یوکرین پر حملے کے بعد ایٹمی جنگ کا کوئی خطرہ ہے؟ امریکہ کا موقف آگیا

یوکرین پر حملے کے بعد ایٹمی جنگ کا کوئی خطرہ ہے؟ امریکہ کا موقف آگیا
یوکرین پر حملے کے بعد ایٹمی جنگ کا کوئی خطرہ ہے؟ امریکہ کا موقف آگیا

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) جب تک روسی فوج یوکرین کی سرحد پر جنگی سازوسامان کے ساتھ جمع ہو رہی تھی، امریکہ کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکہ یوکرین کے دفاع میں آگے آئے گا اور اب روس جب یوکرین پر حملہ کر چکا ہے تو امریکہ کی طرف سے ’کورا جواب‘ دے دیا گیا ہے۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق وائٹ ہاﺅس کی ترجمان جین ساکی نے کہا ہے کہ صدر جوبائیڈن کا جنگ کے لیے فوج یوکرین بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ 

جین ساکی کا کہنا تھا کہ ”امریکہ فوج یوکرین بھیجنے کی بجائے روس کے خلاف سخت معاشی اقدامات اٹھائے گا۔“ ایک صحافی نے جین ساکی سے سوال کیا کہ ”روسی صدر ولادی میر پیوٹن دھمکی دے چکے ہیں کہ جو ممالک یوکرین کا دفاع کر یں گے انہیں سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ صدر پیوٹن کی اس دھمکی کے بعد اس جنگ کے ایٹمی جنگ بننے کا کوئی امکان ہے؟“اس کے جواب میں جین ساکی نے کہا کہ ”ہمارے خیال میں فی الوقت اس حوالے سے کوئی بڑا خطرہ درپیش نہیں ہے۔“جین ساکی کا کہنا تھا کہ امریکہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور وزیرخارجہ سرگئی لاروف پر بھی پابندیاں عائد کرے گا تاکہ صدر پیوٹن کو براہ راست پیغام دیا جا سکے۔

واضح رہے کہ جس طرح امریکہ، یورپ اور نیٹو ممالک نے تمام تر دعوﺅں اور بڑھکوں کے بعد یوکرین کو اس مشکل کی گھڑی میں تنہاءچھوڑ دیا ہے، اس پر گزشتہ روز یوکرینی صدر ولادی میر زیلسنکی بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”کیا یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے؟ آج کوئی بھی ہمارے ساتھ کھڑا نہیں ہو رہا۔“

مزید :

بین الاقوامی -