تحفظ والدین قانون کا غلط استعمال تشویشناک ہے، اشرف عاصمی

 تحفظ والدین قانون کا غلط استعمال تشویشناک ہے، اشرف عاصمی

  

 لاہور(سٹی رپورٹر)انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے مرکزی سینئر نائب صدر میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ تحفظ والدین قانون کا غلط استعمال چوتھی بیوی کی ایما پر 74 سال کی پہلی بیوی کو گھر سے بے دخل کرنے کیلئے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق 82 سالہ الحاج محمد نواز نے چار شادیاں کیں اور اب وہ چوتھی بیوی کے ساتھ ڈیفنس لاہور میں رہائش پذیر ہے۔ پہلی 74 سالہ  بیوی گلبرگ میں رہائش پذیر ہے جس کو الحاج محمد نواز کی چوتھی بیوی کی ایما ء پر گھر سے بے دخلی کروانے کے لیے ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں درخواست دی گئی ہے۔ حالانکہ کے قانون کے مطابق اگر اولاد والدین کو گھر سے نکالے تو پھر والدین ڈپٹی کمشنر کو درخواست دے سکتے ہیں لیکن اِس کیس میں تو باپ کئی سالوں سے چوتھی بیوی کے ساتھ ڈیفنس میں رہائش پذیر ہے۔ الحاج محمد نواز کی پہلی بیوی کا کہنا ہے کہ مجھے چوتھی بیوی کی ایما پر گھر سے نکالنے کے لیے یہ کاروائی کی جارہی ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔اِس حوالے سے متاثرہ خاتون نے رٹ پٹیشن  بھی دائر کردی ہے جس پر لاہو رہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کردیا ہے۔ متاثرہ خاتون نے مطالبہ کیاہے کہ اْنکے خلاف کاروائی روکی جائے اور انھیں ظلم سے بچایا جائے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -