی ریگولیٹری اداروں نے نئی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی متعدد مثبت تبدیلیوں کو تسلیم کیا ہے۔نیشنل بینک آف پاکستا ن اور نیویارک برانچ امریکی ریگولیٹری اداروں کی توقعات کی تشفی کے لیے پوری طرح ثابت قدم ہے۔

مزید :

صفحہ اول -