ڈاکٹر انیس احمد اور رحمتہ اللعالمین اتھارٹی

 ڈاکٹر انیس احمد اور رحمتہ اللعالمین اتھارٹی
 ڈاکٹر انیس احمد اور رحمتہ اللعالمین اتھارٹی

  

پاکستان ایک زرخیز ملک ہے یہاں قدرتی وسائل کی بھی کمی نہیں ہے اور انسانی وسائل بھی خوب ہیں یہاں ذہین و فطین اور کارکردگی دکھانے والے مردانِ کار کی بھی کمی نہیں ہے اگر یہ ملک چل رہا ہے 300ارب ڈالر کی قومی پیداوار ہو رہی ہے اگر ہم ایٹمی طاقت ہیں تو یہ سب کچھ جنات تو نہیں کر رہے ہیں، اگر پاکستان کے ہزاروں نہیں لاکھوں پڑھے لکھے لوگ مرد و زن بیرون ممالک اعلیٰ مناصب پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں تو ایسا اندرون ملک مردانِ کار کی ذہانت اور محنتِ شاقہ کے باعث ہی ممکن ہو رہا ہے ایسے ہی قابل فخر اور آزمودہ کار قومی سپوتوں میں ایک انتہائی معتبر اور قابلِ بھروسہ نام پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد کا بھی ہے جنہیں وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے نیشنل رحمت اللعالمین اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایک ذہین فطین، سکالر عالم ہی نہیں ہیں، بلکہ ایک متین انسان بھی ہیں، ایک پروفیسر کو جس طرح کا ہونا چاہیے۔ ایک سکالر کو جس طرح بولنا چاہیے، ایک مسلمان کو جس طرح سوچنا اور دعوت دین کے لئے متحرک اور فعال ہونا چاہیے وہ بالکل ایسے ہی ہیں، میں جب ان سے ملا، متعارف ہوا، اس وقت میری عمر 24،25سال تھی۔ آج میں 61سال کا ہونے جا رہا ہوں۔ میں نے جب ان کی تقرری کی خبر پڑھی تو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کا دورِ طالب علمی یاد آنے لگا۔

جنرل ضیاء الحق کا دور حکمرانی، اشتراکی افواج کی سرزمین افغانستان پر لشکر کشی، کمیونزم بمقابلہ اسلام کا عروج، جہاد افغانستان، عالم عرب و غرب کا اشتراکیوں کے خلاف اتحاد، عرب اساتذہ، ایسے میں امریکہ سے لوٹنے والے ایک پروفیسر کی باتیں۔ کہا گیا کہ وہ ایک بہت بڑی اپنی لائبریری بھی ساتھ لا رہا ہے ہمیں تجسس ہونے لگا۔ ایسے میں ڈاکٹر انیس احمد سے ملاقات ہوئی۔ خوبصورت، سمارٹ، خوش لباس، خوش گفتار، خوبصورت و دلکش اردو اور اس سے بڑھ کر دل موہ لینے والی انگریزی زبان میں لیکچر نے ہم تمام طلبہ کو اسیر بنا لیا،یہ اسیری آج تک قائم ہے۔ ویسے یہ اسیری عقیدت میں بھی ڈھل چکی ہے۔ آپ بین الاقوامی یونیورسٹی میں اصول الدعوۃ والدین کے شعبے کے سربراہ کے طور پر مصروف عمل رہے۔ انسٹی  ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز میں تحقیقاتی کام بھی کرتے رہے ہیں۔ پھر ایک بین الاقوامی یونیورسٹی ”الرفاہ“ کے وائس چانسلر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ میرے استاد محترم کا انتخاب، رحمتہ اللعالمین اتھارٹی کے چیئرمین کے طور پر تعیناتی سے اس اتھارٹی کی اہمیت اور حیثیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی تعیناتی سے وزیراعظم کا اس اتھارٹی بارے سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے۔

عمران خان کی زیرسرپرستی کام کرنے والی حکومت کے قابل ذکر اچھے کاموں میں ایک متبرک کام رحمتہ اللعالمین اتھارٹی کا قیام بھی شامل ہے۔ پاکستان لاریب مسلم اکثریتی مسلم ریاست ہی نہیں ہے، بلکہ دستور مملکت (آئین 1973ء) کے مطابق اسلامی ریاست ہے جو قرآن و سنت سے رہنمائی حاصل کرنے کی پابند ہے۔ ریاست پاکستان میں اللہ اور اس کے رسول محمد عربیؐ کے احکامات کے مطابق ہی قانون سازی ہوگی اور یہی احکامات مقتدرِ اعلیٰ کے احکامات سمجھے جائیں گے۔

مسلمانوں کے لئے قرآن، اللہ رب العزت کے احکامات اور عرضی و منشا کا بیان ہے۔ ہمیں یہ قرآن، اللہ کے احکامات، نبی آخر الزمانؐ کی وساطت سے ملے ہیں، ہمیں نبی اکرمؐ نے بتایا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے بندوں سے یہ چاہتا ہے۔ ہم نے اسے مان لیا۔ ہم نے کلمے کے ذریعے اس بات کا اقرار کر لیا ہے ہے کہ ”اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے اور محمدؐ اس کی طرف سے معبوث کردہ رسول ہیں۔ہماری موجودہ قیادت، ہمارے وزیراعظم عمران خان، اسی ریاست مدینہ کے قیام و ترویج کے پرچارک ہیں جو ھادی برحق ؐ نے اللہ سبحانہء و تعالیٰ کی ہدایات اور براہ راست نگرانی میں قائم کی تھی اس لئے رحمت اللعالمین اتھارٹی کا قیام اسی فکر و عمل کا نتیجہ ہے جس کا ذکر اللہ سبحانہ ء تعالیٰ نے قرآن میں ”وما ارسلنک الا رحمت اللعالمین“ اور ہم نے (اے نبیؐ) آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا، کی صورت میں کیا ہے محمد عربیؐ تمام جہانوں کے لئے شرقاً غرباً اور شمالاً جنوباً بسنے والے تمام جہانوں کے لئے ھادی و رہبر بنا کر بھیجا ہے اور پھر اللہ نے ہمیں بتایا کہ ”لقد کان فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ“ بے شک تمہارے لئے نبی محمدؐ  کی زندگی بہترین نمونہ ہے، گویا اللہ کی منشا اور مرضی، قرآن کریم میں بیان کر دی گئی ہے اور اس کی عملی تفسیر ریاست مدینہ میں بیان کی گئی اور نبی محمدؐ اس تفسیر، منشاء الٰہی کا عملی نمونہ ہیں۔

ڈاکٹر انیس کا اتھارٹی کے سربراہ کے طور پر انتخاب اس لحاظ سے بھی درست ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی ساری زندگی دعوت دین کے لئے سکالرز تیار کرنے میں گزری ہے وہ خود معاملہ فہم، مدیراور بات کہنے سننے کا ملکہ رکھتے ہیں، انہیں تحریر و تقریر دونوں فنوں پر دسترس بھی حاصل ہے اور پھر ان کے تیار کردہ،یونیورسٹی سے فارغ التحصیل فاضل علماء کی ایک کثیر تعداد معاشرے میں مصروف عمل ہے۔ ڈاکٹر صاحب صرف فلسفی قسم کے عالم فاضل نہیں ہیں، بلکہ تحریکی جوانوں کی طرح کام کرنے والے انسان ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایک طرف سوشل میڈیا اور ابلاغ کے دیگر ذرائع نے انارکی پھیلا رکھی ہے جدیدت کی جملہ خرابیوں کا پرچار یہاں معاملات، بالخصوص نوجوانوں میں بگاڑ پیدا کررہا ہے تو دوسری طرف سرمایہ دارانہ نظام کی برائیوں کے فروغ نے معاشرے کی صورت حال بگاڑ رکھی ہے۔آزادی اظہار رائے اور فکر و عمل اپنی جگہ ہر دولت سہی لیکن نوجوانوں کے ذہنوں کو مسموم کرنے کی مربوط کاوشوں کو روکنے والی قوت کی عدم موجودگی ہمیں دن بدن تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔

ریاست مدینہ کے نظریے کے تحت رحمتہ اللعالمین اتھارٹی کا قیام اور اس کے لئے ڈاکٹر انیس احمد کا انتخاب، لاریب ایک بروقت اور احسن اقدام ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی گزری زندگی کو دیکھتے ہوئے یہ بات بلاجھجک کہہ سکتا ہوں کہ اب اتھارٹی اپنے مینڈیٹ کے مطابق، اپنے طے شدہ اہداف کے حصول کے لئے آگے بڑھے گی۔ ڈاکٹر صاہب اپنے تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے اسے حقیقتاً ایک فعال ادارہ بنائین گے۔ وہ پہلے بھی کامیابی و کامران کے ساتھ ایسے منصوبوں کو پایہء تکمیل تک پہنچاتے رہے ہیں اب بھی ان شاء اللہ کامیاب ہوں گے۔ اللہ ان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

مزید :

رائے -کالم -