بیورو کریسی اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار 

بیورو کریسی اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار 
بیورو کریسی اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار 

  

ابھی کل ہی میں نے کالم لکھا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے سرکاری افسروں کو اپنے بند دروازے عوام پر کھولنے کا حکم دیا ہے۔اب وزیراعلیٰ نے کمشنر اور آر پی اوز سے ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے انہیں وارننگ دی ہے کہ انہیں سیاسی دباؤ سے آزاد کر دیا ہے اب انہیں ڈلیور کر کے دکھانا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ سرکاری افسروں کو خود مختاری دینے کی ایسی مثال پہلے کبھی صوبہ پنجاب میں تھی نہ آئندہ نظر آئے گی،جو اُن کے دورِ  حکومت میں دی گئی ہے۔اب انہیں عوام کے مسائل حل کرنا ہوں گے اور گڈگورننس کو یقینی بنانا پڑے گا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار  نے بات تو درست کی ہے،پنجاب میں بیورو کریسی کو جو خود مختاری ملی ہے، اس کی مثال نہیں ملتی، بعض لوگ آزادی ملنے پر شکر بجا لاتے ہیں اور بعض ناخلف بچوں کی طرح بگڑ جاتے ہیں۔ پنجاب میں تعینات اکثر افسروں کی تعداد ایسی ہی ہے جو وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی دی ہوئی خود مختاری کے باعث بگڑ گئے ہیں اب بھلا وزیراعلیٰ کو ایک ویڈیو لنک اجلاس کے ذریعے افسروں کو یہ باور کرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ انہیں خود مختاری کا اچھے طریقے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔کیا یہ افسروں دودھ پیتے بچے ہیں،جو اختیار ملنے پر بگڑ جاتے ہیں،کیا اُنہیں معلوم نہیں اُن کے فرائض کیا ہیں، کیا پنجاب میں گڈگورننس نام کی کوئی چیز موجود ہے،کیا ہر دفتر میں کرپشن کی گنگا نہیں بہہ رہی۔پولیس اور انتظامی افسر چاہیں تو صوبے میں ایک آئیڈیل نظام دے سکتے ہیں۔ پہلے وہ یہی عذر پیش کرتے رہے ہیں کہ سیاسی مداخلت انہیں کام نہیں کرنے دیتی، اب صوبے کے وزیراعلیٰ خود کہہ رہے ہیں کہ بیورو کریسی کو سیاسی دباؤ سے آزاد کر دیا ہے،اب کیا امر مانع ہے،سوائے نااہلی اور کرپشن کے۔یہی بات میں نے ایک سرکاری افسر سے پوچھی تو کہنے لگا ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔

اُس نے کہا سیاسی مداخلت ختم ہو گئی ہے تو افسروں کو رولز کے مطابق ایک اسٹیشن پر تین سال کام کرنے کا موقع کیوں نہیں دیا جاتا، کیوں چھ ماہ بعد تبادلے کی تلوار لٹکا دی جاتی ہے۔اُس نے کہا گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں پنجاب کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں،ڈپٹی کمشنر کی اوسط تعیناتی 9ماہ اور ڈی پی او کی چھ ماہ نکلے گی، کیا اس طرح آپ نے خود مختاری دی ہے۔ کیا اس کے بعد کوئی اچھی کارکردگی دکھا سکے گا، پہلے تبادلے کسی شکایت پر  ہوتے تھے۔ اب خواہ مخواہ ہو جاتے ہیں، کبھی نئے پوسٹ ہونے والے افسر کو لانے کی وجہ سے اور کبھی اسی وجہ سے کہ پرانے افسر سے وزیراعلیٰ آفس میں بیٹھے ہوئے کار پردازان خوش نہیں ہوتے۔اُس نے کہا ابھی ایک افسر کو اپنے ضلع کے مسائل سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملتا کہ اُس کا تبادلہ ہو جاتا ہے،اس طرح تو مسائل بڑھیں گے کم کیسے ہوں گے۔اُس نے وزیراعلیٰ کی طرف سے کھلی کچہریاں لگانے کے حکم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا اگر بیورو کریسی کو آپ من مانی کرنے کی کھلی چھٹی دینا چاہتے ہیں تو پھر اُسے کھلی کچہری لگانے کا حکم دے دیں۔ وہ سارے کام اُس کھلی کچہری تک لٹکائے رکھے گا تاکہ وزیراعلیٰ آفس کو یہ اعداد و شمار بھیج سکے اُن نے کتنے لوگوں کو کھلی کچہری میں ریلیف دیا ہے، آخر افسروں کے دفاتر کس مرض کی دوا ہیں،کیا وہاں روزمرہ امور اس طرح نہیں نمٹائے جا سکتے کہ عوام کے لئے کوئی مسئلہ پیدا ہی نہ ہو۔مجھے اس بات میں ایک وزن نظر آیا، میں خود ہی ہمیشہ کھلی کچہری کے موضوع پر لکھتا رہا ہوں کہ یہ وقت کا ضیاع ہیں اور ان سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملتا،جب تک کہ روزمرہ کے دفتری نظام میں عوامی مسائل حل کرنے کا رواج نہیں پڑتا۔

میرے علم میں یہ بات ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے دفتر میں کوئی جونیئر افسر بھی ملنے جاتا ہے تو وہ اُسے سر کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ایک باخبر افسر کے بقول وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور شہباز شریف میں یہ بنیادی فرق ہے۔شہباز شریف کے دفتر میں افسروں کانپتے ہوئے جاتے تھے، اور کھڑے کھڑے اُن کی بات سن کر واپس بھجوا دیا جاتا تھا، وزیراعلیٰ عثمان بزدار باقاعدہ اُٹھ کر افسروں کا استقبال کرتے ہیں،انہیں عزت و احترام سے بٹھاتے ہیں،مسائل سنتے ہیں اور حل کرتے ہیں،اب ایسے وزیراعلیٰ کے ساتھ بیورو کریسی کو حد درجہ تعاون کرنا چاہئے تھا۔اُن کی حکومت کو مکمل تعاون کے ساتھ گڈ گورننس کی مثال بنا دینا ضروری تھا،مگر اس کی بجائے بیورو کریسی نے اسے اپنے لئے غرور و فخر کی وجہ بنا لیا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی اس مہمان نوازی اور نرمی کو موج میلے کی وجہ سمجھا اور حکومتی احکامات کو ہوا میں اڑانے لگے۔یہی وجہ ہے عثمان بزدار کو وڈیو لنک کے ذریعے ایک کانفرنس کر کے افسروں کو ایک سخت پیغام دینا پڑا۔کیا اس کا افسروں پر کچھ اثر ہو گا،کیا اُن کے رویوں میں کوئی تبدیلی آئے گی یا وہ اسی طرح وزیراعلیٰ کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالتے رہیں گے۔

میں نے جو کالم افسروں کے بند دروازوں پر لکھا اُسی سے ایک ڈپٹی کمشنر رینک کے افسر نے مجھے فون کیا اور کہا پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں،بہت سے سرکاری افسروں ایسے بھی ہیں،جو دِل سے عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں،وہ کسی خوف کی وجہ سے نہیں،بلکہ اپنا فرض سمجھ کے یہ چاہتے ہیں کہ عوامی مسائل حل ہوں،اُن کے دروازے واقعی عام آدمی پر کھلے ہوتے ہیں اور انہوں نے دربانوں کے کلچر کو عرصہ ہوا خیر باد کہہ دیا ہے۔میں نے کہا یقینا بیورو کریسی میں اچھے افسروں کی کمی نہیں، پھر میں نے اُن سے پوچھا کہ آخر انہیں ڈپٹی کمشنری سے ہٹا کر او ایس ڈی کیوں بنا دیا گیا،آپ تو واقعی بہت اچھا کام کر رہے تھے،کہنے لگنے یہ ایک دوسری کہانی ہے،البتہ افسروں کو چاہئے وہ اپنا فرض پورا کرتے رہیں،ہوا اُن کے موافق چلے یا مخالف انہیں دیا جلائے رکھنا چاہئے، یقینا ایسے افسر بیورو کریسی کا مثبت چہرہ اجاگر کرتے ہیں،مگر اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے اور پھر انہیں زیادہ عرصہ فیلڈ میں رہنے بھی نہیں دیا جاتا۔

مزید :

رائے -کالم -