صوبے میں فی ایکٹر گندم کی پیداوار بہتر بنانے کی ضرورت ہے: ادریس خٹک

    صوبے میں فی ایکٹر گندم کی پیداوار بہتر بنانے کی ضرورت ہے: ادریس خٹک

  

       پشاور(نیوزرپورٹر)خیبرپختونخوا ہاس اسلام آباد میں جاری پبلک اکانٹس کمیٹی اجلاس زیر صدارت قائم مقام چئیرمین و ممبر کمیٹی ایم پی اے ادریس خان خٹک محکمہ زراعت کے مختلف آڈٹ پیراز پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن کے پارلیمانی ممبران احمد کنڈی, جمشید مہمند, صلاح الدین خان اور ڈاکٹر آسیہ اسد نے شرکت کی۔ جبکہ دیگر شرکا میں سیکرٹری صوبائی اسمبلی کفایت اللہ خان آفریدی، صوبائی سیکرٹری زراعت اسرار خان، سیکشن افسر محکمہ زراعت عنایت اللہ خان سمیت محکمہ زراعت کے دیگر اعلی افسران، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے افسران و عملے, محکمہ قانون, خزانہ کے افسران نے خصوصی شرکت کی۔محکمہ زراعت کے دو دن تک جاری رہنے والے اجلاس میں کل 39 آڈٹ پیراز پر تفصیلی جائزہ لیا گیا جن میں 15 آڈٹ پیراز چھان بین کے بعد  حل کر دیئے گئے جبکہ پانچ آڈٹ پیراز کے کاغذات کی دوبارہ  چھان بین کے لیے محکمہ کے حوالے کر دیئے گئے۔ اجلاس میں ممبران کمیٹی کو بتایا گیا کہ محکمہ زراعت کے دو آڈٹ پیراز عدالتوں میں زیر التوا ہیں جبکہ ایک آڈٹ پیرا کی نیب میں انکوائری جاری ہے۔ پبلک اکانٹس کمیٹی کے چیئرمین نے چار آڈٹ پیراز پر ڈیپارٹمنٹل انکوائری کے احکامات جاری کرتے ہوئے تیس دن میں رپورٹ جمع کرانے کے احکامات بھی جاری کیے جبکہ باقی آڈٹ پیراز کیلئے ذیلی کمیٹی کے قیام کی منظوری دیتے ہوئے احکامات جاری کیے کہ ذیلی کمیٹی مالی بے ضابطگیوں کا تعین کر کے پبلک اکانٹس کمیٹی کو اگلے اجلاس میں اپنی رپورٹ جمع کروائے۔ اجلاس میں کئی موقعوں پر محکمانہ ناکامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جیسے کہ ریکارڈ کی دیکھ بھال,  مالیاتی بے ضابطگیوں سمیت دیگر شامل تھے جن پر پبلک اکانٹس کمیٹی کے ممبران نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ کسی قسم کی کوتاہی اور مالی بے ضابطگیاں قابل قبول نہیں. محکمہ ہذا ایسے تمام افراد کے خلاف سخت کاروائی کر کے اس کمیٹی کو اپنی سفارشات پیش کرے۔ کمیٹی نے اس موقع پر محکمہ زراعت کو فی ایکڑ گندم کی پیداوار میں بہتری لانے کے احکامات بھی جاری کیے اور کہا کہ دیگر صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی فی ایکڑ گندم کی پیداوار میں بہتری لانا وقت کی اشد ضرورت ہے. محکمہ زراعت خیبر پختونخوا کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ کو مکمل جدید تقاضوں پر فعال کر کے اس منصوبے پر ریسرچ کی جائے تاکہ گندم کی بڑھتی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -