احسان

احسان

  

    میرا گھر ایک بہت خوبصورت اور سرسبز علاقے میں ہے،جہاں پھولوں سے لدے ہوئے درخت اور خوشنما پودے ہیں۔گھر کے قریب بھی ایک بڑا سا درخت ہے۔کچھ عرصے پہلے اس پر نہ جانے کہاں سے ایک بندر آ کر درخت پر رہنے لگا۔

    محلے کے بچے اس سے بہت خوش رہتے،کیونکہ بندر نے کبھی انھیں تنگ نہیں کیا،بلکہ اپنی نت نئی شرارتوں سے وہ بچوں کا دل بہلاتا۔میری اپنی گیارہ سالہ بیٹی منہل اور دو سالہ بیٹا علی اس کو کچھ نہ کچھ کھانے کو دیتے رہتے،مگر مجھے بندر سے نہ جانے کیوں چڑ تھی۔

    میں اکثر اپنے شوہر سے کہتی:”محلے والوں سے کہہ کر اس بندر کو کہیں چھوڑ آئیں۔“

    میرے شوہر ناراضی سے کہتے:”اس بے چارے نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا،تمہیں اس سے نہ جانے کیا بیر ہے۔“

    میں کہتی:”اچھا کم از کم بچوں کے کمرے کی کھڑکی میں جالی وغیرہ ہی لگوا دیں۔“

    وہ درخت بچوں کے کمرے کے قریب ہی تھا،جس پر بندر بیٹھا رہتا تھا۔میں اکثر تازہ ہوا کے لئے کھڑکی کے پٹ کھول دیا کرتی تھی۔

    میرے شوہر نے سوالیہ لہجے میں پوچھا:”کیا کبھی بندر اندر آیا یا کمرے میں گھس کر کوئی نقصان پہنچایا؟“ان کی مرضی دیکھ کر میں بھی خاموش ہو گئی۔

    چند دن بعد حسب معمول منہل سکول اور شوہر آفس گئے ہوئے تھے۔علی سو رہا تھا اور میں باورچی خانے کے کاموں میں مصروف تھی کہ اچانک علی کے چیخنے کی آواز آئی۔میں فوراً کمرے کی طرف بھاگی۔کمرے کا منظر دیکھ کر میں سکتے میں کھڑی رہ گئی۔

    اس منظر نے مجھے اپنا ایک منفی خیال ہمیشہ کے لئے بدلنے پر مجبور کر دیا۔بندر نے تقریباً دو فٹ کا سانپ دْم سے پکڑ رکھا تھا اور اس کا سر فرش پر پٹخ پٹخ کر مار رہا تھا۔کچھ ہی دیر میں سانپ بے جان ہو گیا۔اچانک علی کی آواز سن کر میں ہوش کی دنیا میں واپس آ گئی۔

    میں نے لپک کر علی کو گود میں لے لیا۔

    بندر نے سانپ کو ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا۔اس نے کھڑکی سے باہر چھلانگ لگائی اور باہر رکھے کوڑے دان میں سانپ پھینک کر دوبارہ درخت پر بیٹھ گیا۔علی نے بندر کو دیکھ کر تالیاں بجائیں۔بندر نے علی کو خوش دیکھ کر درخت پر کودنا شروع کر دیا۔میری آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے۔

     

مزید :

ایڈیشن 1 -