ہے بہارِ باغِ دنیا چند روز، چند روز!

          ہے بہارِ باغِ دنیا چند روز، چند روز!
          ہے بہارِ باغِ دنیا چند روز، چند روز!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 کئی احباب کے پیغامات اور فون آتے ہیں جن میں میری ”سرزنش“ کی ہوتی ہے کہ میں اپنے گھر کے صحن سے باہر نکل کر گلیوں اور بازاروں کی بات کیوں کرتا ہوں، جب گھر میں سب کچھ موجود ہو تو باہر کا رخ کیوں کرتا ہوں اور قارئین کو وہ باتیں کیوں نہیں سمجھاتا جو ان کو ملک کے اندر کے حالات سے باخبر رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔

میں ان کی زجروتوبیخ پڑھتا،سنتا اور دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ جو شیشہ و پیمانہ پہلے ہی سراسر شرابِ دو آتشہ سے لبالب ہو اس میں اپنی مئے گلریز کو انڈیلیں تو وہ چھلک کر زمین پر جا گرے گی۔ ملک کے داخلی حالات و معاملات پر آج کل جتنا نقد و نظر سوشل میڈیا پر کیا جاتا ہے اول تو وہی صورتِ حال کی قومی تشنگی کو فرو کرنے کے لئے کافی سے بہت زیادہ ہے۔ رہی سہی کسر مین سٹریم میڈیا پوری کر دیتا ہے جو بظاہر سوشل میڈیا کا توڑ بنا ہوا ہے لیکن اس دنگل میں سوشل میڈیا کو ”رستمِ پاکستان“ کہیں تو بے جا نہ ہوگا۔

دوسری بات یہ ہے کہ آج کل کے ہمارے جیسے کالم نگار وہ گھاس پھونس ہیں جو دو سانڈوں کی لڑائی میں نہ چاہتے ہوئے بھی اکھڑ اور اُجڑ جاتی ہے لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ اکھاڑے سے دور رہا جائے۔ لیکن دور رہ کر بھی گھر کے آنگن میں لگی آگ سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔تاریخِ عالم پر نگاہ ڈالتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین نے بھول کر بھی کبھی کسی عالمی تاریخ کا شاذ ہی مطالعہ کیا ہوگا۔

جمہوری دور سے تو آمرانہ ادوار ہی ہزار مرتبہ نکوتر تھے۔ تمام بڑے بڑے شاہی خانوادوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ وہ آمر خود ظالم، قاتل، جفا جو اور کینہ پرور ضرور ہوں گے لیکن ان تمام منفی اخلاقیات کا جواز بھی ان کے ہاں ضرور موجود ہوگا۔ چنگیز خان کو دنیا کا سفاک ترین آمر کہا جاتا ہے لیکن وہ مرنے کے بعد کہاں دفن کیا گیا، اس کا سراغ آج تک نہیں ملا۔ اس موضوع پر بہت سے محققوں نے منگولیا کے طول و عرض میں جادہ پیمائیاں کی ہیں لیکن چنگیز کی جائے تدفین کا کہیں سراغ نہیں ملا۔ تاہم اس نے مرنے سے پہلے جو پند و نصائح مستقبل کے مورخین کو املا کروائی تھیں، ان کا احوال ”تورۂ چنگیز خانی“ کی صورت میں ملتا ہے۔ اقبال کا یہ مصرع کہ: ”پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے“ آج زبان زدِ عام ہے لیکن اس پاسبانی کا اولین اظہار چنگیز خان نے خود فراہم کر دیا تھا…… اس کی قبر آج تک بے نام و نشان ہے لیکن تورۂ چنگیز خان کا مسخ شدہ مسودہ بھی اس تلخ حقیقت کا شاہد ہے کہ:

ہے بہارِ باغِ دنیا چند روز، چند روز

دیکھ لو اس کا تماشا چند روز، چند روز

ہلاکو نے بھی بغداد کی اینٹ سے ایجنٹ بجا دی تھی لیکن قتلِ عام کا فرمان جاری کرنے سے پہلے بغداد کے علماء و فضلاء کو اکٹھا کیا تھا، وزرائے دفاع اور وزرائے خزانہ کو بھی بلوا کر کہا تھا کہ عروس البلاد بغداد کے محلات اور گلی کوچوں سے سیم و زر کا وہ ڈھیر جو میں نے ایک کھلے میدان میں اکٹھا کرنے کا حکم دیا ہے اس کو دیکھو۔ اور پھر اس کی طرف اشارہ کر کے بغدادی علماء و فضلاء، مورخین و مولفین اور فلاسفہ  و حکماء کے منہ کھلوا کر ان میں اس ڈھیر سے اشرفیاں اٹھا اٹھا کر ان کے منہ اور حلق میں ٹھونس دی تھیں اور کہا تھا کہ ان اشرفیوں کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کا واویلا کیوں نہیں مچایا تھااور اپنے خلفائے بغداد کو اس حقیقتِ ثابتہ کی طرف کیوں متوجہ نہیں کیا تھا کہ:

ہے بہارِ باغِ دنیا چند روز، چند روز

ہلاکو کی قبر کا نشان بھی آج شاید کہیں نہیں ملتا۔ میں تواریخِ عالم کے حوالے دے سکتا ہوں اور ان سنین (Years) کا حوالہ بھی دے سکتا کہ جب یہ سارے واقعات رونما ہوئے تھے۔ لیکن ”گوگل“ کے اس وائرل دور میں اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

البتہ اگر ضرورت ہے توہمارے آج کے داخلی حکمرانوں کو ہے۔ دنیا کے بدترین آمروں نے بھی اپنے ہونے والے جانشینوں کو اخلاقیات کا جو درس دیا تھا وہ بظاہر ناقابلِ یقین ہے لیکن اس حقیقت سے کسے انکار ہے کہ کوئی جنم جنم کا سگریٹ نوش (Chain Smoker) باپ کبھی اپنے بیٹے یا بیٹی کو یہ درس نہیں دے گا کہ سیگرٹ نوشی اچھی چیز ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہی تلقین کرے گا کہ:

من نکردم شما حذر بکنید

ہمارے بیشتر حکمرانوں نے اپنی آل اولاد کو اگر کسی مقصدِ نہائی (The last aim) کا درس دیا بھی ہے تو وہ اپنے دورِ حکمرانی ہی کا تسلسل ہے۔ یہ کبھی نہیں کہا کہ ”اخلاق“ نامی چڑیاکو بھی کبھی کبھار دیکھ لیا کرو کہ وہ اپنے بچوں کو اڑنا سکھاتی ہے تو اس کے ”آدابِ پرواز“ میں گرنا اور گر کر سنبھلنا بھی شامل ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی نژادِ نوکو یہ درس نہیں دیا جاتا کہ ان کو گرنا بھی ہے۔ کوئی بھی فرد، گروہ یا قوم ہمیشہ برسرِ اقتدار نہیں رہ سکتی۔

اجازت دیجئے کہ ایک بار پھر اس فلمی گیت کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرواؤں جس کو محمد رفیع نے گایا ہے، گیت میں روی کی موسیقی تھی اور کرشن چندر کے بول تھے۔ (اس بلیک ایند وائٹ فلم کا نام شاید ”بمبئی کا چور“تھا جو 1960ء کے عشرے کے اوائل میں ریلیز ہوئی تھی اور میں نے لاہور کے صنوبر سینما میں دیکھی تھی)اس کا ایک بند یہ ہے:

لاکھ دارا اور سکندر ہو گئے

آج بولو وہ کہاں سب کھو گئے

آئی ہچکی موت کی اور سو گئے

ہر کسی کا ہے بسیرا چند روز، چند روز

ہے بہارِ باغ دنیا چند روز، چند روز

اور فلموں کو جانے دیجئے۔ قرآن حکیم کا مطالعہ کیجئے۔ جگہ جگہ فرمایا گیا ہے کہ یہ دنیاچند روزہ ہے، اس کے بعد سب نے اللہ کی طرف لوٹ کے جانا ہے جہاں اس دنیا کے اعمال و افعال کا حساب لیا جائے گا۔ اقبال کے اس شعر کو بھی یاد کیجئے:

کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا

فریب، سود و زیاں، لاالہ الا للہ

افسوس کہ ہمارے آج کے حکمران نہ خود ان باتوں کی طرف توجہ دیتے ہیں اور نہ اپنے جانشینوں کو اس راہ پر لگاتے ہیں۔ اخلاقیات کی کوئی تصنیف نہ ان کی نظر سے گزرتی ہے اور نہ وہ یہ تکلف کرتے ہیں کہ اپنی اولاد کو یہ درس دیں کہ وہ بے شک سیاست کی دنیا کا مشاہدہ و مطالعہ کریں لیکن اخلاقیات کی دنیا کی طرف بھی کبھی کبھار جھانک لیں۔ ان حکمرانوں کے اردگرد بہت سے فضلاء، علماء، وزراء  اور مشیرانِ کرام ہوتے ہیں۔ ان کا فریضہ بھی ہے کہ  وہ اپنے حکمران کو یاد دلائیں کہ دنیا محض ’متاعِ غرور‘ ہے، اس کا سودا نہیں کرنا چاہیے اور سود و زیاں کے فریب میں نہیں آنا چاہیے۔

آج ہم اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بیرونِ ملک بھیجتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے اپنے ملک کے مدرسوں میں بھی ان کو بھیج کر اس دنیا کی کچھ خبر دینی چاہیے جس کی طرف سب نے لوٹ کر چلے جانا ہے۔ سکندر جیسا عظیم فرمانروا بھی اس جہانِ فانی سے خالی ہاتھ لوٹ گیا تھا۔ مدرسے کا مولوی ہرچند مغربی تعلیم و تعلم کی باریکیوں سے آگاہ نہیں ہوگا لیکن قرآنِ حکیم کا محض سادہ اردو ترجمہ ہی اگر اس کی زبان سے کسی خان زادے، شاہزادے، نواب زادے یا جاگیردار زادے کو سنوا یا پڑھا دیا جائے تو شاید اس کی عاقبت سنور جائے کہ اس کی عاقبت کی ڈور سے رعایا کی کروڑیں ڈوریں بندھی ہوتی ہیں۔

قارئینِ گرامی! یہی وجہ ہے کہ میں ملک کے داخلی سیاسی حالات پر تبصروں کی جگالی سے پرہیز کرتا ہوں۔ اس کے لئے دن رات ہمارے دوسرے بہن بھائی مصروف و مشغول رہتے ہیں۔ میں سوال کرتا ہوں کہ یہ حکمرانی جو آج ہمارے حکمرانوں کو ملتی ہے، اس کی ”آخرت“ کیا ہے؟ …… اس کی فکر بھی کرنی چاہیے۔ ہماری مرکزی اور صوبائی تمام کابیناؤں میں وزیر مذہبی امور بھی ہوتے ہیں۔ کیا کسی برسرِ اقتدار حکمران نے ان وزیروں کو کبھی یہ درخواست بھی کی ہے کہ وہ ان کی آل اولاد کی اخلاقی اور مذہبی تربیت کا بھی کوئی ”ابتدائی سا“ بندوبست کردیں؟……

میرا خیال ہے حکمرانی کا نشہ بڑا دوآتشہ ہوتا ہے۔ لیکن ہر نشے کی طرح اس کو اترنا بھی ہے۔ اس نے آخر آج نہیں تو کل اتر جانا ہے۔ عالمی تاریخ کا یہ ادنیٰ سا سبق اگر حکمرانوں کو پڑھا دیا جائے تو شاید رعایا کے دکھوں کا بھی کچھ نہ کچھ مداوا ہو سکے!

مزید :

رائے -کالم -