آئی ایم سی کا 10.18 بلین روپے کے بعداز ٹیکس منافع کا اعلان

   آئی ایم سی کا 10.18 بلین روپے کے بعداز ٹیکس منافع کا اعلان

  

لاہور(پ ر)انڈ س موٹر کمپنی (آئی ایم سی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس 24 فروری، 2022کو منعقدہوا جس میں 31 دسمبر، 2022 کو ختم ہونے والی ششماہی کیلئے کمپنی کی مالیاتی اور آپریٹنگ کارکردگی کا جائزہ اور اعلان کیا گیا۔ 31 دسمبر، 2022 کو ختم ہونے والی ششماہی کیلئے کمپنی کا خالص فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن گزشتہ سال کی اسی مدت کی 79.65 بلین روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 135.18 بلین روپے ہوگئی۔ بعداز ٹیکس منافع اضافہ کے ساتھ 10.18 بلین روپے رہا جبکہ اسی مدت گزشتہ سال یہ 4.80بلین روپے تھا۔چھ ماہ کیلئے خالص منافع میں اضافہ کی وجہ سی کے ڈی (CKD) اور سی بی یو (CBU)کے بلند حجم اور صارفین کی طرف سے دیئے جانے والے ایڈوانسز کی وجہ سے بلند فنڈ حجم سے ہونے والی دیگر آمدن میں اضافہ ہے۔ دسمبر 1 202کو ختم ہونے والی ششماہی کیلئے کمپنی کا مجموعی  مارکیٹ شیئر تقریباً20.4 فیصد رہا۔

 تاہم کمپنی کی سی کے ڈی (CKD) اور سی بی یو (CBU) کی مجموعی فروخت46.5فیصد اضافہ کے ساتھ گزشتہ سال کی اسی مدت کے 26,362 یونٹس کے مقابلے میں  38,632یونٹس رہی۔مالی سال کی پہلی ششماہی میں طلب میں اضافہ دیکھنے کو ملا جس کی وجوہات میں اقتصادی ترقی، آٹوفنانسنگ کی کم شرح اور جولائی2021 سے اضافی کسٹم ڈیوٹی (اے سی ڈی)، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) میں کمی کی وجہ سے گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی شامل ہے۔ستمبر2021 کو ختم ہونے والی گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 31 دسمبر، 2021 کو ختم ہونے والی سہ ماہی نے سی کے ڈی اور سی بی یو کے بلند حجم کی بدولت خالص فروخت سے حاصل ہونیو الی آمدن میں اضافہ کا مشاہدہ کیا۔اس آمدن میں اضافہ کے باوجود موجودہ سہ ماہی کیلئے بعداز ٹیکس منافع میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں کمی ہوئی جس کی وجوہات میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قد رمیں کمی کے نتیجہ میں لاگتوں میں اضافہ، کموڈیٹی کی قیمتوں اور  پیداوار کی لاگت میں اضافہ وغیرہ شامل ہیں۔ چیف ایگزیکٹو، آئی ایم سی، علی اصغر جمالی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا”اللہ کا شکر ہے کہ مالی سال کی پہلی ششماہی بہت زیادہ اچھی رہی جو کہ کافی حوصلہ افزاہے۔ حکومت کی طرف سے موزوں پالیسیاں اور ٹیکس اقدامات کی بدولت، جو آپریٹ کرنے کیلئے ساز گار ماحول کیلئے اہمیت رکھتے ہیں،  محصولات میں مثبت اثرات مرتب ہوئے۔کورونا وبا کی خطرے میں مسلسل کمی اور گاڑیوں کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ کے ساتھ ہم ہر چیلنج کا مقابلے کرنے، صارفین کی اعلیٰ توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب رہے۔“انہوں نے مزید کہا”ہم حکومت  کی جانب سے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر نئی آٹو پالیسی کو حتمی شکل دینے اور ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل مراعات کو برقرار رکھنے کے اقدام کو سرا ہتے ہیں   ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ آٹو سیکٹر کی طویل المدت معاشی ترقی کیلئے یکساں پالیسیاں تشکیل اور فروغ دے، ہائی ٹیک پرزہ جات کی تیاری کیلئے مقامی وینڈرز کو مراعات فراہم کرے اور آٹو انڈسٹری میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو  معاونت فراہم کرنے کیلئے ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں میں کمی کرے۔ مجموعی طور پر اس سے حکومت کیلئے زیادہ محصولات اکٹھی ہوں گی اور ملازمت کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔“  اشیاء کی قیمتوں، درآمدات پر فریٹ چارجز میں مسلسل اضافہ، کرنسی کی بے قدری، اور حکومت کی طرف سے ایف ای ڈی میں حالیہ اضافہ سے آنے والے قت میں آٹو سیکٹر کی فروخت کے حجم اور منافع پر منفی اثر پڑسکتا ہے۔ 31دسمبر، 2021کو ختم ہونے والی ششماہی کیلئے کمپنی کی فی حصص آمدن گزشتہ سال کی اسی مدت کے 61.08 روپے کے مقابلے میں 129.45 روپے رہی۔بورڈ آف ڈائریکٹرزنے  31دسمبر، 2021کو ختم ہونے والی ششماہی کیلئے 30روپے فی حصص کے دوسرے عبوری نقد منقسمہ منافع کا اعلان کیا ہے۔

مزید :

کامرس -