روس ، یوکرین جنگ پاکستان کیلئے تباہ کن لیکن کیسے؟

روس ، یوکرین جنگ پاکستان کیلئے تباہ کن لیکن کیسے؟
روس ، یوکرین جنگ پاکستان کیلئے تباہ کن لیکن کیسے؟
سورس: Wikimedia Commons

  

ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) روس اور یوکرین کی  جنگ مالیاتی اوراجناس کی منڈیوں کیلئےتباہ کن ثابت ہوئی ہے ، پاکستان پر بھی اس کے گہرے معاشی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ عالمی سطح پر اشیا مہنگی ہونے کی وجہ سے  پاکستان کے درآمدی بل میں بڑا اضافہ متوقع ہے۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق روس اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے جاپان سےلےکرامریکہ تک سٹاک مارکیٹس شدیدمندی کاشکار ہوئیں ، ایشیائی اوریورپی مارکیٹس دو سے نو فیصدتک گرگئیں۔ یہ جنگ چھڑنے کے بعد سے اب تک  چینی،گندم،خام تیل اور تانبے کی اشیا کی قیمتوں میں چھ فیصدتک ، سونےکی قیمت میں دو فیصداضافہ ہوا جب کہ  خام تیل کی قیمت سات سال کی بلندترین سطح پرپہنچ گئی۔

روس سعودی عرب کے بعد خام تیل کادوسرا جب کہ قدرتی گیس کاسب سےبڑابرآمدکنندہ ہے۔  روس نے 2021میں 110ارب ڈالرکاخام تیل،69ارب ڈالرکی تیل کی مصنوعات  اور  65 ارب ڈالرکی قدرتی گیس برآمدکی تھی۔ روس اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھیں ، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کومہنگائی کی صورت میں متاثرکرے گا  اور پاکستان کے  درآمدی بل میں اضافےکےباعث روپےکی قدرپردباؤبڑھ جائےگا، اس جنگ کی وجہ سے  پاکستان کےدرآمدی بل میں پانچ سے 20 ارب ڈالرکااضافہ متوقع ہے۔

عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں 10ڈالر فی بیرل اضافہ ہوتا ہے تو اس سے پاکستان کا درآمدی بل ماہانہ بنیادوں پر  15 کروڑ ڈالر  بڑھ جائے گا۔ روس اور یوکرین کی جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں اور پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 180 روپے فی لٹر تک جانے کا امکان ہے۔

مزید :

بزنس -