وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر انتظام سالانہ امتحانات شروع

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر انتظام سالانہ امتحانات شروع

  

    پشاور(سٹی رپورٹر)وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیر انتظام سالانہ امتحانات شروع۔پونے پانچ لاکھ طلبہ وطالبات شریک ملک بھر میں درس نظامی میں چار لاکھ 71ہزار141(پونے پانچ لاکھ)طلبہ وطالبات امتحان میں شریک ہوں گے،جبکہ حفاظ کی تعداد88ہزار984 ہے۔ملک بھر میں دوہزار 567جبکہ خیبر پختونخوا میں 1336امتحانی مراکز قائم۔17800نگران عملہ کی تقرری کی گئی۔وفاق المدارس کے صوبائی ناظم مولانا حسین احمد کی میڈیا کو بریفنگ۔تفصیلات کے مطابق دینی مدارس کے سب سے بڑے بورڈ وفاق المدارس العربیہ پاکستان صوبہ خیبر پختونخوا کے ناظم مولاناحسین احمدنے سالانہ امتحانات کے حوالے سے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیرا نتظام ملک گیر سطح کا امتحان چھ دن تک جاری رہے گا۔ملکی سطح پر درس نظامی میں پونے پانچ لاکھطلبہ وطالبات اس امتحان میں شرکت کررہے ہیں۔جن کے لیے 2ہزار 567 امتحانی سنٹرز قائم کیے گئے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں 1300سے زائد امتحانی سنٹرز کاقیام عمل میں لایا گیا ہے۔صوبائی ناظم نے کہا کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان دنیا کا سب بڑا تعلیمی نیٹ ورک ہے۔ جس کا امتحانی نظام عصری اداروں کے لیے قابل تقلید ہے۔ وفاق المدارس کے زیرا نتظام ہونے والے امتحانات کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ملک بھر میں ایک ہی وقت میں پرچہ شروع اور بند ہوتا ہے۔20ہزارسے زائد مدارس وفاق المدارس کے ساتھ منسلک ہیں۔جس میں 29لاکھ 82ہزار693 طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں۔جبکہ خیبر پختونخوا میں سات ہزار سے زائد مدارس وفاق المدارس سے ملحق ہیں جس میں دس لاکھ اسی ہزار طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ1982؁ٗ؁ء سے جب وفاق المدارس نے شعبہ تحفیظ کے امتحان کا آغاز کیاتواس وقت سے لے کراب2022؁ء تک 13لاکھ63ہزار 488طلبہ وطالبات وفاق المدارس کے تحت رجسٹرڈ مدارس میں حفظ قرآن کا امتحان دیا۔جس میں 11لاکھ 33ہزار 670طلبہ جبکہ دولاکھ 29ہزار 818طالبات شامل ہیں۔جبکہ 1960سے لیکر اب 2022تک وفاق المدارس سے فارغ التحصیل طلبہ وطالبات کی تعدادایک لاکھ86ہزار 175ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک گیر سطح پر یہ امتحانی نظم انتہائی کم فیسوں کے ساتھ ایک ہی ماہ میں نتائج دینے والا ادارہ ہے۔ دینی مدارس میں کوئی طبقاتی نظام تعلیم نہیں۔کراچی سے چترال وگلگت بلتستان تک اور تربت ومکران سے لیکر کشمیر کی آخری سرحدوں تک طلبہ وطالبات ایک نصاب میں بنے ہوئے پرچے حل کریں گے۔ پورے صوبے میں مراکز کے معائنوں کا نظم قائم کردیا گیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -