پنک بس سروس تاحال بحال نہ ہو سکی، خواتین ٹریفک مسائل سے پریشان 

پنک بس سروس تاحال بحال نہ ہو سکی، خواتین ٹریفک مسائل سے پریشان 

  

      لاہو(دیبا مرزا سے)صوبائی دارالحکومت میں ورکنگ ویمنز اور تعلیم کے حصول کے لئے گھر سے نکلنے والی خواتین کیلئے ٹرانسپورٹ کے مسائل روز بروز بڑھنے لگے۔ پٹرول کی قیمت میں لگاتار اضافے کے باعث پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کا استعمال خواب بن کر رہ گیا۔ بسوں کے انتظار میں سڑکوں پر گھنٹے انتظار کرنا معمول بن گیا۔ دوسرے جانب ایل ٹی سی کی جانب سے خواتین کیلئے چلے جانے والی پنک بس سروس بھی تاحال بحال نہ ہوسکی۔تفصیلات کے مطابق شہر بھر میں کام کرنے والی خواتین اور طالبات کو ٹرانسپورٹ کے حوالے سے شدید پریشانی کا سامنا ہے پیٹرول کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ نے عام آدمی کے لیے زندگی کاپہہ چلانا مشکل کر دیا ہے خواتین کو بسوں کے انتظار کے لئے بس سٹاپ گھنٹوں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔اس حوالے سے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے ورکنگ ویمن اور طالبات خالدہ یوسف،اقرا، روبینا،حنا،نبیلہ،سدرہ،سمراکا کہنا ہے کہ جب سے ایل ٹی سی کی بسیں چلنا بند ہوئی ہیں ہمیں شدید مشکلات کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ سپیڈو بس کی وجہ سے سہولت تو ہے لیکن ہمیں دو سے تین دفعہ بسیں بدلنے پڑتے ہیں اور کرایہ بھی زیادہ لگ جاتا ہے جبکہ ایل ٹی سی کی بس کا کرایہ صرف ایک دفعہ ہی دینا پڑتا تھا اور ایک مخصوص ٹائم پر ہم اپنی منزل پر بھی پہنچ جاتے تھے انہوں نے کہا کہ پہلے تو ہمیں پنک بس سروس کی بھی سہولت حاصل تھی لیکن اب وہ بھی ایک عرصہ سے بند ہو گئی ہے۔ یہ سروس بند ہونے کے بعد ہم نے رکشے یا پھر پرائیویٹ سواری استعمال کرنا شروع کر دیں لیکن جب سے پٹرول کی قیمتوں میں لگاتار ضافہ ہوا ہے پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کا استعمال بھی خواب میں ہی کر سکتے ہیں۔ اتنی ہماری تنخواہیں نہیں ہیں جتنا کرایہ لگ جاتا ہے ہم کرایہ پورا کریں یا پھر اپنے بچوں کا پیٹ پالیں۔ حکومت کو چاہیے کہ خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ کے مسائل کو فوری طور پر حل کرے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ٹرانسپورٹ کا ہے جس کو اولین بنیادوں پر حل ہونا چاہیے۔

 واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے خواتین کی سہولت کے لیے چلائی جانے والی پنک بس سروس تاحال بند ہے اس کے متبادل کوئی بھی بس سروس نہیں چلائی گئی جبکہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر بھی ہر حکومت  کی جانب سے  خواتین کے ٹرانسپورٹ کے مسائل کو حل کرنے کے لئے  منصوبوں کا  بنا ئے گئے جن میں خواتین کو اسکو ٹیز  دینا بھی شامل تھا لیکن آج تک خواتین کا ٹرانسپورٹ کے حوالے سے مسائل جوں کے توں موجود ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -