جس نے میرا حال دیکھا، تیرا دیوانہ ہوا۔۔۔۔ "ہنزہ کے رات دن"۔۔۔(قسط نمبر 2)

جس نے میرا حال دیکھا، تیرا دیوانہ ہوا۔۔۔۔ "ہنزہ کے رات دن"۔۔۔(قسط نمبر 2)
جس نے میرا حال دیکھا، تیرا دیوانہ ہوا۔۔۔۔

  

 ہنزہ کی با تیں سن سن کر سمیع کے دل میں بھی سیا حت کا جوش اُ ٹھتا اور اور وہ مجھ سے پوچھتا :

”عمران بھا ئی آ خر ہنزہ میں ایسا کیا ہے؟ جا تے تو آ پ اور جگہو ں پر بھی ہیں لیکن ہر بار شما لی علا قوں کی سیاحت سے فارغ ہو کر ہنزہ پہنچ جا تے ہیں۔“ 

”ہنزہ میں ایک جا دو ہے، ایک مو ہنی ہے۔“میں اسے جواب دیتا۔

’ ’ آ پ تو بتا تے ہیں کہ پا کستان کے شمال میں بہت خوب صورت علا قے ہیں۔پھر ہنزہ میں کیا انو کھی بات ہے؟“

"ہنزہ کے رات دن"۔۔۔قسط اول  پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

 ”اس میں شک نہیں ہے کہ ہما رے شمال میں خو ب صورت ترین علا قے ہیں۔ کچھ نمایاں اور بہت سے پوشیدہ۔ جنہیں آوارہ روح والے سیّاح دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن جب آپ ایک بارکسی علا قے کو دیکھ لیتے ہیں تو کو ئی اور علاقہ آ پ کو آ واز دینے لگتا ہے۔۔۔آپ کا دامن کھینچنے لگتا ہے۔ اکثر لوگ اور علاقے اخبار کی طرح ہو تے ہیں،ایک بار پڑھا اور ردّی۔ ایک بار ملے ، ایک بار دیکھا اور بس ، بات ختم۔ لیکن ہنزہ کی بات اور ہے۔ ہنزہ دیکھنے کے بعد آپ وہاں رہ جا نا چا ہتے ہیں۔ ہنزہ ایک محبوب کی طرح ہے جس سے دوری آ پ کو اداس کرتی ہے، اور جس کا قرب آپ کو سرشار رکھتا ہے۔ جس طرح محبوب کا تعلق صرف صورت سے نہیں ہو تا، اسی طرح ہنزہ کا تعلق بھی اچھے مو سم سے یا بر فیلے پہا ڑوں سے یا محض منظروں سے نہیں ہے، بس لفظوں اور اظہار سے ماوراءکچھ اور ہے جو بتا نا مشکل ہے۔ہزار نکتہ دریں کاروبار ِ دلداریست۔“ (عشق کے اس کاروبار میں ہزار ہا باریک باتیں ہیں۔)

 حافظ کا مصرع سمیع کے سر سے تقریباً اتنی ہی اونچائی سے گزر گیا جتنی سطح ِ سمندر سے ہنزہ کی اونچائی ہے۔ 

اور اب ہم سب تھا کو ٹ میں دریا ئے سندھ کے کنا رے ”ابا سین ہو ٹل اینڈ ریسٹورینٹ“ میں پناہ گزین تھے اور بارش تھمنے کا انتظار کر رہے تھے۔ اور انتظار کر تے ہی جا رہے تھے اور بارش ہو تی ہی جا رہی تھی۔۔۔۔ ہوتی ہی جارہی تھی۔۔۔۔

ہم نے جب وادی ِ غربت میں قدم رکھا تھا :

راول پنڈی پیر ودھا ئی کا اڈّا غا لبا پا کستان کا سب سے مصروف اڈّا ہے۔ یہا ں پا کستان کے ہر حصے کو جانے والی گا ڑی مل جا تی ہے۔ اڈے کی فضا ہر وقت آتی جاتی گا ڑیو ں کے انجنوں کی گڑگڑاہٹ،ہارنز کی پیں پیں پاں پاں، طو یل برا مدے میں بجتے گیتوں کی تانوں، قوا لیوں اور مذہبی پیشواو¿ ں کے خطبات کے مقدس شور، ہو ٹلو ں کے دیگچوں اور چمچوں کی کھن کھناہٹ اور مسافروں کی بھاگ دوڑ سے جھن جھنا تی رہتی ہے۔ یہ ہماری دنیا کا چھوٹا سا ماڈل ہے۔لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ آنے والے بسیں بھر بھر کر کہاں سے آتے ہیں اور جانے والے بسیں بھر بھر کر کہاں چلے جاتے ہیں؟ کوئی پتا نہیں۔ اڈّے کی رونق کم نہیں ہوتی۔ یاں تو آتے ہیں یونہی لوگ چلے جاتے ہیں۔ سب مسافر ہیں۔ چلو چلی کا میلا، دنیا رین بسیرا۔

 پو رے پا کستان میں مون سون نے قیا مت مچا رکھی تھی،سو پنڈی بھی کو ئی استثنا نہیں تھا۔ پنجاب کے میدانی علاقوں میں وہی موسم تھا جو ساون میں ہو تا ہے یعنی بارش ہو تو سیلاب، کیچڑ ۔۔۔ سڑکوں، گلی محلوں میں پانی ہی پانی۔ اپنے مکینوں پر گرتی چھتیں اور دیواریں۔ ڈو بتی بستیاں، برباد لوگ ۔۔۔ اور بارش تھم جائے تو گھٹن اور حبس کا وہ قہر جس میں جوش لُو کی دعا مانگتا اور میرا دوست عاصم قریشی ساون کی تعریف میں گیت لکھنے والے شاعروں کے لیے کو ڑوں کی سزا تجویز کرتا ہے۔سانس لینے کے بجائے زور لگا کر نگلنا پڑتا ہے۔ حکومت اور حکومتی گماشتے اپنی تشہیر کے لیے گندے پانیوں میں چند قدم چل کر تصویریں بنواتے ہیں یا ہیلی کاپٹروں میں بیٹھ کر بے وقوف رعایا کی بربادی کا تما شا کر کے عوام اور اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیتے ہیں۔ کرنا کرانا کچھ نہیں۔ لوگ مرتے ہیں تو مریں۔ سیاست کے تن ِ مردہ میں جان انسانی لاشوں سے پڑتی ہے۔ایسے میں ،مَیں کندھے پر بیگ رکھ کر دوستوں کے ساتھ حاتم طائی کی طرح اپنے کوہ ِ ندا یعنی ہنزہ کے لیے نکل کھڑا ہواتھا۔

 بارش کے ڈو نگروں نے ہمیں فورا ً پیر ودھائی کے اڈے کے برا مدے میں پناہ لینے ہر مجبور کر دیا۔ نا ٹکو والوں کے دفتر کے باہر اعلان آویزاں تھا :”مو سمی حا لات کے پیش ِ نظر شما لی علاقہ جات کی سروس معطل ہے“۔

یہ اچھی علا مت نہیں تھی اور ہمیں سفر ملتوی کر دینا چاہیے تھا، لیکن آدمی کبھی کبھار حالات کے ساتھ بلاوجہ اور احمقانہ سی ضد لگا لیتا ہے جس کا نتیجہ عموماً اچھا نہیں نکلتا۔ میں نے اعظم کو دوسری کمپنیوں کے اڈّوں سے معلو مات لینے کے لیے بھیجا۔ تھو ڑی دیر بعد اس نے آ کر نوید دی کہ ”محفوظ ٹریول والوں کی ایک بس جا تو رہی ہے۔“

 چناں چہ ہم نے اسی کے ٹکٹ لے لیے۔ 

میں نے رک سیک بس کی چھت پر بندھوا تے ہو ئے ڈرا ئی ور سے کہا، ”سنا ہے لینڈ سلائڈ کی وجہ سے آگے را ستہ بند ہے،اسی لیے کو ئی اور گا ڑی نہیں جا رہا۔“

”فکر نہ کروصاب! “ اس نے بڑے اعتماد اورلاپروائی سے جواب دیا۔ ”جدھر سڑک نہیں ہے اس کی دوسری طرف ہما را دوسرا گاڑی کھڑا ہو گا۔ آ پ پیدل جا کر اس میں بیٹھے گا، وہ آ پ کوگلگت لے جائے گا۔“

ظا ہر ہے یہ ایک نہایت سادہ اور آ سان سا عمل تھا۔ شاہ راہ ِ ریشم پر ایک جگہ سڑک مو جود نہیں ہے۔ آ پ بس سے اتر کر چند فٹ کا اوبڑ کھا بڑ را ستہ پیدل طے کر تے ہیں۔ دوسری طرف ایک اور بس آ پ کی منتظر ہے۔ کنڈکٹر آ پ کا سامان اس کی چھت پر لا دتا ہے۔ آپ اندر بیٹھ کر اطمینان سے دو بارہ منزل کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ پتا نہیں نا ٹکو اور دوسری کمپنیو ں کو یہ سادہ سی ترکیب کیو ں نہیں سو جھی تھی؟؟ 

بارش کا سلسلہ جا ری تھا۔ ٹیکسلا گزرا تو دیکھ کر بہت خو شی ہو ئی۔ شہر کی سڑکوں کی حالت سے لگ رہا تھا کہ یہا ں سیا حت کے فروغ کے لیے بہت کام ہو رہا ہے۔ کچی، کیچڑ بھری، گندی سڑکیں۔۔۔ شاید سرکار اسے دوبارہ بد ھ عہد کا شہر بنا نے کی کوشش کر رہی تھی بل کہ اس سے بھی قدیم تا کہ سیاح آئیں تو خود کو اسی دور میں محسوس کریں ۔ مانسہرہ سے نکلنے کے بعد رات کی سیاہی پھیلنے لگی۔ ہم ایک کم آ باد سڑک پر سفر کر رہے تھے۔ زرد روشنی کے دو دائرے تا ریک سڑک کے محدود حصے کو منوّر کر تے ہو ئے بس کے آ گے آ گے بھاگ رہے تھے۔ بائیں ہا تھ ایک اندھا خلاءتھا۔ اور دائیں ہاتھ سڑک کے ساتھ ساتھ پہا ڑوں کی مسلسل دیوار تھی۔اچا نک ڈرائیور نے زور سے بریک لگائی۔یک دم جھٹکا لگنے سے کاہلی سے بیٹھے مسا فر چو نک کر سیدھے ہو گئے۔ 

سا منے گیلی سڑک پر ہیڈ لائٹس کی رو شنی کے احا طے میں زرد رنگ کے چند چھو ٹے چھوٹے کنکر پتھر پڑے تھے۔جن کی صفائی اور رنگ بتا تا تھا کہ تا زہ تازہ گرے ہیں۔ مجھے حیرت ہو ئی کہ ان کنکروں کے لیے رکنے کی کیا ضرورت تھی؟ ان کے لیے تو کو ئی مو ٹر سائکل والا بھی رکنے کی زحمت نہ کرتا چہ جائے کہ ایک بڑی بس۔لیکن ڈرا ئی ور بڑی سنجیدگی کے ساتھ گر دن لمبی کر کے سکرین کے پار اوپر پہا ڑوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میں ابھی صورت ِ حال سمجھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ اوپر سے چند مزید کنکر اور ڈھیلے گرے۔ ڈرا ئی ور نے پھر تی سے ریورس گیئر لگا یا اور تاریک سڑک پر بس کو اندھا دھند الٹا دوڑا نے لگا۔ سب مسا فر سہمے ہو ئے تھے۔ مجھے یہ ڈر بھی تھا کہ کہیں افرا تفری میں گاڑی سڑک کے با ئیں ہا تھ سیاہ خلاءمیں نہ جا گرے۔ کچھ پیچھے آ کر گاڑی پھر روکی گئی۔ ڈرا ئی ور پر یشان چہرے کے ساتھ ٹکٹکی لگائے پہاڑوں کی طرف دیکھ رہا تھا اور میں اس کی طرف ۔ تھوڑے سے پتھر اور مٹی دوبارہ اوپر سے گرے اور پھر ایک وقفہ آ گیا جو طویل ہو تا گیا۔ سب دھڑکتے دل کے ساتھ اوپر سے کسی بڑی چٹّان کی آ مد کا انتظار کر رہے تھے لیکن وقفہ طویل ہو تا گیا۔ آ خر کنڈ کٹر ٹا رچ لے کر نیچے اترا ، دو تین مسا فر بھی اس کے ساتھ نیچے اتر گئے۔ البتہ ہم کنفیوز تھے کہ زیادہ خطرہ اندر بیٹھنے میں ہے یا باہر نکلنے میں؟لہٰذا اپنی اپنی سیٹوں میں دبکے رہے۔ باہر جا نے والے کچھ دیر ٹا رچ کی روشنی میں سڑک کا جائزہ لیتے رہے پھر ٹارچ کا رخ اوپر کر کے ان چٹانوں کا معا ئنہ کیا گیا جہا ں سے تھو ڑی دیر پہلے پتھر آ ئے تھے۔ کچھ دیکھ بھال کے بعد کنڈ کٹر نے ڈرائی ور سے آ کر کہا ”ٹھیک ہے استاد، آ نے دو۔“ 

کیا ٹھیک تھا؟ یہ اسی کو پتہ تھا۔ باقی لوگ اندر آ بیٹھے اور کنڈ کٹر باہر دائیں ہاتھ چٹا نوں پر ٹا رچ کی رو شنی ڈالتا بس کے آ گے چلا۔ ہلکی بوندا باندی میں بس ایک پالتو کتے کی طرح اس کے پیچھے رینگنے لگی ۔ ڈرائی ور سڑک کے ساتھ ساتھ پہا ڑوں پر بھی مسلسل نظر رکھے ہو ئے تھا اور مسافر اس دوران پہاڑ، سڑک، کنڈ کٹر اور ڈرا ئی ور چاروں پر نظر رکھے ہو ئے تھے۔ 

ہما ری بس سندھ کے پا نیوں کے ساتھ بھو رے پہا ڑوں کے سا ئے تلے رینگ رہی تھی۔ یہ پہا ڑ جگہ جگہ سے تڑ خے ہو ئے تھے اور کئی روز سے جاری بارش نے انہیں اور بھی ناقابل ِ اعتبار بنا دیا تھا۔ کچھ منٹ میں ہم یہ ٹکڑا عبور کر گئے اور بس دوبارہ معمول کی رفتار سے دوڑنے لگی۔ اعصاب ڈھیلے پڑے تو نیند آ نکھو ں پر پر دے گرانے لگی۔ ( جاری ہے )

 "ہنزہ کے رات دن"۔۔۔قسط نمبر 3 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

(پبلشر: بک ہوم لاہور)

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -