پیکا اور ازالہ حیثیت عرفی، ایک نظر!

 پیکا اور ازالہ حیثیت عرفی، ایک نظر!
 پیکا اور ازالہ حیثیت عرفی، ایک نظر!

  

نیتوں اور دلوں کے حالات تو اللہ ہی جانتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا بڑا مشکل ہے کہ وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا کے حوالے سے عوام کو تحفظ دینے کے لئے جو آرڈی ننس پیکا قانون میں ترمیم کے لئے بنایا اور صدر سے دستخط بھی کرا لئے وہ کسی بدنیتی پر مبنی ہے، تاہم یہ حق ہمیں بھی حاصل ہے کہ ہم اس آرڈی ننس کے بارے میں بات کر سکیں کہ جس کے نفاذ کے حوالے سے میڈیا کی مختلف نمائندہ تنظیموں کے درمیان سو فیصد اتفاق رائے ہو گیا ہے، جبکہ لاہور اور اسلام آباد کی عدالت عالیہ میں اسے چیلنج بھی کیا گیا اور زیر سماعت ہے۔ اس سلسلے میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ مسٹر جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس قابل تعریف ہیں۔ مجھے تو ان کی اس بات سے اتفاق ہے کہ دنیا بصر میں توہین یا ہتک عزت کے حوالے سے فوجداری قوانین ختم کئے جا رہے ہیں اور یہ سول نوعیت کا معاملہ ہے، اگر سول قوانین کو بہتر بنانا مقصود ہو تو عدالت بھی معاونت کے لئے تیار ہے۔

اس سلسلے میں مزید کوئی بات کرنے سے قبل یہ عرض کروں کہ محترم چیف جسٹس اسلام آباد کی بات نہ صرف درست بلکہ قابل عمل ہے۔ میں یہ نہیں سمجھ پایا کہ یہ کس محترم دانشور کی تجویز پر ہوا ہے۔ ہمارے وزیرقانون اور وزیر اطلاعات دونوں وکیل ہیں اور باقاعدہ پریکٹس کرتے رہے ہیں، اس کے باوجود ہمارے فواد چودھری کو اٹارنی جنرل کے بیان پر اعتراض ہوا اور وزیر قانون نے آرڈی ننس کی حمائت کی۔ ان حضرات کی خدمت میں صرف یاد دہانی کے لئے عرض ہے کہ ملک میں ہتک عزت کے صرف سول قانون ہی نہیں، فوجداری بھی ہیں۔ اگر کوئی شخص سول عدالت میں ازالہ عرفی کا دعویٰ کر سکتا ہے تو فوجداری عدالت سے بھی رجوع کر سکتا ہے جس کا حق اسے دفعات 500اور 501 کے تحت حاصل ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان قوانین کے تحت خود متاثرہ فرد کو آگے آنا ہوتا ہے۔ اگر ہرجانے کا دعویٰ کیا جائے یا 501-500 کے تحت فوجداری استغاثہ ہو تو متعلقہ شخص خود مدعی یا مستغیث ہوگا اور اسے عدالت (سول + فوجداری) کے سامنے ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی توہین کی گئی اور اس کے علاوہ وہ خود اپنا بیان قلمبند کرائے گا تو پھر جرح کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ ان رائج قوانین کے تحت ملزم یا مدعا علیہ کو یہ پورا حق ہے کہ وہ اپنی صفائی بھی پیش کرے، یوں انصاف کا تقاضا بھی پورا ہوتا ہے۔500 اور501کو ایک حد تک قابل دست اندازی بھی بنایا گیا ہے، تاہم یہ قابل ضمانت ہے اور اگر مستغیث بہت ہی بااثر ہو، جو ایف آئی آر درج کراکے گرفتار کرانے کی بھی اہلیت رکھتا ہو تو بھی عدالت کو ضمانت کا اختیار حاصل ہے۔

اب اگر حکومت کی طرف سے پیکا ترمیمی آرؔڈی ننس پر غور کیا جائے تو اس میں انصاف کے ان تقاضوں کو پیش نظر ہی نہیں رکھا گیا بلکہ ناقابل ضمانت جرم قرار دے کر اس کی سزا پانچ سال تک کر دی گئی اور گرفتاری کا حق بھی دیا گیا کہ کسی بھی تحقیق کے بغیر کسی پر الزام عائد کرکے اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے اور پھر وہ ضمانت بھی نہ کر اسکے گا، یہ تو نیب کے قانون سے مستعار نظر آتا ہے جس میں یہ عمل جاری ہے کہ بندہ بلا کر اسے گرفتار کر لو، اور پھر الزام لگا کر کہو کہ وہ ثابت کرے الزام جھوٹا ہے۔ نیب کو گرفتاری اور ریمانڈ کا بھی حق ہے، تاہم اسے نوے روز تک محدود کیا گیا ہے جبکہ پیکا ترمیمی آرڈی ننس میں یہ لامحدود ہے، اگرچہ مقدمہ کا فیصلہ چھ ماہ میں سنانے کی پابندی عائد کی گئی ہے، یہ پابندی نیب آرڈی ننس میں بھی ہے، اس کے باوجود نیب کے ریفرنس سالوں چلتے رہتے ہیں اور الزام کا سامنا کرنے والے دو، دو تین سال تک کسی فیصلے کے بغیر بھی جیل میں سڑتے رہتے ہیں۔ موجودہ پیکا (ترمیمی آرڈی ننس) کے مطالعہ سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے کہ جس کو بھی کسی وارنٹ کے بغیر کوئی الزام بتائے اور تحقیقات کئے بغیر پکڑا جائے گا اس کی خلاصی جیل بھگت کر ہی ہو گی، کسی بھی شخص کی اس اذیت کا اندازہ لگائیں، جسے کبھی جھوٹے الزام میں پکڑ لیا گیا تو اس کی حالت کیا ہوگی۔ آج کے معاشرے میں تو کوئی بھی فرد تھانے کی چار دیواری میں داخل ہونے سے خوف کھاتا ہے چہ جائیکہ اسے پکڑا جائے تو اس کا پرسان حال ہی کوئی نہ ہو۔ میری ڈاکٹر فروغ نسیم اور فواد چودھری سے گزارش ہے کہ وہ اس کی تو وضاحت کریں کہ قتل جیسے الزام کے تحت تحقیقات ہوتی ہے۔ الزام بتایا جاتا ہے اور اس میں بھی جسمانی ریمانڈ لامحدود نہیں ہوتا، پھر اس آرڈی ننس کے تحت ایسا کیوں ہے اور کیا یہ بنیادی انسانی حقوق اور 1973ء کے اس آئین کی منشاء کے مطابق ہے جو تحریر و تقریر، اجتماع اور جماعتوں کی تشکیل تک کی اجازت اور ضمانت دیتا ہے۔ یہ بہت بڑا تضاد ہے اور عدالتوں کے سامنے یہی کھل کر سامنے آئے گا اور اٹارنی جنرل نے اسی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ ایک اور عرض کر دوں جو مریے لئے تعجب تو نہیں دلچسپی کا باعث ہے کہ ڈاکٹر فروغ نسیم (وزیر قانون) یہ آرڈیننس تیار کرانے والے ہیں اور انہوں نے دفاع بھی کیا ہے لیکن متحدہ کے وزیر امین الحق نے واضح طور پر کہا کہ متحدہ اس آرڈی ننس کے خلاف ہے یہ فیصلہ خود ڈاکٹر فروغ نسیم کر لیں کہ ان کی پوزیشن کیا ہے اور ان کا تعلق متحدہ سے ہے یا نہیں۔ اگر نہیں ہے تو پھر وہ وفاقی وزیر امین الحق کی تردید کریں یا پھر اب متحدہ سے لاتعلقی کا اعلان کریں لیکن آج کی سیاست میں ایسا نہیں ہوتا،ان کا واضح اور حقیقی تعلق ایم کیو ایم سے ہے، لیکن جب ان کی وزارت کا سوال آتا ہے تو متحدہ بھی کہتی ہے کہ یہ وزارت متحدہ کے کوٹے سے نہیں۔ ڈاکٹر فروغ نسیم کی شخصیت کو دی گئی ہے اب اگر میں نے یہ وضاحت عرض کی ہے تو پھر اسے بھی پیکا آرڈیننس کے تحت ”فیک نیوز“ یا ”توہین آمیز“ قرار دے دیجئے، حالانکہ یہ سب نشر اور شائع بھی ہو چکا ہوا ہے۔

اب میڈیا کے تمام شعبوں کی تنظیمیں متحد ہو کر مخالفت کر رہی ہیں اور توقع کے مطابق نتائج آئیں گے۔ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ وزیراعظم نے اسلام آباد کی عدالت عالیہ کی ہدائت کے بعد خود بھی ایف آئی اے کو روک دیا کہ گرفتاری سے گریز کرے۔ میں تو یہ عرض کر سکتا ہوں کہ یہ آج کی بات ہے لیکن پریس اینڈ پبلیکشنز آرڈیننس تو جنرل ایوب کے دور میں نافذ کیا گیا تھا۔ تب اتنا وسیع میڈیا بھی نہیں تھا اور ساری جدوجہد پرنٹ میڈیا کے کارکنوں نے کی۔ مجھے بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ پی ایف یو جے کے جھنڈے تلے اس میں شریک رہا اور بالآخر یہ آرڈیننس ختم ہو گیا۔ اب تو اتحاد بڑا وسیع ہے اس لئے اس جدوجہد کی کامیابی میں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔ یوں بھی یہ تجربہ کار، سینئر سیاستدان فرزند راولپنڈی شیخ رشید کی نصیحت کے خلاف ہے جنہوں نے وفاقی حکومت کو الگ اور فواد جودھری کو الگ مشورہ دیا تھا کہ ”پریس سے پھڈا نہ لو“ اس حوالے سے میرا خیال ہے کہ کپتان کو غور کرنا ہوگا کہ ان کو مشورہ دیا گیا اور اس لڑائی کو  آگے نہ بڑھائیں۔

مزید :

رائے -کالم -