نور مقدم کیس کا تاریخی فیصلہ

نور مقدم کیس کا تاریخی فیصلہ

  

اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عطا ربانی نے نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم ظاہر جعفر کو سزائے موت اور مجموعی طور پر37 سال قید کی سزا سنا دی۔اس طرح اُس کیس کا فیصلہ آ گیا جس نے پوری قوم کو صدمے،غم اور خوف سے دوچار کر دیا تھا۔یہ قتل 20جولائی 2021ء کو اسلام آباد میں ظاہر جعفر کی رہائش گاہ پر کیا گیا تھا۔ اسلام آباد پولیس نے تھانہ کوہسار میں اُس بھیانک واردات کا مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کیا، ظاہر جعفر نے نور مقدم کو بڑی بے دردی سے قتل کیا تھا اور اُس کے گھر میں موجود ملازمین نے نور مقدم کو اس کی درندگی سے بچانے کی بجائے بے حسی، سنگدلی اور سارے واقعہ میں معاونت برتی تھی،جس کی وجہ سے ظاہر جعفر کے دو ملازمین جمیل اور افتخار کو اعانت جرم کے الزام میں دس دس سال کی سزا سنائی گئی ہے،جبکہ اُس کے والدین اور دیگر ملازمین کو بری کر دیا گیا ہے۔یہ واقعہ جس طرح پیش آیا اور جس انداز سے اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے تفصیل سامنے آئی،اُس نے اس سارے اندوہناک واقعہ کی ایک ایک چیز آشکار کر دی۔پولیس کو موقعے سے نور مقدم کی سربریدہ لاش ملی تھی، مگر واقعہ کا عینی شاہد کوئی نہیں تھا، معاملہ سوشل میڈیا کے ذریعے اجاگر ہوا تو وزیراعظم عمران خان نے بھی اس کا نوٹس لیا اور وزارت داخلہ کو ہدایات جاری کیں اس واقعہ کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جائے اور اس میں ملوث ملزموں کو عبرتناک سزا دلوائی جائے۔26 جولائی2021ء کو وفاقی وزارت داخلہ نے ملزم ظاہر جعفر اور دیگر ملوث ملزموں کے نام بلیک لسٹ میں ڈال دیئے،ظاہر جعفر اور اُن کے والدین نیز ملازمین کو گرفتار کر کے اس کیس کا چالان مرتب کیا، مجموعی طور پر اس  مقدمے کی سماعت چار ماہ آٹھ دن ہوئی اور بالآخر اس تاریخی مقدمے کا فیصلہ24 فروری2022ء کو سنا دیا گیا۔اس طرح تقریباً آٹھ ماہ کے عرصے میں یہ مقدمہ وقوعے سے لے کر فیصلے تک پہنچ گیا،جس پر پولیس، پراسیکیوشن برانچ اور عدالت مبارکباد کی مستحق ہے۔یہ ایک پیچیدہ کیس تھا اور اس کے شواہد عام مقدمات کی طرح موجود نہیں تھے،کیونکہ قتل ظاہر جعفر نے اپنے گھر ہی کیا تھا اور وہ بھی ایک کمرے میں جسے کسی نے ہوتے نہیں دیکھا تھا۔ البتہ گھر میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے باہر کے مناظر ریکارڈ ہو گئے تھے،جن میں نور مقدم کو خوف کے عالم میں دیکھا جا سکتا ہے اور قاتل ظاہر جعفر اُسے گھسیٹ کر بالائی منزل پر لے جاتا ہے۔انہی کیمروں کی مدد سے گھریلو ملازمین کا کردار بھی سامنے آتا ہے جو اس واقعہ کو دیکھتے ہیں،مگر پولیس کو بلاتے ہیں اور نہ ہی ظاہر جعفر کو نور مقدم پر تشدد سے روکتے ہیں۔ اسلام آباد پولیس داد کی مستحق ہے کہ اُس نے اس قتل کی تفتیش روایتی انداز میں کرنے کی بجائے سائینٹفک انداز میں کی۔ جدید ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی شہادتیں محفوظ کیں، انہیں کیس کا حصہ بنایا، صرف یہی نہیں ان شہادتوں کو عدالت کے سامنے  اس انداز سے رکھا کہ عدالت انہیں بطور مضبوط شہادت کے مان گئی۔یہ پہلا موقع ہے کہ قتل کے عینی شاہدوں کی بجائے ان تکنیکی اور جدید ٹیکنالوجی سے اکٹھی کی گئی شہادوں پر ملزم کو سزا دی گئی، جنہیں پہلے تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ پولیس تفتیش اور پراسیکیوشن ٹیم نے اپنا کیس بڑی مہارت اور کامیابی سے ثابت کیا، ملزم جو اپنے ابتدائی بیان میں اس قتل کو تسلیم کر چکا تھا،عدالت میں اُسی سے مُکر گیا اور اُس نے کہا اُسے  اس کیس میں ناجائز پھنسایا گیا ہے۔ ملزم کے وکلاء اُسے ذہنی و اعصابی بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے تاہم پولیس نے ہر موقع پر اُس کی چالوں کو شواہد کے ذریعے ناکام بنایا۔اس مقدمے کی سماعت کے دوران خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے کہ کہیں ناکافی شہادتوں کی وجہ سے ملزم ظاہر جعفر بچ نہ جائے، کیونکہ پولیس تکنیکی شہادتوں پر زیادہ انحصار کر رہی تھی،لیکن آخر میں اس مقدمے کا فیصلہ سامنے آنے پر ثابت ہو گیا کہ اب ہمارے پراسیکیوشن اور تفتیش کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی سے حاصل  ہونے والی شہادتوں اور ثبوتوں پر انحصار کیا جا سکتا ہے۔یہ ایک بہت اہم پیشرفت اور کامیابی ہے جو مستقبل میں جرائم کی بیخ کنی کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔ نور مقدم قتل کیس کا یہ واقعہ جس کی تفصیلات سامنے آنے پر قوم کے اعصاب شل ہو گئے تھے اپنے پیچھے بہت سے سبق چھوڑ گیا ہے۔نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے عدالتی فیصلے پر کہا کہ یہ انصاف اور عدالت کی فتح ہے۔یہ کیس صرف میری بیٹی نہیں،بلکہ پوری قوم کی بیٹیوں کا کیس تھا۔ سول سوسائٹی، میڈیا اور پوری قوم نے جس طرح میرا ساتھ دیا اُس پر میں سب کا شکرگزار ہوں۔نور مقدم کے والد نے جس اذیت ناک صورت حال کا سامنا کیا اُس کا اندازہ کوئی عام باپ نہیں کر سکتا،مگر یہاں اس واقعہ کا سبق یہ ہے کہ والدین کو بعد میں پچھتانے کی بجائے وقت پر اپنے بچوں کی سرگرمیوں اور معمولات پر نظر رکھنی چاہیے۔اس حوالے سے ذرا سی غفلت بھی کسی ایسے واقعہ کو جنم دے سکتی ہے، جو اپنے اندر وہی خوں آشامی رکھتا ہو جو نور مقدم کیس میں نظر آئی۔ معاشرے کی کچھ اخلاقی و معاشرتی حدود و قیود ہوتی ہیں۔اُن کا خیال بہرطور رکھا جانا چاہیے۔مادر پدر آزادی کا تصور ہمارے ہاں موجود نہیں۔یہاں والدین ایک ادارے کے طور پر بچوں کی نگہبانی کرتے ہیں،جہاں جہاں اس سے صرفِ نظر ہوتا ہے ناقابل ِ تلافی نقصان کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں، نور مقدم کیس اس کی اہم ترین مثال ہے۔ہماری نوجوان نسل کو بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔بے لگام آزادی کا انسانی معاشرے میں کوئی تصور موجود نہیں۔ پاکستانی معاشرے میں تو بالکل ہی نہیں۔نوجوانوں کو کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنے معاشرے کی اخلاقی حدود و قیود کو سامنے رکھنا چاہیے۔اپنے گھرانے کی عزت و حرمت کا خیال رکھنا بھی اُن کی بڑی ذمہ داری ہے۔ویسے بھی اسلام نے ہمیں ہر نکتہ سمجھا دیا ہے۔اس کے باوجود اگر ہم اس کھینچے ہوئے تہذیب، اخلاق، اسلامی روایات کے دائرے سے باہر نکلتے ہیں تو پھر ہمیں ایک بڑے نقصان کے لیے بھی تیار چاہیے۔نور مقدم کیس میں قانون نے اپنی برتری منوائی ہے۔ایسے مقدمات کے فیصلے اسی تیزی سے ہونے چاہئیں تاکہ ایک طرف مجرموں کو بروقت سزا ملے اور دوسری طرف مظلوموں کو بروقت انصاف بھی ملتا رہے۔امید ہے اس کیس میں اپیل کے مراحل بھی اسی تیزی سے نمٹائے جائیں گے اور یہ کیس عبرت کی مثال بن جائے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -