حقو ق نسواں 

حقو ق نسواں 
 حقو ق نسواں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تحریر : دیبا گلشن 

لاہور شہر کے مشہو ر با زار اچھرہ میں ایک خاتون کے ساتھ  بد تہدیبی کا واقع پیش آیا جس میں ایک خاتون کو  مردوں نے گھیر لیا اور ہرا ساں کیا ،واقعہ کی اب تک سامنے آنیوالی تفصیلات کے مطا بق کھانے پینے کے ایک پوائنٹ پر ایک خاتون پہنچی  جس نے عربی کیلیگرافی کے الفاظ  کیساتھ لباس پہنا ہوا تھا جس پر دکان میں موجود ایک شخص اس عورت کے قریب آیا اور اس سے استفسار  کیا کہ تم نے عربی کے الفاظ والا لباس کیوں پہنا ہوا ہے ؟خاتون کا جواب سننے کی بجائے مزید دو چار مردوں کو بھی بلا لایا اور آہستہ آہستہ اس دکان پر مردوں کا ایک بڑا ہجوم اکٹھا ہوتا چلا گیا جو کہ خواتین کے ساتھ بدتمیزی اور بد تہذیبی سے پیش آنے لگے، خاتون کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جانے لگا ۔

یہ ساری صورتحال دیکھ کر وہاں پر موجود ایک شخص نے پولیس کو اطلاع کردی، بعد ازاں پولیس  موقع پر پہنچی اور  خاتون افسر نے اندر جا کر مذکورہ خاتون سے بات چیت کی، اس کو دلاسہ دیا اور باہر آ کر وہاں جمع ہونیوالے مردوں کے مجمع  سے مخاطب ہو کر ان کو اصل صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ محض ایک عربی الفاظ کی کیلیگرافی ہے ، اس سوٹ کی وجہ سے بے حرمتی کا سوال پیدا نہیں ہوتا،  اس کے بعد وہ نوجوان خاتون پولیس افسر ہراساں کیے جانے والی خاتون کے چہرے پر کپڑا ڈال کر اس کو بحفاظت اپنے ساتھ گلیوں سے  پولیس تھانے لے گئی، ذرائع بتاتے ہیں کہ گلیوں میں گاڑی نہ جانے کی وجہ سے اس کو وہاں سے ہجوم سے چنگل سے جلد ازجلد پولیس افسر نےحاضردماغی سے کام لیتے ہوئے نکالنے کی کوشش کی اور اس مقصد میں وہ کامیاب بھی ہوگئی،  اس کے بعد اس کو اس کے گھر پہنچا دیا گیا ۔پولیس کی ایک کوشش یہ بھی تھی کہ کسی طرح کا کوئی احتجاج بھی نہ بڑھے اورنہ ہی کوئی سڑکیں بلاک ہوں کیونکہ چندکلومیٹر کی دوری پر پاکستان سپرلیگ کے میچ جاری تھے ۔ 

اس  کے بعد میڈیا پر بھی اور سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کی بازگشت سنائی دیتی رہی اور بعد میں کچھ مفتی صاحبان کی جانب سے عورت کے حق میں بات بھی کی گئی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  ابھی بھی  مذہب کے نام پر منافرت، مذہب کے نام پر خواتین کو یا اقلیتوں کو ہراساں کیا جانا کم نہیں ہو سکا ،پاکستان میں آج بھی خواتین کو صنفی امتیاز کا سامنا ہے ، اس صنفی امتیاز کا ان کو معاشرے میں تقریباً ہر جگہ  سامنا کرنا پڑتا ہے ،کوئی دفتری کام کی جگہ ہو یا پھر کوئی بس سٹاپ ہو،  سکول ہو یا کوئی کالج ہو، کسی نہ کسی حدتک خواتین آج بھی خود کو غیرمحفوظ تصور کرتی ہیں،  اگرچہ حکومت پاکستان کی جانب سے خواتین کو  ہراساں کرنے کا سپیشل ایکٹ بھی متعارف کروایا گیا ہے ۔

خاتون محتسب پنجاب کی جانب سے باقاعدہ طور پر دفاتر اور پبلک پلیس میں خواتین کو ہراساں کرنے کے لیے ایکٹ متعارف کروایا گیا ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے اس طرح کی شکایت پر فوری کاروائی کی جائے گی اور خواتین کو ہراساں  کرنا باقاعدہ ایک جرم قرارپایاہے لیکن ان سب اقدامات کے باوجودابھی تک ایسی کوئی قانون سازی سامنے نہیں لائی جا سکی جس سے خواتین کو مکمل طور پر باختیار اور مضبوط بنایا جا سکے ، ضرورت اب اس امر کی ہے کہ خواتین کو ایک محفوظ معاشرہ فراہم کیا جائے ، اب آگے دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز خواتین کے حقوق کے لیے کس لائن پر کام کرتی ہیں اور خواتین کو مضبوط اور با اختیار بنانے میں اپنا کردار کس حد تک ادا کرتی نظر آئیں گی ۔