"زہریلی اور پرتشدد شادی ختم کرنے  کا حق شریعت دیتی ہے" عامر لیاقت کے طلاق نہ ہونے کے دعووں پر طوبیٰ انور نے وضاحت کردی

"زہریلی اور پرتشدد شادی ختم کرنے  کا حق شریعت دیتی ہے" عامر لیاقت کے طلاق نہ ...
سورس: File

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکنِ قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کی سابق اہلیہ سیدہ طوبیٰ انور نے وضاحت کی ہے کہ وہ اپنے شوہر  سے باضابطہ طور پر قانونی طریقے سے طلاق لے چکی ہیں۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں طوبیٰ انور نے کہا کہ انہوں نے اپنے سابق شوہر کو طلاق دینے کیلئے عدالتی طریقہ کار اختیار کیا کیونکہ پاکستانی شہری کے طور پر یہ ان کا آئینی حق ہے۔ معزز عدالت نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قوانین کے تحت  طلاق کروائی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ جن بھی باتوں کا دعویٰ کیا جا رہا ہے یا میڈیا پر  کہی جا رہی ہیں  وہ حقائق کے منافی ہے جن کی قانون کی عدالت میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔  وہ علماء سے  اپیل کریں گی کہ وہ ایسی خواتین کیلئے آواز اٹھائیں جو شریعت اور آئین پاکستان کے تحت اپنا حق استعمال کرتی ہیں۔ 

طوبیٰ انور کا مزید کہنا تھا کہ اسلام خواتین کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر شادی چل نہیں رہی تو ایک زہریلی اور پرتشدد شادی کو  باوقار طور پرختم کردیا جائے ، یہ گناہ نہیں بلکہ حق ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل عامر لیاقت حسین بار بار یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے طوبیٰ کو طلاق نہیں دی۔  انہوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں بھی کہا ہے کہ ان کی شادی ختم نہیں ہوئی۔ کیونکہ انہوں نے طوبیٰ کو طلاق نہیں دی، انہوں نے خلع مانگی ہے اور خلع کے لیے دونوں فریقین کا رضامند ہونا ضروری ہے لیکن میں تو عدالت گیا ہی نہیں لہذا یہ خلع ہی کہلائے گی لیکن شرعی خلع نہیں ہوگی اور اگر طوبیٰ کہیں اور شادی کرتی ہیں تو وہ ناجائز شادی ہوجائے گی۔

مزید :

تفریح -علاقائی -سندھ -کراچی -