اچھے فیصلوں کیلئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں: جسٹس شکیل احمد

اچھے فیصلوں کیلئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں: جسٹس شکیل احمد

  

      ایبٹ آباد(بیورو رپورٹ)پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد بنچ کے جج جسٹس شکیل احمد  نے کہا ہے کہ فیصلہ کرنا مشکل کام ہے۔اچھے فیصلوں کے لئے ہمیشہ اللہ سے دعاگو رہا، جج کے فیصلے بولتے ہیں جج نہیں۔جاری فیصلوں میں اکثریت میں اللہ کے احکامات کو واضح کیا ہے۔پارلیمان کاکام قوانین بنانا عدالت کا کام اس کی تشریح اور ایگزیکٹو اس پر عمل کراتا ہے۔جسٹس شکیل احمد کا کہنا تھا سچ،دیانت داری اور انصاف نہ ہو تو وہ معاشرہ زبوں حالی کا شکار ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جھوٹ نہیں تھا۔یہاں اکثریت مقدمہ کی ابتدا جھوٹ سے  ہے۔ایف آئی آر میں ملزم ایک ہوتا ہے شامل بہت کئے جاتے ہیں اسی پر ابہام پیدا ہوتا ہے۔ججز کو مقدمات کی بھرمار پر میڈیا میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اصلاحات کئے بغیر ججز کی تعداد بڑھانے سے بھی توقعات پوری ہونا ممکن نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں ہائیکورٹ بار میں ان کے اعزاز میں الوداعی تقریب سے خطاب میں کیا۔تقریب میں پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد بنچ کے جسٹس ابراہیم خان۔صدر ہائیکورٹ بار حاجی صابر تنولی ایڈووکیٹ،ججز،پاکستان بار کونسلز کے پی بار کونسلز کے ممبران،مانسہرہ،ہریپور،بٹگرام،بالاکوٹ بار کے صدور،سینئر وکلا اور خواتین وکلا بھی شریک تھیں۔جسٹس شکیل خان کا کہنا تھا انصاف اسلام کااہم ستون ہیں۔معاشرے میں مقدمات کی بھرمار کے زمہ دار  ججز نہیں ہیں۔روزانہ کی بنیاد پر ہائیکورٹ کے ججز ذیادہ کام کرتے ہیں 30سے زاہد مقدمات سننے اور ان کے فیصلے لکھنا ہوتے ہیں۔اس کو بہتر کرنے کے لئے اصلاحات کی ضرورت ہے۔جس ملک میں پچاس سال میں لینڈ میئر منٹ نہیں ہوتی وہاں مسائل تو ہوں گے۔پاکستان میں تحقیات کی طریقہ کار ٹھیک نہیں ہے۔یورپین ممالک میں یہ نہیں ہوتا جو بھی تحقیقات ہوں اس کو اٹارنی کے پاس بھیجا جاتا ہے۔صرف ٹرائل کے کیسز بھیجیے جاتے ہیں۔نہ ہم ترقی یافتہ معاشرے سے کچھ سیکھا ہے اور نہ اپنے دین سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔جسٹس شکیل احمد کا کہنا تھا ہم روز محشر کو بھول چکے ہیں۔ معاشرے میں کوئی اپنی ذمہ داری بطور احسن انداز میں ادا نہیں کر رہا۔ہر کسی نے اپنے دامن کو صاف رکھنے کے لئے عدالت کا سہارا لیا ہوا ہے۔اصلاحات کے بغیر ججز کی تعداد بڑھانے سے بھی مقدمات کی بھرمار ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وکلا کی بے شمار قربانیاں ہیں تحریک پاکستان میں بھی وکلا کی ایک طویل فہرست ہے۔اپنی قوت اور طاقت کو سمجھیں یہ وہ واحد طبقہ ہے جو مظلوم کی زبان ہیں۔میڈیا پر وکلا کی کردار کشی پر پابندی عائد کی ہے۔بطور ججز ہمارے دل میں صرف خوف خدا ہے۔انہوں نے کہا کہ کبھی کرسی سے محبت نہیں کی جب کبھی محسوس کیا انصاف نہ کرسکا تو کرسی چھوڑ کر گھر چلا جاں گا۔انہوں نے کہا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے، عدل کے معاشرے میں سچائی ناگزیر ہے۔اپنے دور میں کسی وکیل کا لائسنس روکا نہیں۔نہ کسی کو فیل کیا۔وکلا  کی سہولت کے لئے ہائیکورٹ میں اقدامات اٹھائے ہیں۔اور اپنی طاقت سے زیادہ کام کیا ہے۔انہوں نے وکلا کو تاکید کی کہ وہ اپنے مقدمہ میں فیکٹ اور قانون پر مکمل گرفت ہونی چائیے۔آپس کے باہمی اختلاف ختم کریں زندگی مختصر ہے محبت سے گزاریں۔قبل ازیں صدر ہائیکورٹ بار حاجی صابر تنولی ایڈووکیٹ وکلا کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں 2008 میں وکلا کی قربانی سے جمہوریت بحال ہوئی۔اللہ کا شکر ہے ہم آزاد ملک کے باوقار شہری ہیں۔پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد بنچ کے دونوں ججز نے اپنی مدت کے دوران انتہائی خوبصورت وقت گزارا ہے۔بنچ اور بار کا بہترین لیزان رکھا۔انہوں نے کہا کہ وکلا کی فلاح کے لئے بہترین اقدامات اٹھائے 100وکلا کو لائسنس بھی دلوائے ہیں۔ہائی کورٹ میں کیفے ٹیریا کا افتتاح ہو چکا ہے۔اور اے ٹی ایم کی سہولت بھی جلد مہیا ہوگی۔حاجی صابر تنولی کا کہنا تھا کبھی بھی کسی فیصلے سے وکلا کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔سائلین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔قوم اور ملک کی تقدیر کے فیصلوں کے اثرات دور رس ہوتے ہیں۔انہوں نے جسٹس شکیل اور جسٹس ابراہیم کی خدمات پر بھی خراج تحسین پیش کیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -