یوکرین کے فوجی نے روس کی پیش قدمی روکنے کیلئے خود کو دھماکے سے اڑا لیا

 یوکرین کے فوجی نے روس کی پیش قدمی روکنے کیلئے خود کو دھماکے سے اڑا لیا
 یوکرین کے فوجی نے روس کی پیش قدمی روکنے کیلئے خود کو دھماکے سے اڑا لیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) یوکرین کے ایک فوجی نے روسی فوجیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ وائٹلے شیکن نامی یوکرین کا یہ فوجی خرسن میں ہینچیسک نامی پل پر تعینات تھا کہ دوسری طرف سے روسی فوجی وہاں پہنچ گئے اور قریب تھا کہ وہ پل عبور کرکے یوکرین میں مزید آگے بڑھ جاتے۔ ایسے میں وائٹلے نے ایک انتہائی جرا¿ت مندانہ فیصلہ کیا۔

وائٹلے اس وقت پل پر ایسے حصے میں موجود تھا کہ پل کو دھماکے سے اڑانے سے قبل خود محفوظ مقام تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اگر وہ خود محفوظ مقام تک پہنچنے کی کوشش کرتا تو پل کو اڑانے سے پہلے روسی فوجی پل عبور کر چکے ہوتے۔ چنانچہ اس نے وہیں کھڑے دھماکہ کر دیا جس سے پل ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ وائٹلے بھی جان سے گیا۔ 

رپورٹ کے مطابق وائٹلے کی جرا¿ت مندی کا یہ واقعہ یوکرینی فوج کے فیس بک پیج پر پوسٹ کیا گیا ہے۔ پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ وائٹلے کی بٹالین پیچھے موجود تھی۔ اس نے پیچھے موجود اپنے ساتھیوں کو ایک میسج بھیجا اور بتایا کہ ”میں پل کو دھماکے سے اڑانے جا رہا ہوں اور میرے پاس محفوظ مقام تک پہنچنے کا وقت بھی نہیں ہے۔“ یہ میسج موصول ہونے کے فوری بعد بٹالین کے لوگوں نے ایک دھماکے کی آواز سنی۔اور جب پل پر پہنچ تو پل ٹوٹا ہوا تھا اور وائٹلے کا کچھ اتا پتا نہ تھا۔فوج کی طرف سے اس ٹوٹے ہوئے پل کی تصویر بھی فیس بک پوسٹ میں شیئر کی گئی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -